
دو آدمی مثلاً زید اور عمرو مل کرایک جگہ کاروبار کی نیت سےخریدلیتےہیں، جس میں کام کروانےکی ذمہ داری اورآدھی رقم زید کی ہوتی ہے، جبکہ عمرو صرف آدھی رقم لگاتاہے۔ اس کےبعداس جگہ کو تعمیرکیاجاتاہے، لیکن تعمیرکےبعد کچھ عناصراس پرقبضہ کرلیتےہیں۔بعد ازاں فریقین(قبضہ کرنےوالوں اورزید) کےدرمیان کچھ پیسوں میں معاملہ طےپاجاتاہے، اورباقاعدہ تحریری معاہده ہوجاتاہے۔ لیکن اس کےباوجود قبضہ کرنےوالافریق پیسےادانہیں کرتا، اورکوشش کےباوجود ان سےپیسےوصول نہیں ہوپاتے۔اس صورت میں زید اورعمرو کےدرمیان جو معاہدہ ہواتھا اس کےمطابق عمرو کو بھی اس کی اصل رقم میں سےنقصان کاسامناکرناپڑتاہے۔
1۔سوال یہ ہےکہ جب تک زیدکوپیسےنہ مل جائیں توکیاوہ اس وقت تک شرعی طور پرعمرو کو اس کی رقم واپس کرنےکاپابند ہےیانہیں؟
2۔پیسےنہ ملنےتک کیاعمرو کسی قسم کی زور زبردستی شرعی طورپرکرسکتاہےیانہیں؟
3۔ اگرقبضہ کرنےوالوں کی طرف سےپیسےوصول نہیں ہوتےاورنقصان ہوتووہ نقصان زید اورعمرو دونوں کواٹھاناپڑےگایاصرف زیدکو؟
صورتِ مسئولہ میں اگرایک شریک عقدِ شرکت ختم کرناچاہے، تواسےعقدِ شرکت ختم کرنےکی اجازت ہے، لیکن جب تک شرکت کی رقم وصول نہ ہو، سائل پراپنےذاتی پیسوں سےشریک کےحق کو اداکرناضروری نہیں ہے، اورنہ شریک سائل پرشرعاًکوئی زورزبردستی کرسکتاہے، البتہ شرکت کی رقم وصول ہونےکےلیےسائل اپنی پوری کوشش جاری رکھے، شرکت کی رقم میں سےجتنی رقم حاصل ہوتی رہے ، اسے حسب معاہدہ آپس میں تقسیم کرتے رہیں ۔
باقی اگرشرکت کےمعاملہ میں نقصان ہوتاہےتووہ نقصان ہر ایک کےاصل راس المال کےحساب سےہوگا، چونکہ صورتِ مسئولہ میں ہرایک نے آدھاآدھاسرمایہ لگایا تھا ، اس لیے نقصان کی صورت میں کل نقصان کاآدھاآدھاہرایک شریک کوبرداشت کرناہوگا۔
فتح القدیرمیں ہے:
" بخلاف ما إذا فسخ أحد الشريكين الشركة ومالها دراهم أو دنانير حيث يتوقف على علم الآخر؛ لأنه عزل قصدي؛ لأنه نوع حجر فيشترط علمه دفعا للضرر عنه، وتقييده بما إذا كان مال الشركة دراهم أو دنانير؛ لأنه لو كان عروضا فلا رواية في ذلك عن أصحابنا، وإنما الرواية في المضاربة وهي أن رب المال إذا نهى المضارب عن التصرف، فإن كان مال المضاربة دراهم أو دنانير صح نهيه غير أنه يصرف الدراهم بالدنانير إن كان رأس مال الشركة دنانير وعكسه فقط، وإن كان عروضا لم يصح فجعل الطحاوي الشركة كالمضاربة فقال لا تنفسخ، وبعض المشايخ قالوا: تنفسخ الشركة وإن كان المال عروضا وهو المختار..فإن أحد الشريكين لا يملك فسخ الشركة إلا برضا صاحبه اهـ. وهذا غلط، وقد صحح هو انفراد الشريك بالفسخ والمال عروض "
(کتاب الشركة، فصل فی الشركةالفاسدۃ، ج: 5، ص: 413، ط: رشیدیة )
بدائع الصنائع میں ہے:
" ويكون الربح بينهما على الشرط سواء شرطا العمل عليهما أو على أحدهما والوضيعة على قدر المالين متساويا ومتفاضلا؛ لأن الوضيعة اسم لجزء هالك من المال فيتقدر بقدر المال"
(فصل في بيان شرائط جواز أنواع الشركة، ج: 6، ص: 62، ط: ایچ ایم سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144711100680
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن