
"کے الیکٹرک" کی جانب سے ہمارے علاقہ میں کئی گھنٹوں کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے، حالانکہ یہاں کے زیادہ تر رہائشی باقاعدگی سے اپنا بل ادا کرتے ہیں، اصل وجہ یہ ہے کہ کچھ افراد نے غیر قانونی کنڈے لگارکھے ہیں، ان کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے کے الیکٹرک پورے علاقہ کی بجلی بند کردیتی ہے، جس کی وجہ سے بل بھرنے والے ایماندار رہائشی افراد کو بہت تکلیف ہوتی ہے۔
1.کیا کچھ لوگوں کی وجہ سے پورے علاقہ والوں کو سزا دینا درست ہے؟
2.اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ سرکاری اداروں یا کمپنیوں کے مسائل رشوت دیے بغیرحل نہیں ہوتے، تو شرعاً رشوت دینے کاکیا حکم ہے؟
1.واضح رہے کہ کنڈا لگا کر یا اور کسی طریقہ سے بجلی چوری کرنا شرعاً و قانوناً جرم ہے، اگر کوئی شخص چوری کرنے سے باز نہ آتا ہو اور چوری کرتا رہے، تو حکومت کو اس کو سزا دینے اور اس کے خلاف کارروائی کرنے کا حق ہے۔البتہ کچھ افراد کی چوری کی بناء پر پورے علاقے کی بجلی بند کردینا درست نہیں ، ایسی صورت میں متعلقہ علاقے والوں کو بجلی کے محکمہ سے رابطہ کرکے اپنی اس شکایت کا ازالہ کروانا چاہیے۔
2.رشوت لینے اور دینے والے پر حضورِ اکرم ﷺ نے لعنت فرمائی ہے، چناں چہ رشوت لینا اور دینا دونوں ناجائز ہیں، اس لیے حتی الامکان رشوت دینے سے بچنا بھی واجب ہے، البتہ اگر کوئی جائز کام تمام قانونی تقاضوں کو پورا کرنے اور حق ثابت ہونےکے باوجود صرف رشوت نہ دینے کی وجہ سے نہ ہورہا ہو تو ایسی صورت میں حق دار شخص کو چاہیے اولاً وہ اپنی پوری کوشش کرے کہ رشوت دیے بغیر کسی طرح (مثلاً حکامِ بالا کے علم میں لاکر یا متعلقہ ادارے میں کوئی واقفیت نکال کر) کسی طرح اس کا کام ہوجائے،اور جب تک کام نہ ہو اس وقت تک صبر کرے اور صلاۃ الحاجۃ پڑھ کر اللہ تعالیٰ سے مسئلہ حل ہونے کی دعا مانگتا رہے، لیکن اگر شدید ضرورت ہو اور کوئی دوسرا متبادل راستہ نہ ہو تو اپنے جائز ثابت شدہ حق کے حصول کے لیے مجبوراً رشوت دینے کی صورت میں دینے والا گناہ گار نہ ہوگا، البتہ رشوت لینے والے شخص کے حق میں رشوت کی وہ رقم ناجائز ہی رہے گی اور اسے اس رشوت لینے کا سخت گناہ ملے گا۔ نیز یہ بھی واضح رہے کہ جو حق ابھی تک ثابت نہ ہو رشوت دے کر اسے حاصل کرنے کی شرعاً اجازت نہیں ہے۔
سنن أبی داود میں ہے:
"عن أبي سلمة، عن عبد الله بن عمرو، قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم الراشي والمرتشي."
(کتاب الأقضیة، باب في کراهیة الرشوة، رقم الحدیث: 3580، ج: 3، ص: 300، ط: المکتبة العصریة)
المبسوط للسرخسي میں ہے:
{ولا تزر وازرة وزر أخرى} [الأنعام: 164]؛«ولقول رسول الله صلى الله عليه وسلم لأبي رمثة حين دخل عليه مع ابنه أما أنه لا يجني عليك، ولا تجني عليه» أي لا يؤخذ بجنايتك، ولا تؤخذ بجنايته. ولأن ضمان الإتلاف يجب على المتلف دون غيره بمنزلة غرامات الأموال، وهذا أولى ."
(كتاب الديات، ج: 26، ص: 65، ط:دار المعرفة)
فتاوی شامی میں ہے:
"دفع المال للسلطان الجائر لدفع الظلم عن نفسه وماله ولاستخراج حق له ليس برشوة يعني في حق الدافع اهـ ."
(کتاب الحظر والإباحة، فصل في البیع، ج: 6، ص: 423، ط: سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144703100114
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن