بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

27 ذو الحجة 1447ھ 13 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

قربانی واجب ہونے کا نصاب


سوال

 میں نے پچھلے سال کچھ رقم بطور قرض لی تھی مگر اس کے بعد حالات اس طرح ہوئے کہ میں اب تک یہ قرضہ نہیں اتار سکی ،میرا گھر میرا شوہر کے خرچ پر چلتا ہے، اور وراثت میں جو دکان ملی ہے اس کی آمدنی سے اپنی زکوٰۃ بھی نکالتی ہوں، اور اپنے اخراجات پورے کرتی ہوں، اب  کیا میں قربانی کروں یا نہیں؟ جبکہ شوہر اپنی اور بچوں کی نیت سے قربانی کرتے ہیں۔

جواب

واضح رہے کہ قربانی ہر اُس عاقل ، بالغ ، مقیم، مسلمان، مرد اور عورت پر واجب ہے جو نصاب کا مالک ہے ، یا اس کی ملکیت میں ضرورت سے زائد اتنا سامان ہے، جس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہے، یعنی ساڑھے سات تولہ سونا (87.4875گرام ) یا ساڑھے باون تولہ چاندی (612.4125گرام ) یا اس کی قیمت (آج14/ 5/ 2026 کے نصاب سونا کےحساب سے تقریبا35,92,500  اور چاند ی کے حساب  سےتقریبا4,63,000ہیں)،کے برابر رقم ہو ، یا رہائش کے مکان سے زائد مکانات یا جائیدادیں وغیرہ ہوں، یا ضرورت سے زائد گھریلو سامان ہو ، جس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو، یا مالِ تجارت، شیئرز وغیرہ ہوں تو اس پر ایک حصہ قربانی کرنا لازم ہے ۔ (تجارتی سامان خواہ کوئی بھی چیز ہو، اگر ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہے تو اس کے مالک پر بھی قربانی واجب ہوگی ۔)

نیز قربانی واجب ہونے کے لیے نصاب کے مال ، رقم ، یا ضرورت سے زائد سامان پر سال گزرنا شرط نہیں ہے، اور تجارتی ہونا بھی شرط نہیں، ذوالحجہ کی بارہویں تاریخ کے سورج غروب ہونے سے پہلے پہلے مالک ہوجائے تو اس پر قربانی واجب ہے، چنانچہ اگر قربانی کے تین دنوں میں سے آخری دن (۱۲ذی الحجہ) کو بھی کسی صورت سے نصاب کے برابر مال یا ضرورت سے زائد سامان کا مالک ہوجائے تب بھی اس پر قربانی واجب ہے ۔ 

بنا بریں جس کے پاس رہائشی مکان کے علاوہ زائد مکانات موجود ہیں ، ضروری مکان کے لیے پلاٹ کے علاوہ دیگر پلاٹ ہیں ، ضروری سواری کے علاوہ دوسری گاڑیاں ہیں، خواہ یہ سب تجارت کے لیے ہو ں یا نہ ہوں ، بہر حال ایسا شخص قربانی کے حق میں صاحبِ نصاب ہے ، اور اس پر قربانی کرنا شرعاً واجب ہے ۔ 

نیزواضح رہے کہ ایسا شخص گھر میں ایک ہو یا ایک سے زائد ، درج بالا شرائط کی موجودگی کی وجہ سے اگر ایک گھر میں متعدد صاحبِ نصاب لوگ پائے جاتے ہوں تو سب پر علیحدہ علیحدہ قربانی کرنا واجب ہے ، اور ایسی صورت میں از روئے شرع ایک ہی قربانی سارے گھر والوں کی طرف سے کافی نہیں ہوگی،اور صورت مسئولہ میں جب سائلہ صاحب نصاب ہونے کی بناءپرزکوۃ ادا کرتی ہے تب اس پر قربانی بھی  صاحب نصاب ہونے کی بناءپرواجب ہوگی۔

فتاویٰ ہندیہ میں ہے : 

’’ولا یشترط أن یکون غنیا في جمیع الوقت حتی لوکان فقیرا في أول الوقت ثم أیسر في آخرہ تجب علیہ۔‘‘

(کتاب الاضحیة،ج:۵،ص:۲۹۲،ط:المطبعة الکبری الامیریة)

فتاوی شامی میں ہے: 

''وشرائطها: الإسلام والإقامة واليسار الذي يتعلق به) وجوب (صدقة الفطر) كما مر (لا الذكورة فتجب على الأنثى) خانية۔۔۔«(قوله واليسار إلخ) بأن ملك مائتي درهم أو عرضا يساويها غير مسكنه وثياب اللبس أو متاع يحتاجه إلى أن يذبح الأضحية ولو له عقار يستغله فقيل تلزم لو قيمته نصابا، وقيل لو يدخل منه قوت سنة تلزم، وقيل قوت شهر، فمتى فضل نصاب تلزمه. ولو العقار وقفا، فإن وجب له في أيامها نصاب تلزم، وصاحب الثياب الأربعة لو ساوى الرابع نصابا غنى وثلاثة فلا، لأن أحدها للبذلة والآخر للمهنة والثالث للجمع والوفد والأعياد، والمرأة موسرة بالمعجل لو الزوج مليا وبالمؤجل لا، وبدار تسكنها مع الزوج إن قدر على الإسكان.''

(کتاب الاضحیة،ج:6،ص:312،ط:سعید)

فتاوی عالمگیریہ میں ہے:

''الباب الثامن في صدقة الفطر۔۔۔وهي واجبة على الحر المسلم المالك لمقدار النصاب فاضلا عن حوائجه الأصلية كذا في الاختيار شرح المختار، ولا يعتبر فيه وصف النماء ويتعلق بهذا النصاب وجوب الأضحية''

(کتاب الزکاۃ ،ج:1،ص:312،ط،المطبعة الکبری الامیریة)

کنز الدقائق میں ہے:

''باب زكاة المال۔۔۔یجب في مائتي درهمٍ وعشرين دينارًا ربع العشر''

(کتاب الزکاۃ،ص:209،ط:دار البشائرالاسلامیة)

وفیہ ایضا:

''كتاب الأضحيّة۔۔۔''تجب على حرٍّ مسلمٍ مقيمٍ موسرٍ عن نفسه لا عن طفله، شاةٌ أو سبع بدنةٍ يوم النّحر إلى آخر أيّامه''

(کتاب الزکاۃ،ص:603،ط:دار البشائر الاسلامیة)

حاشية ابن عابدين میں ہے:

''(نصاب الذهب عشرون مثقالا والفضة مائتا درهم كل عشرة) دراهم (وزن سبعة مثاقيل) ۔۔۔

(وقيمة العرض) للتجارة (تضم إلى الثمنين) لأن الكل للتجارة وضعًا و جعلا (و) يضم (الذهب إلى الفضة) وعكسه بجامع الثمنية (قيمة) وقالا: بالإجزاء."

(کتاب الزکاۃ ،باب زکاۃ المال،ج:2،ص: 295،ط:سعید)

فقط واللہ تعالی اعلم


فتویٰ نمبر : 144711101864

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں