
عام طور پر آج کل نوجوان ایسی قمیض پہنتے ہیں جس کی آستینیں اتنی چھوٹی ہوتی ہیں کہ کہنیوں سے اوپر ہوتی ہیں۔ اسے پہن کر نماز پڑھنا کیسا ہے؟
کہنیوں سے اوپر آستین والی قمیص (ہاف آستین) پہن کر نماز پڑھنا خلاف سنت اورمکروہ ہے۔ لیکن اس حالت میں نماز ادا کی تو کراہت کے ساتھ ادا ہوجائے گی۔
فتاوی شامی میں ہے:
وقيد الكراهة في الخلاصة والمنية بأن يكون رافعا كميه إلى المرفقين. وظاهره أنه لا يكره إلى ما دونهما. قال في البحر: والظاهر الإطلاق لصدق كف الثوب على الكل اهـ ونحوه في الحلية، وكذا قال في شرح المنية الكبير: إن التقييد بالمرفقين اتفاقي. قال: وهذا لو شمرهما خارج الصلاة ثم شرع فيها كذلك، أما لو شمر وهو فيها تفسد لأنه عمل كثير."
(كتاب الصلوة، باب مايفسد الصلوة ومايكره فيها، ج:1، ص:640، ط:ايج ايم سعيد)
فتاوی قاضی خان میں ہے:
"ولو صلی رافعًا كميه إلی مرفقين كره"
( فصل فيما يفسد صلاة ج: 1 ص: 65 ط: دار الکتب العلمیۃ )
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"ولو صلى رافعا كميه إلى المرفقين كره. كذا في فتاوى قاضي خان."
(كتاب الصلاة، الباب السابع فيما يفسد الصلاة وما يكره فيها، الفصل الثاني فيما يكره في الصلاة وما لا يكره، ج:1 ، ص:106 ، ط:رشيدية)
فتاویٰ محمودیہ میں ہے:
"سوال: نیم آستین کا کرتہ یا بنڈی یا ٹخنہ سے پائجامہ (جیسافی زمانہ رواج ہوگیا ہے) پہن کر نماز پڑھنا کیسا ہے؟
جواب:مکروہ ہے۔"
(کتا ب الصلاۃ، مکروہاتِ نماز کا بیان، عنوان:نیم آستین کرتہ، ٹخنوں سے نیچا پائجامہ سے نماز، ج:6، ص:654، ط:ادارۃ الفاروق)
فتاویٰ محمودیہ میں ہے:
"سوال:نصف آستین کی قمیص سے نماز پڑھنا کیسا ہے؟
جواب:حضرت نبی کریم ﷺ سے نصف آستین کی قمیص پہننا منقول نہیں ہے، خلافِ سنت ہے، اس کو پہن کر نماز پڑھنا منقول نہیں ہے، ایسی قمیص خلافِ سنت ہے، اس کو پہن کر نماز پڑھنا بھی خلافِ سنت ہے۔"
(کتا ب الصلاۃ، مکروہاتِ نماز کا بیان، عنوان:نصف آستین کی قمیص سے نماز پڑھنا، ج:6،ص:654، ط:ادارۃ الفاروق)
کفایت المفتی میں ہے:
"کرتا ہوتے ہوئے صرف نیم آستین بنیان پہن کر نماز پڑھنا مکروہ ہے، نماز ہوجاتی ہے، مگر کراہت کے ساتھ۔"
(کتاب الصلاۃ، عنوان:آدھی آستین والی بنیان میں نماز، ج:3، ص:478، ط:دار الاشاعت)
فتاویٰ رحیمیہ میں ہے:
"سوال: ایک شخص کی یہ عادت ہے کہ بحالتِ نماز دونوں ہاتھوں کی آستین گرمی کی وجہ سے اوپر چڑھا لیتا ہے، تو اس سے نماز میں نقص آئے گا یا نہیں؟
جواب: نماز میں دونوں ہاتھوں کی آستین اوپر چڑھانا، یہ عملِ کثیر ہے، اس وجہ سے نماز فاسد ہو جاتی ہے، لہٰذا ایسی حرکت سے احتراز لازم ہے، شامی میں ہے:أما لو شمر وهو فيها، تفسد؛ لأنه عمل كثير. یعنی آستین چڑھی ہوئی حالت میں نماز شروع کرنا مکروہ ہے، لیکن اگر نماز پڑھنے کی حالت میں آستین چڑھائے گا تو عملِ کثیر ہونے کی وجہ سے نماز فاسد ہو جائے گی۔ وضو کے لیے یا اور کسی سبب سے آستین چڑھائی ہوئی ہوں تو اتار لیوے، پھر نماز شروع کرے، اگر آستین چڑھی ہوئی حالت میں امام کے ساتھ رکعت پا لینے کے شوق میں نماز میں داخل ہو جائے تو بہتر یہ ہے کہ آہستہ آہستہ اور تھوڑی تھوڑی اتار لیوے کہ جس سے عمل کثیر لازم نہ آوے، آستین چڑھی ہوئی رکھ کر نماز پڑھنا یا آدھی آستین والا قمیص پہن کر نماز پڑھنا مکروہ ہے۔"
(کتاب الصلاۃ، مفسداتِ صلاۃ، عنوان:نماز میں آستین چڑھانا، ج:5، ص:108، ط:دارالاشاعت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144709102034
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن