
ہمارے ایک عزیز کے شرعی ورثا موجود ہیں، لیکن اُس نے اپنی تمام جمع پونجی کی وصیت اپنے ایک باہر ملک میں مقیم دوست کے لیے کی ہے،اب وہ شخص فوت ہوچکا ہے، معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا اس کا یہ عمل درست ہے؟ اور کیا اب اُس کی ساری جمع پونجی اُس کے مذکورہ دوست کو ملے گی، اور اُس کے شرعی ورثا ،بیوہ، والدہ،اور بچے سب حیات ہیں؟
صورتِ مسئولہ میں مذکورہ شخص کے لیے اپنے تمام مال کی وصیت غیر وارث یعنی اپنے دوست کے لیے کرنا شرعاً جائز نہیں تھا، یہ وصیت اُس کےحق میں ایک تہائی مال میں نافذ ہوگی، لہٰذا مذکورہ وصیت کی وجہ سے ایک تہائی مال مرحوم کی وصیت کے مطابق اُس کے دوست کو ملے گا، جب کہ ایک تہائی سے زیادہ کے حق میں یہ وصیت مرحوم کے شرعی ورثاءکی اجازت پر موقوف ہوگی، اگر مرحوم کے تمام ورثاء عاقل بالغ ہوں اور وہ اپنی خوشی سے اس وصیت کی اجازت دے دیتے ہیں تو ایک تہائی سے زیادہ کے حق میں بھی وصیت نافذ ہوجائے گی، اور اگر ورثاء اجازت نہ دیں تو پھر ایک تہائی سے زیادہ میں یہ وصیت باطل ہوجائے گی اور ایک تہائی مال مرحوم کی وصیت کے مطابق اُس کے دوست کو ملے گا اور باقی دو تہائی مرحوم کے ورثاء میں اُن کے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہوگا۔
فتاوٰی ہندیہ میں ہے:
"ثم تصح الوصية لأجنبي من غير إجازة الورثة، كذا في التبيين ولا تجوز بما زاد على الثلث إلا أن يجيزه الورثة بعد موته وهم كبار ولا معتبر بإجازتهم في حال حياته، كذا في الهداية."
(كتاب الوصايا، الباب الأول في تفسيرها وشرط جوازها وحكمها ومن تجوز له الوصية ومن لا تجوز وما يكون رجوعا عنها، 90/6، ط: رشيدية)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144711101470
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن