
ایک بندہ بکریاں خرید کر لاتا ہے، پھر اپنے دوستوں کو منڈی ساتھ لے کر جاتا ہے،اور ہر ایک کو کچھ بکریاں دے کر کہتا ہے کہ اس کو فروخت کر کے مجھے ایک متعینہ رقم دے دو ،مثلا مجھے ایک لاکھ روپے دے دو، باقی جتنے میں تم بیچو وہ سب تمہارے ہیں ، اور کبھی دوست اسے کہتے ہیں کہ بکریاں ہمیں دو ،ہم فروخت کر کے آپ کو ایک متعینہ رقم دے دیں گے۔
اب سوال یہ ہے کہ اس طرح معاملہ کرنا شرعا جائز ہے یا نہیں ؟مذکورہ شخص جب جانور ان کے حوالے کرتا ہے، اور وہ بکریاں ان کے پاس ہلاک یاضائع ہو جائیں تو ان پر ضمان لازم آئے گا یا نہیں ؟ رہنمائی فرما دیں۔
واضح رہے کہ اجارہ کے صحیح ہونے کے لئے اجرت کا متعین ہونا ضروری ہے،اجرت کی تعیین کئے بغیر عقد فاسد ہوجائے گا،لہذا صورت ِمسئولہ کے مطابق مذکورہ شخص نے جوبکریاں خرید کر دوستوں کو ایک مخصوص رقم کی ادائیگی کے بدلے دیں، اور ان کو بکریاں آگے بیچنے میں مکمل اختیارات دئے، اور مخصوص رقم کی ادائیگی کے بعد ان کونفع کا مالک بنادیا تو ایسی صورت میں چونکہ اجرت متعین نہیں تھی،لہذا اجرت کے مجہول ہونے کی وجہ سے عقد فاسد ہوگیا تھا،اور مذکورہ شخص کے دوستوں کو صرف اجرت ِمثل ملے گی، باقی جو کچھ نفع ہوا ہے وہ سب مالک کا ہوگا۔
نیز مذکورہ صورت میں بکریاں مذکورہ شخص کے دوستوں کے پاس امانت ہے، اور امانت اگر بغیر تعدی( بغیر جان بوجھ ) کے ہلاک ہوجائے تو اس پر ضمان لازم نہیں آتا، البتہ اگر جان بوجھ کر، یا خود کی کسی کوتاہی کی وجہ سے ہلاک ہوجائے تو اس پر ضمان لازم آئے گا۔
فتاوی ہندیہ میں ہے :
"الفساد قد يكون لجهالة قدر العمل بأن لا يعين محل العمل، وقد يكون لجهالة قدر المنفعة بأن لا يبين المدة، وقد يكون لجهالة البدل، وقد يكون بشرط فاسد مخالف لمقتضى العقد فالفاسد يجب فيه أجر المثل ولا يزاد على المسمى إن سمى في العقد مالا معلوما، وإن لم يسم يجب أجر المثل بالغا ما بلغ وفي الباطل لا يجب الأجر والعين غير مضمونة في يد المستأجر سواء كانت صحيحة أو فاسدة أو باطلة هكذا في الغياثية."
(كتاب الإجارة، الباب الخامس عشر في بيان ما يجوز من الإجارة....، الفصل الأول فيما يفسد العقد فيه، ج : 4، ص : 439، ط : رشیدیه)
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام میں ہے :
"وتكون الإجارة فاسدة إذا فقد شرط من شروط صحتها والإجارة الفاسدة نافذة ويلزم فيها أجر المثل لا الأجر المسمى ويلزم أجر المثل أحيانا بالغا ما بلغ وأحيانا يلزم على أن لا يتجاوز الأجر المسمى (انظر المادة 462)."
وفیہ ایضا ً:
"خامسا - تكون الإجارة فاسدة بجهالة الأجرة (انظر المادة 450)."
(الكتاب الثاني الإجارة، الباب الثاني في بيان المسائل المتعلقة بالإجارة، الفصل الرابع في فساد الإجارة وبطلانها، ج : 1، ص : 511،513، ط : دار الجیل)
مجلة الأحكام العدلية میں ہے :
"(المادة 600) المأجور أمانة في يد المستأجر إن كان عقد الإجارة صحيحا أو لم يكن.
(المادة 601) لا يلزم الضمان إذا تلف المأجور في يد المستأجر ما لم يكن بتقصيره أو تعديه أو مخالفته لمأذونيته.
(المادة 602) يلزم الضمان على المستأجر لو تلف المأجور أو طرأ على قيمته نقصان بتعديه. مثلا لو ضرب المستأجر دابة الكراء فماتت منه أو ساقها بعنف وشدة هلكت لزمه ضمان قيمتها."
(الكتاب الثاني: في الإجارات،الباب الثامن في بيان الضمانات، الفصل الثاني: في ضمان المستأجر، ص : 112، ط : نور محمدکتب خانه)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144701101364
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن