
1۔میری بیوی کی پانچ بہنیں اور ایک بھائی ہے۔میری بیوی کے والد کا انتقال 23سال پہلے ہوچکا ہے۔ان کے انتقال کے وقت ان کا ذاتی مکان تھا اور کرایہ کی دکان تھی۔قرض بہت تھا کہ مکان بیچ کر قرضہ ادا کرنا تھا ،مگر میرے سالے نے اپنی بیوی کا زیور بیچ کر والد کا قرضہ اتارا۔اگر وہ ایسا نہ کرتاتو مکان بک جا تا۔
میرے سسر کا کاروبار میرے سالے نے سنبھال لیا اور والد کے گھر کو تالا لگادیا۔اور اب میرا سالا کہتاہے کہ میں نے جو بیوی کا زیور بیچ کر قرض اتارا ہے اس میں سب کاحصہ ختم ہوگیا،لہٰذا اب کسی کاحصہ نہیں۔
2۔مرحوم کے ترکہ کی تقسیم کا طریقہ مطلوب ہے:ورثاء میں ایک بیوہ،پانچ بیٹیاں اورایک بیٹا ہے۔والد کے والدین کا انتقال ان کی زندگی میں ہی ہوگیا تھا۔
1.صورتِ مسئولہ میں سائل کا سالا اپنی بیوی کے زیور بیچ کر مرحوم والد کا قرضہ اتارنے کی وجہ سے تنہا اس مکان کا مالک نہیں بن گیا بلکہ مذکورہ مکان بدستور والد مرحوم کا ترکہ ہے،جب کہ آپ کا سالا مذکورہ مکان کی موجودہ مالیت میں سے قرض کے بقدر رقم کا مستحق ہے، یعنی مکان کو بیچ کر ترکہ میں تقسیم کرنے سے پہلے اسے قرض کے بقدر رقم ادا کی جائے گی، اس کے بعد باقی رقم تمام ورثاء میں بطور ترکہ تقسیم کی جائے گی، جس میں اس کا بھی حصہ ہوگا، اسی طرح دکان اور اس سے اب تک حاصل ہونے والے منافع بھی والد مرحوم کا ترکہ ہیں، انھیں بھی تمام ورثاء میں میراث کے شرعی ضابطے کے مطابق تقسیم کیا جائے گا۔
2.مرحوم کی جائیداد تقسیم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اولاً مرحوم کی جائیداد میں سے تجہیز و تکفین کے اخراجات ادا کیے جائیں، پھر مرحوم کے ذمہ مذکورہ قرضہ کل ترکہ سے ادا کیا جائے، اس کے بعد اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اس کو بقیہ مال کے ایک تہائی سے نافذ کیا جائے، اس کے بعد باقی ماندہ ترکہ منقولہ وغیرمنقولہ کوسات حصوں میں تقسیم کرکے دوحصے بیٹے کو اور ایک ایک حصہ ہربیٹی کو دیا جائے گا۔
صورتِ تقسیم یہ ہے:
میت(مرحوم والدین):7
| بیٹا | بیٹی | بیٹی | بیٹی | بیٹی | بیٹی |
| 2 | 1 | 1 | 1 | 1 | 1 |
یعنی سو فیصد میں سے 28.571 فیصد اکلوتے بیٹے کواور 14.285 فیصدہر ایک بیٹی کو ملے گا۔
سنن الترمذی میں ہے:
"عن علي أنه قال: إنكم تقرءون هذه الآية: {من بعد وصية توصون بها أو دين} [النساء: 12] «وإن رسول الله صلى الله عليه وسلم قضى بالدين قبل الوصية، وإن أعيان بني الأم يتوارثون دون بني العلات، الرجل يرث أخاه لأبيه وأمه دون أخيه لأبيه."
(أبواب الفرائض،باب ما جاء في ميراث الإخوة من الأب والأم،رقم الحدیث:2094،ج:4،ص:416،ط:مصطفى البابي الحلبي مصر)
فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
"ولو قضى الدين بعض الورثة فله الرجوع على الباقين شرط أو لم يشرط إلا أن يتبرع لأن كل واحد من الورثة مطالب."
(كتاب القسمة،الباب الثامن في قسمة التركة وعلى الميت أو له دين،ج:5،ص:203،ط:دار الفكر)
مجلۃ الاحکام العدلیۃ میں ہے:
"(المادة ٩٦) : لايجوز لأحد أن يتصرف في ملك الغير بلا إذنه. (المادة ٩٧) : لايجوز لأحد أن يأخذ مال أحد بلا سبب شرعي."
(المقالة الثانية فی بیان القواعد الکلیة الفقهية، ص:27، ط:نور محمد، كارخانه تجارتِ كتب)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144802100404
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن