
ایک بندہ ہے، اس کا معاملہ سرکاری محکمے میں ہے اور اس کی اوپر تک کوئی پہنچ نہیں ہے، دوسرا ایک بندہ جس کی سرکاری بندوں کے ساتھ کافی اچھی گپ شپ ہے، یہ دوسرا بندہ پہلے بندے کو سرکاری بندے کے ساتھ ملواتا ہے۔
پوچھنا یہ ہے کہ اگر سرکاری بندہ پہلے بندے کا کام کر لیتا ہے پھر وہ دوسرے کو اپنی مرضی سے کوئی پیسے دے تو کیا اس کا پیسہ اپنے استعمال میں لانا جائز ہے یا نہیں؟ جب کہ دوسرے بندے نے کسی قسم کی کوئی بات نہیں کی اور نہ ہی مطالبہ کیا ہے اور اگر پہلا بندہ یا سرکاری بندہ اگر آپس میں کوئی رشوت وغیرہ کا معاملہ کریں تو کیا اس سے دوسرے بندے کو گناہ ہوگا یا نہیں؟
ان کا آپس میں پہلے اس طرح کا کوئی معاملہ نہیں ہوا، پہلی مرتبہ ہے، اس مرتبہ بھی کوئی چیز پہلے سے طے نہیں ہے، بس پوچھنا ہے کہ اگر وہ دے تو لے سکتے ہیں؟
صورتِ مسئولہ میں اگر ایک شخص دوسرے شخص کی مدد کرنے کے لیے سرکاری افسران سے ملاقات کرواتا ہے، نہ پیشگی رقم کا مطالبہ کرتا ہے اور نہ ان کا آپس میں ایسا کوئی لین دین کا کوئی معاملہ ہے (جس کی بناء پر معروف کو مشروط قرار دیا جائے) پھر اس ملاقات کروانے کے بعد ملاقات کروانے والے کو بخوشی کوئی چیز ہدیہ کے طور پر دی جائے تو اس کو رشوت نہیں کہا جائے گا، اس کو ہدیہ کہا جائے گا۔
باقی اگر سرکاری لوگ اور پہلا بندہ (جس کا کوئی مسئلہ ہے) آپس میں کوئی رشوت کا لین دین کرتے ہیں تو اس کی وجہ سے دوسرے بندے (ملاقات کروانے والے) کو کوئی گناہ نہیں ہو گا۔
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
"إذا لم يشترط ذلك صريحا ولكن إنما يهدي إليه ليعينه عند السلطان، وفي هذا الوجه اختلف المشايخ - رحمهم الله تعالى -، وعامتهم على أنه لا يكره هذا إذا لم تكن بينهما مهاداة قبل ذلك بسبب من الأسباب، وأما إذا كانت بينهما مهاداة قبل ذلك بسبب صداقة أو قرابة فأهدى إليه كما كان يهدي قبل ذلك ثم إن المهدى إليه قام لإصلاح أمره فهذا أمر حسن؛ لأنه مجازاة الإحسان بالإحسان، ومقابلة الكرم بالكرم."
(كتاب ادب القاضي ، الباب التاسع ، جلد : 3 ، صفحه : 332 ، طبع : دار الفكر)
کشاف اصطلاحات الفنون میں ہے:
"ومنها إذا دفع الرّشوة ليسوّى أمره عند السلطان حلّ للدافع ولا يحلّ للآخذ، وهذا إذا أعطى الرّشوة بشرط أن يسوّى أمره عند السلطان، وإن طلب منه أن يسوّي أمره ولم يذكر له الرّشوة ولم يشترط أصلا ثم أعطاه بعد ما سوي أمره اختلفوا فيه. قال بعضهم لا يحلّ له. وقال بعضهم يحلّ وهو الصحيح، لأنّه من المجازاة الإحسان بالإحسان فيحل."
(حرف الراء ، جلد : 1 ، صفحه : 864 ، طبع : مكتبه لبنان ناشرون)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144703101529
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن