
کیا احرام کی حالت سگریٹ پی سکتے ہیں؟
واضح رہے کہ حالت احرام میں سگریٹ پینے سے دم تو لازم نہیں ہوگا،البتہ سگریٹ نوشی کی جو کراہت ہے وہ بدستور باقی رہے گی؛کیوں کہ سگریٹ میں بو پائی جاتی ہے اور اس سے لوگوں کو تکلیف بھی ہوتی ہے، اس لیے احرام کے دوران جہاں تک ممکن ہو سگریٹ پینے سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے، لیکن اگر سگریٹ میں کوئی خوشبودار چیز ملائی گئی ہو تو اس صورت میں احرام کی حالت میں خوشبو دار سگریٹ پینے سے دم دینا لازم ہوگا۔ تا ہم بہر صورت سگریٹ پینے کے بعد مسجدِ حرام میں داخل ہونے سے پہلے پہلے اچھی طرح کلی کرلی جائے تاکہ منہ میں بُو باقی نہ رہے۔
ارشاد الساری میں ہے:
"لو أكل طيبا كثيرا وهو أي الأكل الكثير أن يلتصق أي يلتزق بأكثر فمه... يجب الدم... وإن كان... قليلا بأن لم يلتصق بأكثر فمه... فعليه الصدقة، أي عنده..."
(باب الجنايات وأنواعها، النوع الثاني: في الطيب، فصل: في أکل الطيب وشربه، ص: 445،444، ط: الإمدادية مكة المكرمة)
فتاوی شامی میں ہے:
"اعلم أن خلط الطيب بغيره على وجوه لأنه إما أن يخلط بطعام مطبوخ أو لا ففي الأول لا حكم للطيب سواء كان غالبا أم مغلوبا، وفي الثاني الحكم للغلبة إن غلب الطيب وجب الدم، وإن لم تظهر رائحته كما في الفتح، وإلا فلا شيء عليه غير أنه إذا وجدت معه الرائحة كره، وإن خلط بمشروب فالحكم فيه للطيب سواء غلب غيره أم لا غير أنه في غلبة الطيب يجب الدم، وفي غلبة الغير تجب الصدقة إلا أن يشرب مرارا فيجب الدم."
(کتاب الحج، باب الجنایات، ج: 2، ص: 547، ط: سعید)
فتاوی شامی میں ہے:
"فالذي ينبغي للإنسان إذا سئل عنه سواء كان ممن يتعاطاه أو لا كهذا العبد الضعيف وجميع من في بيته أن يقول هو مباح، لكن رائحته تستكرهها الطباع؛ فهو مكروه طبعا لا شرعا الخ... "
(كتاب الأشربة، ج: 6، ص: 459، ط: سعيد)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144704100647
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن