
میرے شوہر کے والد کی جائیداد میں دومکان تھے، ایک 45 گز کا ،دوسرا100 گز کا ، اس کے علاوہ لاکر میں رقم اور کچھ زیورات تھے۔ سسر مرحوم کے دو بیٹے تین بیٹیاں ہیں ،45 گز کے مکان کے متعلق میرے سسر نے وصیت کی تھی کہ میرے بڑے بیٹے کو اس کے حصے کے عوض یہ مکان دینا، چنانچہ اس کی قیمت 24 لاکھ لگائی گئی اور میرے شوہر کو اس کے حصہ کے عوض یہ مکان دے دیا گیا۔ دوسرا مکان ساڑھے سینتالیس لاکھ روپے میں فروخت ہوا ، اس میں سے 24 لاکھ چھوٹے بھائی نے لے لیا اور بہنوں کو ساڑھے تین ، ساڑھے تین لاکھ دیے گئے، اور والدہ کو حصہ نہیں دیا گیا،اور مکان کی باقی رقم چھوٹے بیٹے نے رکھ لی ۔ اور لاکر میں جو رقم اور زیورات تھے وہ بھی چھوٹے بیٹے نے چپکے سے لے لیے، جب میرے شوہر نے حساب مانگاتو وہ جھگڑنے لگا اور قطع تعلقی کر لی، پانچ سال تک میرے شوہر بیمار رہے وہ کبھی دیکھنے نہیں آئے، جب میرے شوہر کا انتقال ہوا تو اس وقت ان کو فون کیاگیا اور وہ آئے اور یہ کہہ کر گئے کہ آپ کو آپ کا حصہ مل جائے گا ہمارا حصہ ہمیں دے دو۔
ہماری بھی کوئی اولاد نہیں اور میرے دیور یعنی مرحوم سسر کے دوسرے بیٹے کی بھی کوئی اولاد نہیں۔اب میرے مرحوم شوہر کاگھر تین فلور پر مشتمل ہے، میں چاہتی ہوں کہ دو فلور کسی مدرسہ کو وقف کر دوں جب کہ ایک فلور اپنی نند کو دے دوں جو کہ حیات ہے، باقی دو نندوں کا انتقال میرے شوہر کی حیات میں ہوگیا تھا۔
اب میرا سوال یہ ہے کہ کیا میں شرعا اس طرح کر سکتی ہوں؟
صورتِ مسئولہ میں سائلہ کے سسر مرحوم کے انتقال کے وقت ان کی ملکیت میں جو جائیداد، رقم اور زیورات وغیرہ تھے،سسر کے انتقال کے بعد ان کے تما شرعی ورثاء کا اس میں حصہ تھا، مرحوم کے بیٹے (سائلہ کے دیور)کامکان بیچ کر خود 24 لاکھ روپے بطو رِ حصہ لینے کے علاوہ ترکہ کی رقم اور زیورات پر قبضہ کرنا اور والدہ ، بھائی اور بہنوں کو ان کے پورے حق سے محروم کرنا ہر گز جائز نہیں ہے، اور اب اس پر لازم ہے کہ وہ قبضہ کی ہوئی تمام رقم اور زیورات تمام ورثاء میں ان کے حصوں کےمطابق تقسیم کرے،ورنہ آخرت میں دینا پڑے گا اور وہاں دینا آسان نہیں ہوگا۔
البتہ سائلہ کے مرحوم شوہر کووالد کی طرف سے ملنے والا حصہ ان کےترکہ میں شامل ہوکر ان کے تمام ورثاء میں ان کے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہوگا،نیز چوں کہ شوہر مرحوم کے ترکہ میں سب ورثاء کاحق ہے؛لہذا سائلہ کا اس میں دوسرے ورثاء کی رضامندی کے بغیر تصرف کر کے گھر کا کچھ حصہ وقف کرنا یا نند کو دینا جائز نہیں ہوگا۔البتہ تمام ورثاء میں ترکہ تقسیم ہونے کے بعد سائلہ کو اپنے حصہ میں ہر طرح کے جائز تصرف کاختیار ہوگا۔
تبیین الحقائق میں ہے :
"والمراد من التركة ما تركه الميت خاليا عن تعلق حق الغير بعينه."
(کتاب الفرائض،ج:6، ص:229، ط دارالکتب الاسلامی)
درر الحکام شرح مجلة الاحکام میں ہے:
"(لا يجوز لأحد التصرف في مال غيره بلا إذنه ولا ولايته)."
(المقالة الثانية في بيان القواعد الكلية الفقهية، (المادة 96) ، ج:1، ص:96، ط:دارلجيل)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144707100110
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن