بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 محرم 1448ھ 11 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

کفریہ الفاظ سے توبہ کرنا


سوال

اگر کوئی شخص کوئی کُفرِیہ الفاظ بولے اب بولنے والے شخص کو یاد نہیں  کہ  اُس نے کیا بولا تھا ۔لیکن سُننے والے شخص کو یاد ہو کہ  فلاں الفاظ بولے تھے تُو کیا سُننے والے شخص پر یہ واجب ہے کی وہ اُس بولنے والے شخص کو اپنی زبان سے وہ الفاظ بول کر بتائے کہ تُم نے یہ الفاظ بولے تھے لیکِن بتانے کے لئے بھی کُفرِیہ الفاظ کو اپنی زبان سے ادا کرنا یہ بہت مُشکِل کام ہے ایسی صورت میں توبہ اور تجدیدِ ایمان کا کیا طریقہ ہوگا ،اگر کُفرِیہ الفاظ بولنے والے شخص سے ان  الفاظ سے توبہ کروائی  جائے ۔اے اللہ مجھ سے جو بھی کُفرِیہ الفاظ نکلے ہیں  میں اُس سے توبہ کرتا ہوں ۔اور میں اُن کُفرِیہ الفاظ سے نفرت اور بیزاری کا اعلان کرتا ہوں ،پھر پہلا اور دوسرا کلمہ پڑھوا دیا جائے ۔تُو کیا توبہ اور تجدیدِ ایمان معتبر ہوگا ۔اگر نہیں ہوگا تو آپ صحیح طریقہ بتا دیجئے ۔

جواب

واضح رہے کہ اگر کسی نے کفریہ الفاظ بولے تھے، اور وہ بھول گیا، تو سننے والے آدمی وہ الفاظ زبان سے ادا کرکے بتا سکتے ہیں، یہ نقل اور حکایت ہے، انشاء نہیں، اور کفریہ الفاظ کی ادائیگی سے کفر لازم نہیں آتا،البتہ ان الفاظ کو نقل کر کے بتانا واجب نہیں ہے، لہذاصورت مسؤلہ میں  اگر واقعی کسی شخص نے الفاظ کفریہ کہے ہوں اور  ان  کُفرِیہ الفاظ بولنے والے شخص سے ان الفاظ سے توبہ کروائی جائے کہ اے اللہ مجھ سے جو بھی کُفرِیہ  جملہ نکلا ہے ،میں اُس سے توبہ کرتا ہوں ،اور میں اُن کُفرِیہ الفاظ سے نفرت اور بیزاری کا اعلان کرتا ہوں،پھر پہلا اور دوسرا کلمہ پڑھوا دیا جائے ۔تُویہ طریقہ توبہ اور تجدیدِ ایمان  کیلئے  کافی  ہے۔

شامی میں ہے:

"ثم اعلم أنه يؤخذ من مسألة العيسوي أن من كان كفره بإنكار أمر ضروري كحرمة الخمر مثلًا أنه لا بد من تبرئه مما كان يعتقده لأنه كان يقر بالشهادتين معه فلا بد من تبرئه منه كما صرح به الشافعية وهو ظاهر".

(باب المرتد، ج:4، ص:228، ط:سعيد)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144801100716

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں