
میں نے ایک مولوی صاحب سے کہا کہ میری بہت سی نمازیں قضا ہو گئی ہیں، اب مجھے یاد نہیں ہے کہ کون سی نماز کب اور کس وقت کی قضا ہوئی ہے۔ تو انہوں نے کہا کہ جب نیت کرو تو کہو میری جتنی بھی نمازیں قضا ہوئی ہیں، اس میں سے جو پہلی قضا نماز ہے وہ ادا کر رہا ہوں، یعنی پہلے ایک پھر دو پھر تین۔
اسی طرح اگر کوئی شخص نمبر وار نماز ادا کرے ،اور 23 یا 25 نمازیں ادا کرلے، اور پھر درمیان میں وقفہ آجائے اور وہ بھول جائے کہ میں نے کتنی نمازیں پڑھی ہیں؟ تو اب وہ کیا کرے کہ پھر اسی طرح نیت کرے کہ میری قضا نمازوں کی پہلی نماز ادا کر رہا ہوں یا پھر اندازاً نیت کرے۔
قضا نماز یں متعینہ طور پر معلوم ہوں تو ان کی نیت میں ضروری ہے کہ جس نماز کی قضا پڑھی جا رہی ہے اس کی مکمل تعیین کی جائے یعنی فلاں دن کی فلاں نماز کی قضا پڑھ رہا ہوں، مثلاً پچھلے جمعہ کے دن کی فجر کی نماز کی قضا پڑھ رہا ہوں۔ البتہ اگر متعینہ طور پر قضا نماز کا دن اور وقت معلوم نہ ہو نے کیوجہ سے اس طرح متعین کرنا مشکل ہو تو اس طرح بھی نیت کی جاسکتی ہے کہ مثلاً جتنی فجر کی نمازیں مجھ سے قضا ہوئی ہیں ان میں سے پہلی فجر کی نماز ادا کر رہا ہوں یا مثلاً جتنی ظہر کی نمازیں قضا ہوئی ہیں ان میں سے پہلی ظہر کی نماز ادا کر رہا ہوں، اسی طرح بقیہ نمازیں پڑھے۔
اور جس نماز کو قضاء کیا جائے گا وہ اس کے ذمہ سے ساقط ہوجائے گی اور بقیہ نمازیں اس پر قضاء کرنا لازم ہوں گی، لہذا اس قضاء نماز کے بعد جو نماز اس کے ذمہ میں ہے وہ پہلی نماز ہوگی ایسی صورت میں بھی نیت کا طریقہ وہی ہے کہ میرے ذمہ جو نمازیں لازم ہیں ان میں سے مثلاً پہلی فجر قضاء کرتاہوں ۔
لہذا صورت مسئولہ میں جب کوئی شخص 23 یا 25 نمازیں قضاء کرلے تو وہ نمازیں اس کے ذمہ سے ساقط ہوجائیں گی،پھر جب بقیہ نمازوں کی قضاء کرے گا تواسی طرح نیت کر ےکہ میرے ذمہ جو نمازیں لازم ہیں ان میں سے پہلی قضاء کررہاہوں،اور تاخیر سے ادا کرنے پر توبہ و استغفار بھی کرے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"كثرت الفوائت نوى أول ظهر عليه أو آخره.
(قوله كثرت الفوائت إلخ) مثاله: لو فاته صلاة الخميس والجمعة والسبت فإذا قضاها لا بد من التعيين لأن فجر الخميس مثلا غير فجر الجمعة، فإن أراد تسهيل الأمر، يقول أول فجر مثلا، فإنه إذا صلاه يصير ما يليه أولا أو يقول آخر فجر، فإن ما قبله يصير آخرا، ولا يضره عكس الترتيب لسقوطه بكثرة الفوائت."
(كتاب الصلاة،باب قضاء الفوائت،ج:2،ص: 76،ط:سعيد)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144706100728
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن