
ایک بیوہ بہن اپنے بھائی کے ساتھ رہتی تھی، بھائی مالدار تھا،بہن کا اپنا ذاتی 45 تولہ سونا بھائی نے اپنے بینک لاکر میں رکھوایا تھا، ایک دن بہن نے محبت میں کہا، کہ اگر میں مر جاؤں تو میرے بعد میرا سونا میرے بھائی کا ہوگا، پھر کچھ عرصے بعد بہن نے کہا کہ میرا سونا مجھے چاہیے۔
بھائی ایک نیک انسان تھے، ان کی کچھ عرصے بعد اچانک موت واقع ہوگئی ۔
اب ان کے بیٹے نے ساری جائیداد اپنی تحویل میں لے لی،بھائی نے نیا مکان بنایا تھا،اور کورٹ کے ڈر سے بھائی نے اسے بیٹے کا نام کرا دیا تھا۔
بینک لاکر میں بھائی کا بہت زیادہ سونا ہے،اور بہن کا 45 تولہ سونا بھی موجود ہے۔
اب ان کا بیٹا کہتا ہے کہ میں پھوپھو کو سونا نہیں دوں گا،وہ یہ میرے ابو کو دے چکی ہیں۔پھوپھو کے پاس اس سونے کے علاوہ کچھ نہیں ہے،اب وہ چاہتی ہیں کہ میرا سونا مجھے مل جائے۔
سوال یہ ہے کہ کیا یہ سونا پھوپھو کا ہے؟یا بھائی کو دینے کی وجہ سے یہ ان کا ہوگیا ہے ؟
صورتِ مسئولہ میں مذکورہ خاتون نے اگر واقعۃً یہ الفاظ اپنے بھائی سے کہے ہوں، کہ" اگر میں مر جاؤں ،تو میرے بعد میرا سونا میرے بھائی کا ہوگا" تو اس کی شرعی حیثیت وصیت کی ہے، نہ کہ گفٹ کی، پس مذکورہ بھائی کی وفات کے ساتھ ہی بہن کی مذکورہ وصیت باطل ہو چکی ہے ،لہذا مرحوم کے بیٹے کا یہ کہنا" میں پھوپھو کو سونا نہیں دوں گا وہ میرے ابو کو دے چکی ہیں" شرعاً غلط ہے ،بھتیجے پر لازم ہے کہ پھوپھو کا سونا انہیں لوٹا دے،بصورت دیگر وہ غاصب شمار ہوگا، اور اس کے لیے مذکورہ سونا اپنے استعمال میں لانا حلال نہیں ہوگا۔
مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"وعن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ألا لا تظلموا ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه. "
(کتاب البیوع، باب الغصب والعارية، ج:1، ص:261، ط: رحمانيه)
ترجمہ:
"حضرت ابوحرہ رقاشی رحمہ اللہ نے اپنے چچا سے نقل کیا ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا خبر دا کسی پر ظلم نہ کرنا اچھی طرح سنو کہ کسی دوسرے شخص کا مال اس کی خوشی کے بغیر حلال نہیں ہے۔"
(مظاہرِحق)
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيحمیں ہے:
"(" لا تظلموا ") أي: لا يظلم بعضكم بعضا كذا قيل، والأظهر أن معناه: لا تظلموا أنفسكم، وهو يشمل الظلم القاصر والمعتدي (" ألا ") للتنبيه أيضا وكرره تنبيها على أن كلا من الجملتين حكم مستقل ينبغي أن ينبه عليه، وأن الثاني حيث يتعلق به حق العباد أحق بالإشارة إليه، والتخصيص لديه (" لا يحل مال امرئ ") أي: مسلم أو ذمي (" إلا بطيب نفس ") أي: بأمر أو رضا منه."
(كتاب البيوع، باب الغصب والعارية، ج:5،ص:1974، ط: دارالفکر- بیروت)
شرح مشکل الآثار میں ہے:
"عن عمرو بن يثربي قال: خطبنا رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فقال: " لا يحل لامرئ من مال أخيه شيء إلا بطيب نفس منه " قال: قلت يا رسول الله ، إن لقيت غنم ابن عمي آخذ منها شيئا؟ فقال: " إن لقيتها تحمل شفرة ، وأزنادا بخبت الجميش فلا تهجها " قال أبو جعفر: ففيما روينا إثبات تحريم مال المسلم على المسلم۔"
(الجزء السابع، باب بيان في الضيافة من إيجابه إياها ومما سوى ذلك، ج:7، ص:253،252، ط:مؤسسة الرسالة)
درر الحکام میں ہے:
"لايجوز لأحد التصرف في مال غيره بلا إذنه ولا ولايته۔"
(المقالة الثانية، ج:1، ص:96، مادة:96، ط:دار الجيل)
شرح مختصر الطحاوی للجصاص میں ہے:
"قال: (وإذا أوصى لرجلٍ، ثم مات الموصى له قبل الموصِي:بطلت وصيته)؛لأن صحة الوصية متعلقة بموت الموصِي، ألا ترى أن الموصي له أن يرجع في وصيته، ويتصرف فيما أوصَى به بسائر وجوه التصرف، فلما كان كذلك، وكان الموصَى له ميتًا قبل موت الموصى، لم تصح له وصيته."
(كتاب الفرائض، باب الوصایا، ج:4، ص:161، ط:دار البشائر الإسلامية)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144712100964
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن