بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کلی اختیار کے ساتھ صدقہ نافلہ ملنے والی رقم سے مدرسہ والوں کا طلباء کو پکنک پر لے جانے کا حکم


سوال

مدرسہ میں ”صدقات نافلہ“ کی مد میں جو رقم آتی ہے ، کیا اُس رقم سے سال میں دو ، تین مرتبہ مدرسہ کے طلباء کو کسی جائز تفریحی مقام پر لے کرجانا اور کھانے پینے سواری وغیرہ کے اخراجات کرنا جائز ہے ؟ اِسی طرح مدرسہ کے اساتذہ کی دعوت ”صدقاتِ نافلہ“ کی مد میں دی گئی رقم سے کرنا جائز ہے ؟ نوٹ :یہاں یہ بھی وضاحت پیش خدمت ہے کہ جو حضرات ”صدقات نافلہ“ کی مد میں رقم دیتے ہیں وہ اِختیارِ کلی کے ساتھ دیتے ہیں ، کسی مد یا مدرسہ یا طلباء کی قید نہیں لگاتے۔ دوسرا اسکول وغیرہ میں بھی سال میں ایک دو بار کسی تفریحی مقام بچوں کو لے جایا جاتا ہے ، تو ہماری نیت یہ ہوتی ہے کہ ہمارے طلباء سال بھر محنت کرتے ہیں تو اِن کو بھی ایک دو دفعہ کسی تفریحی مقام پر لے جایا جائے ، لیکن ! اب چونکہ تمام طلباء صاحب حیثیت نہیں ہوتے تو بجائے چندہ کی صورت اِختیار کرنے کے ”صدقات نافلہ“ کی مد میں خرچ کیا جاتا ہے ۔ منشاء سوال یہ ہے کہ: مذکورہ بالا دونوں صورتیں” صدقاتِ نافلہ“ کا مصرف بن سکتی ہیں یا نہیں ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں جب مدرسہ والوں کو صدقات نافلہ کی رقم کلی اختیارات کے ساتھ دے دی گئی ہے، تو اس رقم سے طلباء کو تفریحی مقامات پر لے جانا  یا اساتذہ کی دعوت وغیرہ کرنے کی گنجائش ہے، کیوں کہ یہ تفریح   نشاط پیدا کرنے کا ذریعہ ہے جو علم کے حصول میں معاون ہے تاہم اس میں شرعی حدود کی پابندی اور اسراف سے اجتناب ضروری ہے ۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"وأما صدقة التطوع فيجوز صرفها إلى الغني؛ لأنها تجري مجرى الهبة،  ۔۔۔۔ وأما صدقة الوقف فيجوز صرفها إلى الأغنياء إن سماهم الواقف في الوقف ذكره الكرخي في مختصره وإن لم يسمهم لا يجوز؛ لأنها صدقة واجبة."

(كتاب الزكاة، فصل: شرائط ركن الزكاة، ج:2، ص:47، ط:سعيد)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144705101244

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں