
میرےپاس ایک تولہ سے کم سونا ہے، اور میں قرآن کریم کی ٹیوشن پڑھاتی ہوں جس سے ملنے والی آمدنی جو کہ چند ہزار روپے ہوتی ہے، کبھی میں استعمال کر لیتی ہوں اور کبھی نہیں کرتی، اس وجہ سے کبھی میرے پاس رقم چند ماہ تک ہوتی ہے کبھی بالکل بھی نہیں ہوتی۔
سوال یہ ہے کہ میرے لیے زکات کا کیا حکم ہے؟
صورت مسئولہ میں سائلہ کے پاس موجود ایک تولہ سے کم سونے کی مقدار اور نقدی کی صورت میں موجود رقم ملا کر اگر ساڑھے باون (52.5)تولہ چاندی یا اس سے زائد ہو اور اس مال پر ایک سال بھی گزرجائے تو سائل کے لیے اپنے مجموعی مال کا چالیسواں حصہ (%2.5)زکوۃ میں نکالنا فرض ہے۔اگر ساڑھے باون (52.5)تولہ چاندی سے کم رقم بنتی ہو یا سال گزرنے کے بعد مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت سے کم ہوجائے تو سائلہ پر زکوۃ فرض نہیں، مثلا اگر محرم کی کسی تاریخ کو سائلہ کے پاس ایک تولہ سونا اور اس کے ساتھ اتنی رقم ہو جو مل کر ساڑھے باون (52.5)تولہ چاندی یا اس سے زائد ہوجائے، اور آئندہ سال محرم کی اسی تاریخ کو بھی سائلہ اسی نصاب کی مالک ہو(درمیان سال میں مال کا گھٹنا، بڑھنا معتبر نہیں ہوگا)، تو اب سائلہ پر زکوۃ ادا کرنا فرض ہوگا۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"(ومنھا كون المال نصابا) فلا تجب في أقل منه."
( كتاب الزكاة، الباب الأول في تفسير الزكاة وصفتها وشرائطها،ج: 1، ص: 172، ط: دار الفکر)
بدائع الصنائع میں ہے:
"أما الأثمان المطلقة وهي الذهب والفضة أما قدر النصاب فيهما فالأمر لا يخلو إما أن يكون له فضة مفردة أو ذهب مفرد أو اجتمع له الصنفان جميعا، فإن كان له فضة مفردة فلا زكاة فيها حتى تبلغ مائتي درهم وزنا وزن سبعة فإذا بلغت ففيها خمسة دراهم."
(كتاب الزكاة، فصل الأثمان المطلقة وهي الذهب والفضة، ج: 2، ص: 16، ط: دار الکتب العلمیة)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144708100378
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن