بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کسی کو کام دلواکر مقررہ کمیشن لینے کا حکم


سوال

میں ایک سول انجینئر ہوں، جب مجھے کسی مکان یا دیگر تعمیراتی کام کا پروجیکٹ ملتا ہے تو میں یہ کام کسی معمار  کو دے دیتا ہوں، جن کا گھر یاکوئی چیز تعمیر کرنا ہوتی ہے  اس کے عوض مالکِ مکان یا متعلقہ فرد سے مجھے میری طے شدہ اجرت مل جاتی ہے۔

میرا سوال یہ ہے کہ :

(1) بعض اوقات معمار صرف اس بنا پر کہ میں نے اسے کام دیا ہے، مجھے کچھ رقم دے دیتا ہے، حالانکہ میرے اور اس کے درمیان پہلے سے ایسی کسی رقم یا کمیشن پر کوئی بات طے نہیں ہوتی،کیاایسی صورت میں اس رقم کو لینا میرے لیے جائز ہے یا نہیں؟

(2) اگر میرے اور معمار کے درمیان باقاعدہ کمیشن یا اضافی رقم پر پہلے سے کوئی معاہدہ طے کرلیا جائے، تو کیا ایسی صورت میں  یہ رقم لینا میرے لیے درست ہوگا یا نہیں؟

واضح رہے کہ میرا کردار صرف یہ ہوتا ہے کہ میں معمار کو کام سونپ دیتا ہوں، اس کے علاوہ میں عمارت کی تعمیر میں براہِ راست شریک نہیں ہوتا۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل جو ایک سول انجینئر ہے، کسی مکان یا تعمیراتی منصوبے کا پراجیکٹ حاصل کرتا ہے، اس پراجیکٹ کی تمام تر ذمہ داری اور اس کا معاوضہ مالکِ مکان کی طرف سے اس انجینئر (سائل) کو دیا جاتا ہے، لہٰذاسائل کی ذمہ داری  بنتی ہے  کہ وہ اس منصوبے کے لیے درکار تمام سامان فراہم کرے اور مستری، معمار اور دیگر کاریگر بھی مہیا کرے۔

چونکہ مالکِ مکان کی طرف سے  اس کام کا پورا معاوضہ انجینئر  (سائل) کو دیا جاتا ہے ، لہذا انجینئر (سائل ) کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ معمار یا کاریگروں سے الگ سے کمیشن وصول کرے، خواہ یہ کمیشن پہلے سے طے شدہ ہو یا بعد میں لیا جائے، ایسا کرنا شرعاً ناجائز ہے، کیونکہ یہ ناحق دوسروں کا مال کھانے اور رشوت کے زمرے میں آتا ہے،حدیث شریف میں رشوت لینےاوردینےکی ممانعت وارد ہوئی ہے۔

قرآن کریم میں ہے:

"وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ ." [البقرة: 188]

ترجمہ:”اور آپس میں ایک دوسرے کے مال نا حق مت کھاؤ“۔(بیان القرآن) 

سنن أبي داؤد میں ہے:

"عن ‌عبد الله بن عمرو قال: "لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم ‌الراشي ‌والمرتشي."

(باب في كراهية الرشوة،ج:3،ص:326،ط: ط:المطبعة الأنصارية)

ترجمہ:”حضرت عبداللہ بن عمرورضی اللہ عنہ سےروایت ہے،انہوں نےفرمایاکہ:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےرشوت دینےوالےاوررشوت لینےوالےپرلعنت فرمائی ہے۔“

الموسوعۃ الفقہیۃ میں ہے:

"الهبة لغة: العطية بلا عوض. وهو المعنى الاصطلاحي أيضا، يقول ابن قدامة: الهبة والصدقة والهدية والعطية معانيها متقاربة، وكلها تمليك في الحياة بغير عوض، واسم العطية شامل لجميعها. والفرق بين الوقف والهبة أن الوقف تمليك المنفعة مع بقاء العين على ملك الله تعالى فلا يجوز التصرف فيها. أما الهبة فهي تمليك للعين، فللموهوب له أن يتصرف فيها بما يشاء."

(وقف، التعريف، الألفاظ ذات الصلة، الهبة، ج:44 ص:109،110 ط: وزارة الأوقاف والشئون الإسلامية)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144703102278

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں