
میں اور ایک کرسچن لڑکی ایک جگہ ساتھ کام کرتے ہیں،اس کے بعد میرے اس کے ساتھ تعلقات ہونے لگے اور ہم ایک دوسرے کے قریب ہوگئے،اب میں مسلمان ہوں،اور وہ کرسچن ہے،لیکن وہ مسلمان ہونے کے لیے راضی ہے،اور وہ چاہتی ہے کہ میں مسلمان ہوکر تم سے شادی کروں گی۔اب مسئلہ یہ ہے کہ میری پہلے بھی ایک بیوی ہے،وہ اور والدین راضی نہیں ہورہے ۔
تو شریعت کا اس بارے میں کیا حکم ہے؟
کیا میرے والدین اور بیوی کو میری دوسری شادی کرنے پر اعتراض کا حق حاصل ہے؟جبکہ میں اپنی بیوی اور بیٹی کے تمام ضروریات کو پورا کرتا ہوں۔
نامحرم عورتوں سے محبت کرنا ان سے میل جول رکھنا شرعاً نا جائز ہے اور اس طرح کی ناجائز محبت کی اسلام اجازت نہیں دیتا جس سے احتراز لازم ہے ۔تاہم عیسائی لڑکی سے نکاح کرنے کی دو جائز صورتیں ہیں:
1:عیسائی خاتون اگر اپنے اصل دین پر قائم ہو (یعنی لادین و دہریہ نہ ہو) تو اس سے مسلمان مرد کے لیے نکاح جائز ہے، لیکن بہت سے مفاسد کی وجہ سے اچھا نہیں ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دور میں حکم نامہ جاری کیا تھا جس میں ان مردوں کو تنبیہ کی تھی جو مسلمان خواتین کو چھوڑ کر اہلِ کتاب خواتین سے نکاح کریں، نیز اسے دین اور اسلامی معاشرت کے لیے نقصان دہ قرار دے کر بعض کبار صحابہ کو اہلِ کتاب عورتوں سے نکاح سے سختی سے منع فرمایا۔ اور اگر اہلِ کتاب عورت صرف نام کی عیسائی ہو، درحقیقت وہ بے دین/ دہریہ ہو (جیساکہ موجودہ زمانے میں بکثرت ایسے اہلِ کتاب موجود ہیں) تو اس سے نکاح ناجائز ہوگا۔
2:دوسری صورت یہ ہے کہ عیسائی خاتون مذہب نصرانیت سے توبہ تائب ہوکر مسلمان ہوجائے، تو اس صورت میں بھی مسلمان مرد کے ساتھ اس کا نکاح جائز ہوگا۔
لہذا مسئولہ صورت میں عیسائی لڑکی اگر اسلام قبول کر لے تو اس صورت میں سائل کا نکاح اس کے ساتھ جائز ہوگا۔
2:اسلام میں مرد کے لیے بصورتِ استطاعت (یعنی جسمانی اور مالی حقوق کی ادائیگی کے ساتھ ان میں برابری کی قدرت کی صورت میں) بیک وقت چار شادیوں تک کی اجازت ہے، دوسری شادی کرنے کے لیے پہلی بیوی اور والدین کی رضامندی ضروری نہیں۔ لہذاصورتِ مسئولہ میں اگرسائل دوسری شادی کے لیے جسمانی اور مالی طاقت رکھتاہے،اور دوسری شادی کے بعد دونوں بیویوں کے درمیان نان ونفقہ لباس اور شب پاشی میں برابری پر قادر ہو تواس کے لیے دوسری شادی کرنا جائز ہے۔تاہم دوسری شادی کرنے کے لیے پہلی بیوی کی رضامندی حاصل کی جائے تو یہ بہتر ہے تاکہ بعد میں قانونی مسائل پیدا نہ ہو۔
قرآن کریم میں ہے:
﴿ وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوْا فِي الْيَتَامٰى فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ مَثْنٰى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانِكُمْ ذٰلِكَ أَدْنٰى أَلَّا تَعُوْلُوْا ﴾ (النساء:3)
اور اگر تم کواس بات کا احتمال ہو کہ تم یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف نہ کر سکوگے تو اورعورتوں سے جوتم کو پسند ہوں نکاح کرلو دو دوعورتوں سے اور تین تین عورتوں سے اور چارچار عورتوں سے، پس اگر تم کو احتمال اس کا ہو کہ عدل نہ رکھوگے تو پھر ایک ہی بی بی پر بس کرو یا جو لونڈی تمہاری ملک میں ہو وہی سہی، اس امرمذکور میں زیادتی نہ ہونے کی توقع قریب ترہے.( بیان القرآن )
البحر الرائق میں ہے:
"(قوله وحل تزوج الكتابية) لقوله تعالى {والمحصنات من الذين أوتوا الكتاب} [المائدة: 5] أي العفائف عن الزنا بيانا للندب لا أن العفة فيهن شرط وعن ابن عمر أنها لا تحل؛ لأنها مشركة؛ لأنهم يعبدون المسيح وعزيرا وحمل المحصنات في الآية على من أسلم منهن وللجمهور أن المشرك ليس من أهل الكتاب للعطف في قوله تعالى {لم يكن الذين كفروا من أهل الكتاب والمشركين} [البينة: 1] والعطف يقتضي المغايرة وفي قوله تعالى {لتجدن أشد الناس عداوة للذين آمنوا اليهود والذين أشركوا} [المائدة: 82] وفي التبيين ثم كل من يعتقد دينا سماويا وله كتاب منزل كصحف إبراهيم وشيث وزبور داود فهو من أهل الكتاب فتجوز مناكحتهم وأكل ذبائحهم......والأولى أن لا يتزوج كتابية ولا يأكل ذبائحهم إلا لضرورة وفي المحيط يكره تزوج الكتابية الحربية؛ لأن الإنسان لا يأمن أن يكون بينهما ولد فينشأ على طبائع أهل الحرب ويتخلق بأخلاقهم فلا يستطيع المسلم قلعه عن تلك العادة. اهـ. والظاهر أنها كراهة تنزيه."
(کتاب النکاح، باب المحرمات، ج نمبر ۳، ص نمبر ۱۱۰،دار الکتاب الاسلامی)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144707100939
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن