
لڑکے کے گھروالوں سے بات ہوئی ہے، (لڑکا شیعہ ہے) ان کا کہنا ہے کہ وہ ان میں کفریہ عقائد میں سے کسی کو بھی نہیں مانتے، اب کیا ان کے ساتھ نکاح کرنا جائز ہے؟ کیونکہ لڑکا اور لڑکی دونوں اس نکاح کے لیے راضی مند ہیں، اور ان کے گھروالے بھی راضی ہیں، لڑکے کے گھر والوں کا کہنا ہے کہ پہلے ہم اپنے طریقے سے نکاح کریں گے، اس کے بعد آپ اہل سنت کے طریقے سے نکاح کر لیجئے گا، اور لڑکے والوں کا کہنا ہے کہ نکاح میں زیادہ فرق نہیں ہے، بس تھوڑی سی دعاء الگ ہے، اور قرآن مجید سے ہی کچھ سورتیں پڑھتے ہیں، جیساکہ سورۃ یوسف اور حضرت علی اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھما کی کہانی پڑھتے ہیں، اب آپ رہنمائی فرما کر مجھے صحیح بتائیں کہ مجھے کیا کرنا چاہیئے؟ کیا جائز اور کیا ناجائز ہے؟
واضح رہے کہ اگر کسی شیعہ کے عقائد کفریہ ہوں، مثلًا: وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں الوہیت کا عقیدہ رکھے یا حضرتِ جبریل علیہ السلام کے متعلق یہ عقیدہ رکھے کہ انہوں نے وحی پہنچانے میں غلطی کی یا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے صحابی ہونے کا انکار کرے یا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر قذف و تہمت لگائے تو ایسا شخص دائرۂ اسلام سے خارج ہے، اس صورت میں سنی کے لیے اس سے نکاح کرنا نہ صرف ناجائز ہے، بلکہ شرعاً سرے سے منعقد ہی نہیں ہوتا۔
البتہ اگر وہ صدقِ دل سے توبہ کرکے، کلمہ پڑھ کر تمام باطل عقائد سے براءت کا اظہار کرلے، اور اہل ِ سنت و الجماعت کے عقائد کو دل وجان سے قبول کر لے تو نکاح شرعًا جائز ہوگا، البتہ یہ تبدیلی صرف زبانی نہ ہو، بلکہ عملی طورپر اس کی زندگی،عبادات، شعائر اور نظریات میں بھی تبدیلی واضح طور پر نظر آئے۔
لہذااگر لڑکے کے مذکورہ عقائد نہیں ہیں اور سائلہ سے نکاح کرنا چاہتا ہے تو نکاح سے پہلے سوال میں مذکورہ اہل سنت وجماعت کے مخالف عقائد و نظریات اور اعمال سے توبہ اور مکمل براءت کا اظہار کرے اور اہلِ سنت وجماعت کے عقائد کو دل و جان سے قبول کرے؛ تاکہ جانبین کے درمیان ذہنی ہم آہنگی رہے۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
'' وبهذا ظهر أن الرافضي إن كان ممن يعتقد الألوهية في علي، أو أن جبريل غلط في الوحي، أو كان ينكر صحبة الصديق، أو يقذف السيدة الصديقة فهو كافر ؛ لمخالفته القواطع المعلومة من الدين بالضرورة، بخلاف ما إذا كان يفضل علياً أو يسب الصحابة ؛ فإنه مبتدع لا كافر، كما أوضحته في كتابي '' تنبيه الولاة والحكام علی أحكام شاتم خير الأنام أو أحد الصحابة الكرام عليه وعليهم الصلاة والسلام''.
(کتاب الطلاق، فصل في المحرمات، ج:3، ص: 46، ط:دارالفكر)
البحر الرائق میں ہے:
"وبقذفه عائشة - رضي الله عنها - من نسائه صلى الله عليه وسلم فقط و بإنكاره صحبة أبي بكر - رضي الله عنه - بخلاف غيره و بإنكاره إمامة أبي بكر - رضي الله عنه - على الأصح كإنكاره خلافة عمر - رضي الله عنه - على الأصح."
(كتاب السير، باب أحكام المرتدين، ج:5، ص:131، ط:دار الكتاب الإسلامي)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144705100020
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن