بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 صفر 1448ھ 21 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنے کے جواز کی شرط


سوال

کس شخص کی نماز کرسی پر بیٹھ کر نہیں ہوتی؟ براہِ مہربانی قرآن و حدیث کی روشنی میں راہنمائی فرمائیں۔

اس سوال کا پسِ منظر یہ ہے کہ ایک صاحب لوگوں کو کہتے ہیں کہ آج کل مساجد میں کرسیوں پر بیٹھ کر نماز پڑھنے کا جو رواج عام ہوگیا ہے اور لوگ معمولی معمولی عذر کی بنا پر کرسی استعمال کرنے لگے ہیں، اول تو مساجد میں بلا ضرورت  بڑی تعداد میں کرسیاں لانا/رکھنا مسجد کے آداب اور تواضع الی اللہ کی سنگین خلاف ورزی ہے، نیز کرسیوں کو مساجد میں لانے اور مستقل رکھنے سے اغیار (عیسائیوں وغیرہ) کی عبادت گاہوں سے مشابہت پائی جانے لگی ہے، دوم یہ کہ دورِ نبوی ﷺ سمیت پوری اسلامی تاریخ میں مساجد میں بڑی تعداد میں کرسیاں لانے/مستقل رکھنے کا ثبوت نہیں ملتا۔ سوم یہ کہ جتنے لوگ عذر کے بہانے کرسی استعمال کرتے ہیں ان میں سے کسی کے پاس مستند، ایمان دار معالج کا کوئی سرٹیفیکیٹ نہی ہوتا اور نہ ہی کوئی فتویٰ کہ جس میں ان کو کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنا تجویز کیا گیا ہو، بلکہ ایسے لوگ بھلے چنگے دوڑتے آتے ہیں اور مسجد میں کرسی پر بیٹھ جاتے ہیں، ایسے لوگوں کی نماز  ہوتی ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ فرض نماز میں قیام کرنا (یعنی کھڑے ہوکر پڑھنا) فرض ہے، فرض نماز کو شرعی عذر کے بغیر بیٹھ کر پڑھنے سے نماز ادا نہیں ہوتی ہے، البتہ اگر کسی شخص کا کوئی ایسا شرعی عذر ہو جس کی وجہ سے قیام کی فرضیت ساقط ہوجاتی ہے (مثلاً کوئی شخص کسی عذر کی وجہ سے کھڑے ہوکر نماز پڑھنے پر یا زمین پر ماتھا ٹیک کر سجدہ کرنے پر قادر ہی نہ ہو یا قیام و سجدہ کرنے میں، یا سجدہ کرکے بیٹھنے اور اٹھنے میں  سخت تکلیف ہوتی ہو) تو اس کے لیے بیٹھ کر اشارے سے نماز پڑھنا جائز ہے، خواہ زمین پر بیٹھ کر پڑھے یا کرسی پر بیٹھ کر پڑھے، لیکن عام حالات میں زمین پر بیٹھ کر نماز پڑھنا کرسی پر بیٹھ کر پڑھنے سے زیادہ بہتر و افضل ہے، لیکن جس شخص کے لیے زمین پر بیٹھنا تکلیف کا باعث ہو اور اسے ڈاکٹر/طبیب نے زمین پر بیٹھنے سے منع کیا ہو تو اس کے لیے بلا کراہت کرسی پر بیٹھ کر اشارے سے رکوع و سجدہ کر کے نماز پڑھنا جائز ہے۔ البتہ جو شخص زمین پر بیٹھ کر سجدہ کرنے پر قادر ہو اس کے لیے کرسی پر بیٹھ کر اشارے سے رکوع و سجدہ کر کے نماز پڑھنا جائز نہیں ہے۔

لہٰذا ہر شخص کو چاہیے کہ کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنے سے پہلے کسی مفتی صاحب کو اپنا عذر بتاکر شرعی حکم معلوم کرلیں کہ اس عذر کے ساتھ کرسی یا زمین پر بیٹھ کر نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں، شرعی حکم معلوم کیے بغیر خود سے قیام چھوڑ کر کرسی پر نماز پڑھنے کی صورت میں اس بات کا اندیشہ رہے گا کہ شرعی حکم کے مطابق اس کا عذر شرعا قیام کے ساقط ہونے کے لیے معتبر نہ ہو اور ایسی صورت میں کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنے کی صورت میں اس کی نماز ادا نہیں ہوگی۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(بركوع وسجود وإن قدر على بعض القيام) ولو متكئا على عصا أو حائط (قام) لزوما بقدر ما يقدر ولو قدر آية أو تكبيرة على المذهب لأن البعض معتبر بالكل (وإن تعذرا) ليس تعذرهما شرطا بل تعذر السجود كاف (لا القيام أومأ) بالهمز (قاعدا) وهو أفضل من الإيماء قائما لقربه من الأرض (ويجعل سجوده أخفض من ركوعه) لزوما (ولا يرفع إلى وجهه شيئا يسجد عليه) فإنه يكره تحريما (فإن فعل) بالبناء للمجهول ذكره العيني (وهو يخفض برأسه لسجوده أكثر من ركوعه صح) على أنه إيماء لا سجود إلا أن يجد قوة الأرض (وإلا) يخفض (لا) يصح؛ لعدم الإيماء.

(قوله :بل تعذر السجود كاف) نقله في البحر عن البدائع وغيرها. وفي الذخيرة: رجل بحلقه خراج إن سجد سال وهو قادر على الركوع والقيام والقراءة يصلي قاعدا يومئ؛ ولو صلى قائما بركوع وقعد وأومأ بالسجود أجزأه، والأول أفضل لأن القيام والركوع لم يشرعا قربة بنفسهما، بل ليكونا وسيلتين إلى السجود. اهـ. قال في البحر: ولم أر ما إذا تعذر الركوع دون السجود غير واقع اهـ أي لأنه متى عجز عن الركوع عجز عن السجود نهر. قال ح: أقول على فرض تصوره ينبغي أن لا يسقط؛ لأن الركوع وسيلة إليه ولايسقط المقصود عند تعذر الوسيلة، كما لم يسقط الركوع والسجود عند تعذر القيام ... (قوله: أومأ قاعداً)؛ لأن ركنية القيام للتوصل إلى السجود فلايجب دونه ... (قوله: لقربه من الأرض) أي فيكون أشبه بالسجود، منح ."

(‌‌كتاب الصلاة،‌‌باب صلاة المريض، ص:2، ص:97-98، ط: سعید)

فتاوی تاتارخانیۃ میں ہے:

"فإن كان يقدر علي القيام ولايقدر علي السجود أومي إيماء وهو قاعد ،كذا ذكره الشيخ الأئمة الحلواني والسرخسي ، وذكر الشيخ المعروف بخواهر زاده  والشيخ الصفار أنه بالخيار إن شاء صلي قائما بإيماء وإن شاء قاعدا بإيماء وهو الأفضل عندنا."

(كتاب الصلاة،الفصل الحادي والثلاثون في صلاة المريض ،670/2،ط: مكتبة زكريا بديوبند،الهند)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144712101469

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں