بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کسی کا سونا ریفائن کرانے کے لیے دینا اور اس کے ضائع ہونے کی صورت میں ضمان کا حکم


سوال

مسقط میں دو سناروں نے اپنے سونے کو ریفائن کروانا تھا،  ایک نے دوسرے سے کہا کہ:  میرا جاننے والا بندہ ہے جو سستے دام میں ریفائن کرے گا ، لہذا  تم اپنا سونا مجھے دو تاکہ میں اس سے ریفائن کراؤں تو تمہیں نفع ہوگا اور خرچہ کم آئے گا،  اس نے بھروسہ کر کے دے دیا جو تقریبا آدھا کلو سونا تھا،  لیکن بدقسمتی سے وہ تیسرا آدمی جو  ریفائن کرنے والا تھا،  وہ سونا لے کر بھاگ گیا،  اب اس سونے کا مالک اس دوسرے اپنے ساتھی کو کہتا ہے کہ : تم اس کا تاوان دے دو ، کیوں کہ میں نے تم پر بھروسہ کر کے تمہیں دیا تھا،  اور مسقط کے صرافہ بازار میں عام عرف بھی یہی ہے کہ اگر اس طرح کوئی کسی کو سونا دے دے تو وہ  اس کا  ضامن ہوتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا یہ شخص جس نے اپنے ساتھی کا سونا تیسرے آدمی کو ریفائن کرنے کے لیے دیا ضامن ہوگا یا نہیں ؟

نوٹ : پہلے اور دوسرے آدمی کے درمیان کوئی اجرت یا کمیشن کی بات نہیں تھی بلکہ یہ بلا عوض اور بلاکمیشن کے  وہ یہ کام کر رہا تھا۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر      ایک سنار نے دوسرے سنار  کو یہ کہا کہ :  ”  میرا جاننے والا بندہ ہے جو(سونا) سستے دام میں ریفائن کرے گا ، لہذا  تم اپنا سونا مجھے دو تاکہ میں اس سے ریفائن کراؤں تو تمہیں نفع ہوگا اور خرچہ کم آئے گا“ اس پر دوسرے سنار نے اس کو سونا حوالہ کردیا، پھر اس نے خود    وہ  سونا  اپنے  جاننے والے  کو ریفائن کے لیے دیا، اور اس  صرافہ بازار کا عام عرف یہی ہے کہ  اس طرح کوئی سونا کسی کو دے تو  جس کو سونا دیا جائے وہ  اس کا ضامن ہوتا ہے،   اب اگر وہ تیسرا  شخص (ریفائن کرنے والا) فرار ہوگیا ہے تو  یہ درمیان والے سنار پر لازم ہوگا کہ اس کو تلاش کرکے اس  سے سونا وصول کرکے  مالک کو واپس کرے، یہ اس کی ذمہ داری ہے، اگر وہ نہ مل سکے تو پھر فریقین کو مل بیٹھ کر مصالحت کرلینی چاہیے؛ تاکہ کسی کو بھی  زیادہ نقصان نہ ہو۔

البتہ اگر   درمیان والے سنار  نے صرف مشورہ دیا تھا کہ فلاں شخص سستے داموں سونا ریفائن کرتا ہے ، پھر مالک نے خود اس کو سونا حوالہ کیا، یا اس مارکیٹ کا عام عرف اس طرح کے معاملہ میں ذمہ داری اور کفالت کا نہیں ہے تو ایسی  صورت میں  یہ درمیان والا شخص ضامن نہیں بنے گا،  اس  لیے کہ  محض کسی کام کے مشورہ دینے او ر بعد میں نقصان ہوجانے کی صورت میں  مشورہ دینے والا صرف مشورہ دینے کی وجہ سے تاوان کا ذمہ دار نہیں بنتا،  نیز  کوئی شخص کسی بھی معاملہ میں دوسرے  کے مال کا ذمہ دار تب بنتا ہے جب وہ اپنی مرضی سے اس کی طرف سے ذمہ داری بھی  قبول کرلے، اور یہ ذمہ داری قبول کرنا خواہ مشروط ہو یا معروف ہو۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"(أما) الركن فهو الإيجاب والقبول الإيجاب من الكفيل والقبول من الطالب ... الكفالة ليست بالتزام محض بل فيها معنى التمليك لما نذكر والتمليك لا يتم إلا بالإيجاب والقبول كالبيع."

(كتاب الكفالة، 2/6، ط:سعيد)

الأشباه والنظائر - ابن نجيم ميں هے:

"قال في إجارة الظهيرية: المعروف عرفا كالمشروط شرعا (انتهى) ... ولذا قالوا: المعروف كالمشروط، فعلى المفتى به صارت عادته كالمشروط صريحا...    ورد علي سؤال فيمن آجر مطبخا لطبخ السكر وفيه فخار، أذن للمستأجر في استعمالها فتلف ذلك، وقد جرى العرف في المطابخ بضمانها على المستأجر. فأجبت بأن المعروف كالمشروط فصار كأنه صرح بضمانها عليه. والعارية إذا اشترط فيها الضمان على المستعير تصير مضمونة عندنا في رواية، ذكره الزيلعي في العارية وجزم به في الجوهرة."

 (‌‌القاعدة السادسة: العادة محكمة، ص84، ط: دار الكتب العلمية)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144707102194

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں