
ایک گھر میں تین بھائی شریک ہیں، تینوں نے شادیاں کی ہوئی ہیں اور ان کے گھر کا میٹر بھی ایک ہے، لیکن تینوں کنڈا لگاتے ہیں، اب اگر ان کے بھتیجوں میں سے کوئی اپنے والدین یا اپنے چچا سے یہ کہتا ہے کہ یہ کنڈا حرام ہے لیکن اس کی بات نہیں مانی جاتی، اب آیا اس بچے کے لیے اس گھر کی بجلی اس طرح پانی وغیرہ استعمال کرنا حلال ہوگا یا حرام؟
صورت مسئولہ میں گھر کے تمام افراد کے لیےکنڈے کی بجلی (چوری کی بجلی) کا استعمال حرام ہے، اس سے اجتناب کرنا لازم ہے، ناجائز بجلی لگوانے والوں کی اولاد میں سے جس نے اپنے بڑوں کو ان کی غلطی کا احساس دلایا انہوں نے درست کیا اور یہ حقیقتا خیر خواہی اور ہمدردی ہے، اس نصیحت کی قدر کرنی چاہیے تھی اور کنڈا ختم کر دینا چاہیے تھا، باقی اگر وہ اس سے باز نہیں آتے تو پھر نصیحت کرنے والے کے پاس اگر جائز متبادل انتظام ہو تو وہ کنڈا کی بجلی استعمال نہ کرے اور اگر متبادل جائز راستہ نہیں ہے اور اپنے والد کی کفالت میں رہنا ضروری ہے تو وہ بیٹا شرعا معذور ہے بقدر ضرورت اس کے استعمال کرنے سےگناہ گار نہ ہوگا۔
درر الحکام شرح مجلۃ الأحکام میں ہے:
"لا يجوز لأحد أن يتصرف في ملك الغير بلا إذنه هذه المادة مأخوذة من المسألة الفقهية (لا يجوز لأحد التصرف في مال غيره بلا إذنه ولا ولايته) الواردة في الدر المختار. فعليه إذا أراد شخص أن يبني بناء محاذيا لحائط بناء إنسان فليس له أن يستعمل حائط ذلك الشخص بدون إذنه حتى ولو أذنه صاحب الحائط فله بعدئذ حق الرجوع عن إذنه."
(المقالة الثانیة في بيان قواعد الكلية الفقهية،المادة:96، ج:1، ص:96، ط:دار الجيل)
وفيه ايضاّ:
"لا يجوز لأحد أن يأخذ مال أحد بلا سبب شرعي هذه القاعدة مأخوذة من المجامع وقد ورد في الحديث الشريف «لا يحل لأحد أن يأخذ متاع أخيه لاعبا ولا جادا فإن أخذه فليرده."
(المقالة الثانیة في بيان قواعد الكلية الفقهية،المادة:97، ج:1، ص:98، ط:دار الجيل)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"وأما شرائط النفاذ فنوعان أحدهما الملك أو الولاية والثاني أن لا يكون في المبيع حق لغير البائع فإن كان لا ينفذ كالمرهون والمستأجر كذا في البدائع."
(کتاب البیوع، الباب الأول فی تعریف البیع و رکنہ الخ، ج:3، ص:3، ط:دار الفکر بیروت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144711101518
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن