بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا عدالتی خلع کے بعد میاں بیوی بغیر نکاح کے ساتھ رہ سکتے ہیں؟


سوال

میرا سوال یہ کہ 2024ء کے اپریل کے مہینے میں، میں نے کورٹ کے ذریعے خلع کی درخواست دائر کی، میرے شوہر اس وقت بھی مجھے اپنے ساتھ رکھنا چاہتے تھے، لیکن میں نے عدالت سے خلع کی درخواست جاری رکھی۔ تین سنوائیوں کے بعد عدالت نے خلع کا آرڈر پاس کیا، میرے وکیل نے کہا کہ آپ کی عدت ابھی سے  شروع ہو گئی ہے،مجھے اس عدت کے بارے میں علم نہیں تھا کہ جب تک شوہر دستخط نہیں کرتا خلع واقع نہیں ہوتا، بہرحال جب عدت مکمل کی، تو یونین کونسل سے خلع سرٹیفکیٹ بنوایا جاتا ہے، تو جب میں وہ سرٹیفکیٹ بنوانے یونین کونسل گئی تو انہوں نے کہا اس طرح خلع نہیں ہوتا جب تک آپ کے شوہر ان پیپرز پر دستخط نہیں کردیتے، یونین کونسل والوں نے جب میرے شوہر سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ میں کوئی دستخط نہیں کروں گا، تو میرا وہ سرٹیفکیٹ نہیں بن سکا، پھر عدالت میں ہم دونوں کا جب سامنا ہوا تو میرے شوہر نے کہا کہ میں ابھی بھی آپ کو رکھنا چاہتا ہوں، اتنے عرصے میں مجھے بھی اپنی غلطیوں کا احساس ہو چکا تھا، اور اب میں واپس اپنے شوہر کے پاس جانا چاہتی ہوں ۔

میرا سوال یہ ہے کہ کیاعدالتی خلع سے  طلاق واقع ہو جاتی ہے؟ اور کیا مجھے دوبارہ اپنے شوہر سے نکاح کرنا ہوگا یا ہم ایسے بھی ساتھ رہ سکتے ہیں؟

برائے مہربانی اس بارے میں میری اصلاح فرما دیں اور شریعت اس بارے میں کیا حکم دیتی ہے؟

جواب

واضح رہے کہ خلع دیگرمالی معاملات کی طرح ایک معاملہ ہے، جس طرح مالی معاملات معتبر ہونے کے لیے عاقدین کی رضامندی شرعا ضروری ہوتی ہے، اسی طرح خلع معتبر ہونے کے لیےبھی میاں بیوی دونوں کی رضامندی شرعاً ضروری ہوتی ہے، کوئی ایک فریق راضی ہواوردوسرا راضی نہ ہو تو ایسا خلع شرعاً معتبر نہیں ہوتا۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگرواقعۃً سائلہ نے    شوہر  کی رضامندی کے بغیر عدالت سے یک طرفہ طور پر خلع لی تھی، اور عدالت سے خلع کی ڈگری جاری ہونے کے بعد بھی شوہر نے اسے تسلیم نہیں کیا تھا، اور نہ ہی زبانی طور پر کوئی طلاق دی تھی تو یہ خلع شرعاً معتبر نہیں ، اس صورت میں دونوں کا نکاح بدستور برقرار ہے؛ اس لیے  دونوں کو ساتھ رہنے کے لیے  تجدیدِ نکاح کی  بھی ضرورت نہیں ہے۔

 احکام القرآن للجصاص میں ہے:

"قال أصحابنا: ‌إنهما ‌لا ‌يجوز ‌خلعهما ‌إلا ‌برضى ‌الزوجين، فقال أصحابنا: ليس للحكمين أن يفرقا إلا برضى الزوجين; لأن الحاكم لا يملك ذلك فكيف يملكه الحكمان؟ وإنما الحكمان وكيلان لهما أحدهما وكيل المرأة والآخر وكيل الزوج في الخلع أو في التفريق بغير جعل إن كان الزوج قد جعل إليه ذلك."

(‌‌مطلب البيان من الله تعالى على وجهين، ج:2، ص224، ط:دار الكتب العلمية بيروت)

بدائع الصنائع  میں ہے:

"و أما ركنه فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلاتقع  الفرقة، و لايستحق العوض بدون القبول."

(کتاب الطلاق، فصل في حکم الخلع، ج:3، ص:145، ط:دار الكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144703100733

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں