
ميں نے دوسری شادی کی تھی، میری دوسری بیوی نے کہا کہ پہلی بیوی کو چھوڑ دو، میں نے اس کو خوش کرنے کےلیے فون پر اپنی پہلی بیوی سے کہا میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، ایک مرتبہ یہ جملہ کہا دوسری مرتبہ کہنے سے پہلے بیوی نے فون بند کردیا، دوسری مرتبہ میں نے کہا بھی نہیں، یہ بات سترہ یا اٹھارہ اکتوبر کو ہوئی تھی۔
سوال یہ ہے کہ کیا اب ہم دونوں ساتھ رہ سکتے ہیں؟ ساتھ رہنے کی صورت میں دو بارہ نکاح ہوگا؟
صورتِ مسئولہ میں جب سائل نے فون پر اپنی بیوی سے صرف ایک دفعہ کہا کہ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، تو ایسی صورت میں صرف ایک طلاق واقع ہوچکی ہے، اس طلاق کے بعد عدت یعنی مکمل تین ماہواریاں(اگر حمل نہ ہو اگر حمل ہو تو بچے کی پیدائش تک) گزرنے سے پہلے تک سائل کو رجوع کرنے کا اختیار ہے، اگر سائل نےعدت گزرنے سے پہلے رجوع کرلیا تو نکاح برقرار رہے گا،دوبارہ نکاح کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
رجوع کرنے کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ شوہر اپنی بیوی کو شرعی گواہوں کی موجودگی میں زبان سے کہہ دے کہ میں نے رجوع کیا،اس سے رجوع ہوجائے گا۔
لیکن اگرسائل نے عدت گزرنے سے پہلے رجوع نہیں کیا تو عدت کی مدت پوری ہوتے ہی نکاح ختم ہو جائے گا پھر رجوع کرنا جائز نہیں ہوگا،تاہم عدت گزرنے کے بعد اگر دونوں ساتھ رہنا چاہیں تو دوبارہ نئے سرے سے دو گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر اور نئے ایجاب وقبول کے ساتھ نکاح کرنا ہو گا، اور دونوں صورتوں میں آئندہ کے لیے شوہر کے پاس صرف دو طلاقوں کا اختیار باقی رہ جائے گا۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"و هو كأنت طالق و مطلقة و طلقتك و تقع واحدة رجعية و إن نوى الأكثر أو الإبانة أو لم ينو شيئًا، كذا في الكنز".
(كتاب الطلاق، ج:1، ص:354، ط:مکتبہ رشيديه)
وفيه أيضًا:
"وهي على ضربين: سني وبدعي (فالسني) أن يراجعها بالقول ويشهد على رجعتها شاهدين ويعلمها بذلك فإذا راجعها بالقول نحو أن يقول لها: راجعتك أو راجعت امرأتي ولم يشهد على ذلك أو أشهد ولم يعلمها بذلك فهو بدعي مخالف للسنة والرجعة صحيحة وإن راجعها بالفعل مثل أن يطأها أو يقبلها بشهوة أو ينظر إلى فرجها بشهوة فإنه يصير مراجعا عندنا إلا أنه يكره له ذلك ويستحب أن يراجعها بعد ذلك بالإشهاد كذا في الجوهرة النيرة."
(كتاب الطلاق، الباب السادس في الرجعة وفيما تحل به المطلقة وما يتصل به ج:1، ص:468، ط:رشيدية)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144707102098
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن