
اگر کوئی شخص وعدہ کرے کہ میں نے فلاں کام کیا تو میں مشرک اور وہ کام کیا تو کیا وہ مشرک ہوا؟ جب کہ اس کو یہ وعدہ توڑتے کرتے وعدہ کے متعلق کوئی بات ذہن میں نہیں آئی اور بعد میں اسے یاد آیا ، اور وعدہ کرتے وقت اس نے جلدی میں وعدہ کر لیا تھا۔
صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ شخص نے جلدی اور بے دہیانی میں یہ کہہ دیا کہ : ” میں نے فلاں کام کیا تو میں مشرک ہوں گا“ اور بعد میں یہ بات یاد نہ ہوتے ہوئے اس نے وہ کام کرلیا تو ایسی صورت میں وہ شخص دائر ہ اسلام سے خارج نہیں ہوا، البتہ اس پر قسم کا کفارہ ادا کرنا لازم ہوگا،اور آئندہ اس قسم کی قسمیں اٹھانے سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔
باقی قسم کا کفارہ یہ ہے کہ دس مسکینوں کو دو وقت کا کھانا کھلا دے اور جن مسکینوں کو صبح کھانا کھلایا ان کو شام کو بھی کھلادے یا دس مسکینوں میں سے ہر ایک کو صدقۃ الفطر کی مقدار ( یعنی پونے دو کلو) گندم یا اس کی قیمت دے دے، یا دس مسکینوں کو ایک ایک جوڑا کپڑا دے دے۔ اور اگر کھانا کھلانے یا ایک ایک جوڑا کپڑا دینے کی استطاعت نہیں تو قسم کے کفارے کی نیت سے مسلسل تین روزے رکھ لے۔
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"ولو قال: إن فعل كذا فهو يهودي، أو نصراني، أو مجوسي، أو بريء من الإسلام، أو كافر، أو يعبد من دون الله، أو يعبد الصليب، أو نحو ذلك مما يكون اعتقاده كفرا فهو يمين استحسانا كذا في البدائع. حتى لو فعل ذلك الفعل يلزمه الكفارة، وهل يصير كافرا اختلف المشايخ فيه قال: شمس الأئمة السرخسي - رحمه الله تعالى -: والمختار للفتوى أنه إن كان عنده أنه يكفر متى أتى بهذا الشرط، ومع هذا أتى يصير كافرا لرضاه بالكفر، وكفارته أن يقول: لا إله إلا الله محمد رسول الله، وإن كان عنده أنه إذا أتى بهذا الشرط لا يصير كافرا لا يكفر".
(کتاب الأیمان، الباب الثاني، الفصل الأول في تحليف الظلمة وفيما ينوي الحالف غير ما ينوي المستحلف، 2/ 52، ط: مکتبة رشیدیة)
شرح ملّا علی القاری علی الفقه الأ کبرمیں ہے:
"و إذا قال هو یهودي أو نصراني أو مجوسي أو بريء من الإسلام أو ما أشبه ذلك، إن فعل کذا علی أمر في المستقبل فهو یمین عندنا، والمسئلة معروفة، فإن أتی بالشرط وعندہ أنه یکفر کفر، و إن کان عندہ أنه لایکفر متی أتی بالشرط لایکفر متی أتی به، وعلیه کفارۃ الیمین أي لاغیر، ویکون قصدہ بذلك الکلام المبالغة عن امتناعه وتقبیحه لذلك المرام، و إن حلف بهذہ الألفاظ علی أمر في الماضي، وعندہ أنه لایکفر کاذبا لا کفارۃ علیه لأنه غموس أي بغمس صاحبه في النار لکونه كبیرۃ ".
(مطلب في إیراد الألفاظ المکفرۃ، فصل في الکفر صریحا وکنایة، ص:191، ط: مکتبة رحمانیة)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(و) القسم أيضا بقوله (إن فعل كذا فهو) ... شريك للكفار أو (كافر) فيكفر بحنثه لو في المستقبل، أما الماضي عالما بخلافه فغموس. واختلف في كفره (و) الأصح أن الحالف (لم يكفر) سواء (علقه بماض أو آت) إن كان عنده في اعتقاده أنه (يمين وإن كان) جاهلا.(قوله : فيكفر بحنثه) أي تلزمه الكفارة إذا حنث إلحاقا له بتحريم الحلال، لأنه لما جعل الشرط علما على الكفر وقد اعتقده واجب الامتناع وأمكن القول بوجوبه لغيره جعلناه يمينا نهر".
(کتاب الأیمان، 3/ 717- 718، ط:سعید)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144706101449
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن