
مشہور بدعات کے فتنے میں ملوث عوام الناس بارہ ربیع الاول مناتے ہیں، جس کی کوئی اصل ہمیں نہیں ملتی ، اب پوچھنا یہ ہے کہ ختم نبوت کے بارے میں 7ستمبر جس دن قادیانیوں کو کافر قرار دیا گیا تھا ۔ اور ہمارے قریبی علاقے میں ایک بنات مدرسہ جس میں ختم نبوت کا دن 7 ستمبر کا پروگرام کیا ، جس میں بچیوں سے ماتھے پر سفید کپڑا باندھ کر اس پر ختم نبوت لکھ کر اور اسکو سجا کر تیار کروانے کا اہتمام کروایا گیا۔اور پورے مدرسے کی صفائی کروائی گئی۔ اور ایک مولانا سے اس بارے میں میں نے سوال کیا کہ کیا اس میں 12 ربیع الاول کا دن جیسے منایا جاتا ہے ۔ تو کیا 7 ستمبر کا مشابہت تو ان سے نہیں ہو رہا ، تو انہوں نے جواب دیا کہ نہیں ہم ثواب سمجھ کر یا دن منانے کی نیت سے نہیں بلکہ یقین دہانی کے لئے یہ سب کرتے ہیں۔ تو اب ذہن میں ایک سوال چل رہا ہے کہ ثواب کی نیت نہ ہو تو پھر کیا نیت کرنی ہوگی۔ دوسرا سوال یہ کہ صحابہ یا خیرو القرون کے دور میں تو اس سے بھی سخت مقابلہ ہوتا تھا اور کافر چت ہو جاتے تھے، تو ہمیں تو ایسی کوئی یقین دہانی کی تاریخ نہیں ملتی ، اور 7 ستمبر کی یہ ہدایات دی ہوں کہ اس دن کو بطور یاد دہانی بذات خود مفتی محمود یا ہمارے وہ اکابرین جو اس کار خیر تحفظ شریعت محمدیہ میں انکی خدمات تھی،انہوں نے کوئی اس دن کے حوالے سے ہدایات دی ہوں۔
واضح رہے کہ شریعتِ مطہرہ میں دینی اعمال، شعائر اور ایام وہی معتبر ہیں جو قرآنِ کریم، سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم، عملِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور خیرالقرون سے ثابت ہوں۔ کسی عمل کا اچھا مقصد یا نیک نیت ہونا اپنی جگہ، لیکن صرف کسی اچھی نیت کی بنیاد پر کسی ایسے عمل کو دین کا حصہ نہیں بنایا جا سکتا جس کی اصل شریعت میں موجود نہ ہو۔
لہذا 7 ستمبر 1974ء کو قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا جانا ایک آئینی و قانونی فیصلہ تھا، جو بلاشبہ ختمِ نبوت کے تحفظ کی ایک عظیم جدوجہد کا نتیجہ ہے، اور اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے ،تاہم اس مقصد کے لیے کسی مخصوص تاریخ کو دینی عنوان دے کرسالانہ التزام کے ساتھ اور بچوں یا بچیوں کو علامتی شعار (مثلاً ماتھے پر پٹیاں باندھنا) کے ساتھ منانا شرعاً ثابت نہیں ہے، ایسے دن کو مذہبی عقیدت کے ساتھ منانا التزام مالایلزم (غیر لازم کو لازم سمجھنے کے مترادف)ہے جس سے اجتناب کرنا ضروری ہے ، تاہم اگر کسی کو کسی شخصیت کے ساتھ ان کے کسی اچھے کام کی وجہ سے اظہار محبت مقصود ہو ، تو ان کی عملی زندگی سامنے رکھ کر اسی پر عمل کرنا حقیقتاً اس کے ساتھ اظہار محبت کی علامت ہے ، البتہ بطور تبلیغ ویاد دہانی کے تحریک ختم نبوت میں جدوجہد کرنے والوں کا تذکرہ کرنے کے لیے مجالسِ وعظ منعقد کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے بشرط کہ اس کے لیے کسی دن اور وقت کا تعین نہ کیا جائے اور مذکورہ محافل تمام غیر شرعی مفاسد سے خالی بھی ہو۔
مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح میں ہے:
"عن عائشة رضي الله عنها قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ((من أحدث في أمرنا هذا ما ليس منه فهو رد)) متفق عليه".
قال القاضي: المعنى من أحدث في الإسلام رأيا لم يكن له من الكتاب والسنة سند ظاهر أو خفي ملفوظ أو مستنبط فهو مردود عليه، قيل: في وصف الأمر بهذا إشارة إلى أن أمر الإسلام كمل وانتهى وشاع وظهر ظهور المحسوس بحيث لا يخفى على كل ذي بصر وبصيرة، فمن حاول الزيادة فقد حاول أمرا غير مرضي لأنه من قصور فهمه رآه ناقصا وفي رواية لمسلم: (من عمل عملا) أي من أتى بشيء من الطاعات أو بشيء من الأعمال الدنيوية والأخروية سواء كان محدثا أو سابقا على الأمر ليس عليه أمرنا، أي: وكان من صفته أنه ليس عليه إذننا بل أتى به على حسب هواه فهو رد.، أي: مردود غير مقبول، فهذه الرواية أعم، وهذا الحديث عماد في التمسك بالعروة الوثقى، وأصل في الاعتصام بحبل الله الأعلى، ورد للمحدثات والبدع والهوى."
(کتاب الإیمان، باب الاعتصام بالکتاب والسنة، ج:1، ص 222، ط:دار الفكر، بيروت - لبنان)
فتح الباری صحیح البخاری میں ہے:
"قال ابن المنير فيه أن المندوبات قد تقلب مكروهات إذا رفعت عن رتبتها لأن التيامن مستحب في كل شيء أي من أمور العبادة لكن لما خشي بن مسعود أن يعتقدوا وجوبه أشار إلى كراهته و الله أعلم."
(قوله باب الانفتال والانصراف عن اليمين والشمال، ج:2، ص،238، ط:دارالمعرفة)
الاعتصام للشاطبی میں ہے:
"ومنها: (ای من البدع) التزام العبادات المعينة في أوقات معينة لم يوجد لها ذلك التعيين في الشريعة، كالتزام صيام يوم النصف من شعبان وقيام ليلته".
(الاعتصام للشاطبي (ص: 53) الباب الأول تعريف البدع وبيان معناها وما اشتق منه لفظا، ط: دار ابن عفان، السعودية)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144703101016
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن