بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 صفر 1448ھ 21 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

کسی ایک مسئلے میں اپنے مسلک کو چھوڑ کر دوسرے امام کا مسلک یا قول اختیار کرنے کاحکم


سوال

 1۔ اگر ایک حنفی شخص کسی فقہی مسئلے میں کسی دوسرے مسلک یا حضرت ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے قول کو اختیار کر لے، اور اس کا ایسا کرنا خواہشِ نفس یا سہولت کی بنا پر نہ ہو، بلکہ اس کے لیے اپنے ہی مسلک کے قول پر عمل کرنا زیادہ آسان ہو بعد میں وہ اپنے اس عمل پر نادم ہو اور یہ سوچے کہ مجھے دوسرے قول کی طرف جانا ہی نہیں چاہیے تھا، اس رائے میں تو میرے لیے زیادہ پیچیدگیاں بنتی ہیں۔ اور اب وہ صرف اپنے مسلک کے قول پر ہی عمل کرنا چاہتا ہو۔ پھر وہ اپنے ذہن میں یہ سوچے کہ: چونکہ وہ بھی مجتہد ہیں، اس لیے اگر میں نے ان کا قول اختیار کر لیا تھا تو کہیں ایسا نہ ہو کہ اب شرعا میرے لیے وہی لازم ہو گیا ہو۔ یہ بات پھر بار بار اس کے ذہن میں آئے اور خدشہ اور سوچ پیدا کرے۔ حالانکہ وہ یہ بھی جانتا ہو کہ اپنے مسلک کے خلاف قول اختیار کرنا تقلید کے اصول کے خلاف ہے، اور جمہور کے معتبر قول کے خلاف عمل کرنا بھی حرام ہے۔ پھر اسے یہ خوف بھی لاحق ہو جائے کہ کہیں صرف اس طرح اللہ کی طرف سے لزوم ہو جانے کے بارے میں سوچنے سے ہی وہ قول میرے لیے لازم نہ ہو گیا ہو۔ بعد میں وہ خود یہ بھی سوچے کہ محض خیالات یا سوچنے سے کوئی شرعی حکم لازم نہیں ہو جاتا، لہٰذا اس طرح سوچنا درست نہیں، بلکہ یہ گویا اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی حلال چیز کو اپنے اوپر حرام قرار دینے کے مترادف ہے۔ اس کے باوجود سوچ اور سوال بار بار دل میں ہو اور وہ بار بار اسی بارے میں اطمینان حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہے۔

2۔ اسی طرح دیگر معاملات میں بھی اسے بار بار یہ خدشہ لاحق رہتا ہو کہ کہیں میرے کسی خیال، گمان، وہم، شک یا کسی عمل کی وجہ سے کوئی چیز میرے لیے ناجائز نہ ہو گئی ہو، یا کہیں مجھ پر کوئی شرعی حکم لازم یا زیادہ سخت نہ ہو گیا ہو۔ جب کہ وہ دل میں جانتا ہوں کہ ایسا نہیں ہوتا۔

3۔ اسی طرح اس شخص کا کیا حکم ہے جس کو دل میں کسی مسئلے کے متعلق یقین ہو مگر ذہنی تشفی کے لیے کسی مستند مفتی سے پوچھے یا بار بار اس کے متعلق سوچے۔ اس پوری کیفیت میں شریعت کا کیا حکم ہے، کیا اس طرح متعلقہ شخص کے لیے کوئی حکم شرعی بدلتا ہے ؟ نوٹ: اگر وہ دوسرا قول راجح سمجھ کر لے تب اور اگر راجح سمجھ کر نہ لے دونوں صورتوں میں حکم واضح فرما دیں۔

جواب

ائمۂ اربعہ میں سے کسی ایک امام کا مقلد ہوتے ہوئے کسی خاص مسئلے میں کسی اور امام کے مذہب پر عمل کرنا چند شرائط کے ساتھ جائز ہے، چنانچہ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ  ’’حیلۂ ناجزہ‘‘ میں لکھتے ہیں: 

’’مذہبِ غیر پر عمل کرنا ضرورتِ شدیدہ کی بنا پر ہو، اتباع ہویٰ کے لیے نہ ہو، (عمل واحد میں)تلفیق خارق اجماع نہ ہو۔‘‘

اسی طرح محدث العصرحضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ  اپنے ایک مضمون میں کسی دوسرے امام کے مذہب پر فتوی دینے اور اس پر عمل کرنے کی شرائط ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’ البتہ تلفیق سے احتراز کرناضروری ہے اور تتبع رخص کو مقصد نہ بنایا جائے۔‘‘

(فتاوی بینات، مقدمہ، عنوان:جدید فقہی مسائل اور چند رہنما اصول،ج: 1، ص: 28، ط: مکتبۂ بینات)

اور حضرت مولانا مفتی رشید احمد گنگوہی رحمہ اللہ نے فتاوی رشیدیہ میں اسی موضوع کے ایک سوال کا جواب یہ دیا ہے:

’’مذہب سب حق ہیں، مذہب شافعی پر عندالضرورت عمل کرنا کچھ اندیشہ نہیں مگر نفسانیت اور لذت نفسانی سے نہ ہو، عذر یا حجت شرعیہ سے ہووےکچھ حرج نہیں۔‘‘

( ص: 93، عنوان:عند الضرورت مذہب شافعی پر عمل کرنا) 

حاصل یہ ہے کہ جب ضرورتِ شدیدہ ہو (جس کے لیے شرعاً اضطرار کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے)اور اپنے مذہب پر عمل کرنے میں حرج و مشقت لازم آتی ہو تو ایسی صورت میں کسی دوسرے امام کے مذہب پر عمل کیا جاسکتا ہے بشرط یہ کہ دوسرے مذہب پر عمل کرنا خواہش نفس اور رخصت کو تلاش کرنے کی بنا پر نہ ہو اور نہ ہی تلفیق سے کام لیا جاتا ہو، لیکن ان شرائط کے متحقق ہونے کا فیصلہ کرنا ہر ایک کا کام نہیں ہے،اس لیے خود کوئی فیصلہ کرنے کی بجائے ماہر اور متبحر مفتیان کرام کے سامنے اپنا مسئلہ اور معروضی حالات پیش کرکےان سے فیصلہ کرایا جائے۔
اس تمہید کے بعد آپ کے سوالوں کے جوابت نمبر وار دیئے جاتے ہیں :

  1. جب مقلد کو معلوم ہے کہ جمہور کی رائے سے اختلاف کرنا،اور کسی ایک مسئلے میں کسی ایک کےمنفرد رائے پر عمل کرنا درست نہیں ،اور اپنے  مسلک کو چھوڑ کر دوسرے مسلک کو اختیار کرنا تقلید  کی خلاف ورزی ہےتو اس کو چاہیے کہ اگر اس طرح کی کوئی رائے اگر اس نے اختیار کی تھی تو اس کو ترک کرکے دوبارہ اپنے مسلک کے مطابق عمل کرے،فضول شکوک وشبہات کو اپنے ذہن میں جگہ نہ دے۔
  2. شکوک وشبہات کی طرف دھیان نہ دیں ،یقینی اور پختہ باتوں پر عمل کریں ۔
  3. اس طرح کی ذہنی کیفیت  سے شریعت کا کوئی حکم تبدیل نہیں ہوتا،تاہم اپنے مسلک کے کسی قول کو راجح یا غیر راجح قرار دینا،اور اس کی بنیاد پر کسی دوسرے مسلک کے  قول کو ترجیح دے کر اس کو اختیار کرنا یہ مقلد کا وظیفہ اور کام نہیں ،بلکہ مقلد کا کام پوچھ پوچھ کر عمل کرنا ہے،لہذا دونوں صورتوں میں مقلد کے لیے کسی ماہر اور متبحر عالم کے سامنے اپنی معروضی صورت پیش کیے بغیر کسی ایک مسئلے میں خروج عن المذہب جائز نہیں۔

شرح عقود رسم المفتی میں ہے:

"وبه علم أن المضطر له العمل بذلك لنفسه كما قلنا وأن المفتي له الإفتاء به للمضطر. فما مر من أنه ليس له العمل بالضعيف ولا الإفتاء به محمول على غير موضع الضرورة، كما علمته من مجموع ما قررناه. والله تعالى أعلم... قال في خزانة الروايات: العالم الذي يعرف معنى النصوص والأخبار، وهو من أهل الدراية يجوز له أن يعمل عليها وإن كان مخالفا لمذهبه. انتهى"

(ص: 89، ط: البشری)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144801101225

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں