بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا ایک طلاق کے بعد عدت میں جسمانی تعلق قائم کرنے سے رجوع ہوجاتاہے


سوال

میں نے عدالت سے ایک طلاق رجعی کا طلاق نامہ بنوایا، جس میں لکھا ہو ا تھا کہ میں نے محمد یونس  کی بیٹی جو دو گواہوں کی موجودگی میں ایک ہی طلاق کا اعلان  کردیا،اور اس پر میں نے دستخط بھی کیا،لیکن ایک مہینہ بعد میں نے واپس رجوع کردیا تھا،اور جسمانی تعلق بھی قائم ہوگیا تھا اپنی اہلیہ کے ساتھ، لیکن میری اہلیہ میرے گھر نہیں آئی بلکہ اپنے والد کے گھر ہی رہی۔اب میں اپنے اہلیہ کو گھر لانا چاہتاہوں۔

تو سوال یہ ہے کہ کیا میرا رجوع ہوچکا ہے؟ اور میں اپنی اہلیہ کو اپنے گھر لا سکتا ہوں یا نہیں؟

جواب

صورت مسئولہ میں  اگرسائل نے نکاح کے بعد رخصتی ہونے کے بعد ایک طلاق رجعی پر مشتمل طلاق نامہ بنوا کر اس پر دستخط کر دیے تھے تو سائل کی بیوی پر ایک طلاق رجعی واقع ہو چکی تھی،پھر سائل نے دوران عدت رجوع کر لیا تھا اور جسمانی تعلق قائم کر لیا تھا اس لیے سائل کا اپنی بیوی کے ساتھ نکاح برقرار ہے،اسے اپنے گھر لا سکتا ہے،آئندہ کے لیے اس کے پاس صرف دو طلاق کا اختیار باقی ہے،یعنی اگر دو طلاقیں دے گا تو یہ دو طلاقیں پہلی طلاق کے ساتھ مل کر مجموعی طور پر تین طلاقیں واقع ہو جائیں گی اور عورت حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہو جائے گی۔

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"الرجعة إبقاء النكاح على ما كان ما دامت في العدة كذا في التبيين وهي على ضربين: سني وبدعي (فالسني) أن يراجعها بالقول ويشهد على رجعتها شاهدين ويعلمها بذلك فإذا راجعها بالقول نحو أن يقول لها: راجعتك أو راجعت امرأتي ولم يشهد على ذلك أو أشهد ولم يعلمها بذلك فهو بدعي مخالف للسنة والرجعة صحيحة وإن راجعها بالفعل مثل أن يطأها أو يقبلها بشهوة أو ينظر إلى فرجها بشهوة فإنه يصير مراجعا عندنا إلا أنه يكره له ذلك ويستحب أن يراجعها بعد ذلك بالإشهاد كذا في الجوهرة النيرة"

(کتاب الطلاق ، ج : 1 ، ص : 468 ، ط : دار الفکر بیروت)

فتاوی شامی میں ہے :

"(الرجعةبالفتح وتكسر يتعدى ولا يتعدى (هي استدامة الملك القائم)بلا عوض ما دامت (في العدة) أي عدة الدخول حقيقة)قال في الفتح: يقال رجع إلى أهله ورجعته إليهم: أي رددته"

(کتاب الطلاق ، ج : 3 ، ص : 397 ، ط : دارالفکربیروت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144710100836

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں