بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کوئی مدرس شعبان سے پہلے استعفی دے تووہ شعبان اور رمضان کی تنخواہ کا حق دار ہے یا نہیں؟


سوال

ایک مدرسہ جو اپنے اساتذہ کو شعبان اور رمضان کی چھٹیوں کی تنخواہ  دیتا ہے،اب اگر کوئی استا ذشعبان سے پہلے استعفی دے  تو کیا اس استاذکو شعبان اور رمضان کی تنخواہ ملے گی یا نہیں؟

اس  شخص نے ایک مدرسہ میں دو سال تدریس کی ہے، پہلے سال اسے مدرسہ کی طرف سے شعبان اور رمضان کی تنخواہ  ملی تھی، اس سال اس نے شعبان تک یعنی اسباق کے اختتام تک پڑھایا، اور استعفی دے دیا، تو اب اس شخص کو اس سال کے شعبان اور رمضان کے مہینوں کی تنخوا ہ ملے گی یا نہیں؟ 

جواب

 صورتِ مسئولہ میں  اگر مذکورہ مدرسہ میں اس بارے میں مدرسہ کا  مقرر کردہ ضابطہ موجود ہو تو اس کے مطابق عمل کیا جاے گا،یعنی  اگر شعبان ورمضان میں استعفیٰ دینے کے باوجود تنخواہ کے استحقاق کا ضابطہ ہو تو ایسا مستعفی مدرس تنخواہ کا مستحق ہوگا، اوراگر نہ دینے کا ضابطہ ہو تو پھر مستحق نہیں ہوگا، اور اگر مدرسہ میں کوئی ضابطہ نہیں ہے تو اس صورت میں مدارس کے عرف اور تعامل کو دیکھا جائےگا،اور اس کے مطابق عمل ہوگا،چناں چہ اس سلسلے میں اہل فتاوی میں سے بعض حضرات نے شعبان و رمضان کی تعطیلات کو سال ماضی کے ساتھ لاحق کرتے ہوئےپورے سال کی تدریس کرنے پر ان ایام تعطیلات کے مشاہرہ کا حق دار قرار دیا ہے،جیسا کہ حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوری اور حضرت مولانا مفتی رشید احمد صاحب لدھیانوی رحمہم اللہ نے تصریح فرمائی ہے،جب کہ دیگر اکابرین حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ ،مولانا عنایت الہی ؒ،مولانا حافظ محمد احمد ؒ، مفتی عبدالرحیم لاجپوریؒ،حضرت مولانا مفتی محمود الحسن گنگوہیؒ ،مولانا عبد الحق حقانی ؒ،مفتی محمد اسحاق ؒ  کی تحقیق کے مطابق مدرس سالانہ ایامِ تعطیلات کی تنخواہ کا مستحق اسی صورت میں ہوگا جب وہ ایامِ تعطیلات میں مدرسے سے استعفاء نہ دے، بلکہ اپنے ادارہ سے وابستہ رہے،اور شوال میں حاضر ہوکر کام شروع کرے۔

ہمارے دارالافتاء کے اکابرین مفتی اعظم پاکستان مفتی ولی حسن ٹونکی رحمہ اللہ،سابق رئیس الجامعہ حضرت مفتی احمد الرحمن صاحب  رحمہ اللہ اورمفتی عبد السلام صاحب چاٹگامی رحمہ اللہ   کا بھی  یہی مؤقف ہےاور دارالافتاء کا یہی فتوی ہے؛کیوں کہ  مدارس دینیہ میں تعلیمی سال مکمل ہونے کے بعد شعبان و رمضان کی تعطیلات کا زمانہ عرفًا ایام عمل کے تابع ہوتاہے کہ ان ایام میں استراحت اور اپنی نجی ضروریات کو نمٹاکر  ایام عمل میں بہتر طور پر اپنی ذمہ داری ادا کرے،اس لیے اس صورت میں مدرس تنخواہ کا حق داراسی وقت ہوگا جب کہ وہ مدرس سالانہ تعطیل  کے  دوران نہ تو کسی مدرسے میں چلا جائے یا جانے کا معاملہ طے کرے،بلکہ اسی مدرسے سے وابستہ رہے،تعطیل کے دوران استعفیٰ دینے کی صورت میں مدرس  ان ایام تعطیل کی تنخواہ کا مستحق  نہیں  ہوگا، الغرض مسئلہ کا مدار عرف وتعامل پر ہے، جیسا عرف ہو ویسے عمل کر لیا جائے۔

 الذخیرۃ البرہانیہ میں ہے:

"وفي الإجارة التي تنعقد علي العمل ويبقي له أثر في العين، فإنه لا يجب عليه إيفاء الأجر إلا بعد إيفاء العمل كله، وإن كان حصة ما استوفي معلومة...والأصل: أن إيفاء أحد البدلين في العقد إذا كان لا يجب بعد استيفاء البدل اللآخر فإنه لا يجب إيفاء شيء منه إلا بعد استيفاء البدل الآخر كما في باب البيع..."

(كتاب الإجارات، الفصل الثاني: في بيان أنه متي يستحق الأجر، ج: 11، ص: 442، ط: دار الكتب العلمية)

وفيه أيضًا:

"والإجارة تنتهي بدخول أول جزء من الغاية."

(كتاب الإجارات، الفصل الثالث: الأوقات التي يقع عليها عقد الإجارة، ج: 11، ص: 457، ط: دار الكتب العلمية)

القواعد الفقہیۃ وتطبيقاتہا فی المذاہب الاربعۃ  میں ہے:

"إنما تُعتبر العادة إذا اطردت أو غَلَبت."

(الباب الأول القواعد الفقھية الأساسية، القاعدة (44)، 5 -إنما تُعتبر العادة إذا اطردت أو غَلَبت ، شرح قاعدةإنما تُعتبر العادة إذا اطردت أو غَلَبت، ص: 323، ط: دار الفکر)

الاشباه والنظائرمیں ہے:

"العادة محكمة...المبحث الثاني: إنما ذا اطّردت أو غلبت...ومنها ‌البطالة ‌في ‌المدارس، كأيام الأعياد ويوم عاشوراء، وشهر رمضان في درس الفقه لم أرها صريحة في كلامهم. والمسألة على وجهين: فإن كانت مشروطة لم يسقط من المعلوم شيء، وإلا فينبغي أن يلحق ببطالة القاضي، وقد اختلفوا في أخذ القاضي ما رتب له من بيت المال في يوم بطالته، فقال في المحيط: إنه يأخذ في يوم البطالة؛ لأنه يستريح لليوم الثاني. وقيل: لا يأخذ (انتهى). وفي المنية: القاضي يستحق الكفاية من بيت المال في يوم البطالة في الأصح، واختاره في منظومة ابن وهبان، وقال: إنه الأظهر فينبغي أن يكون كذلك في المدارس؛ لأن يوم البطالة للاستراحة، وفي الحقيقة يكون للمطالعة والتحرير عند ذي الهمة..."

(الفن الأول قول في القواعد الكلية، القاعدة السادسة، ج: 1، ص: 297-302، ط: دار الكتب العلمية)

إمداد الفتاویٰ میں ہے:

"حکم تنخواه ایام تعطیل و وضع تنخواه ایام رخصت"

سوال (۱۳۰۴) :عربی مدارس میں رمضان شریف کی تعطیل ہوتی ہے،تو اس کی تنخواہ کا بلا معاوضہ کام ہونا تو ظاہر ہے باقی وقت بھی مدرس اپنا وقت مدرسہ میں محبوس نہیں رکھتا کہ اس کی وجہ سے لے سکے اب لینا اس کو کیسے درست ہے اگر مدرسہ کے مہتم کسی مدرس کو شعبان کی ۲۹ تاریخ کو مدرسہ کی ملازمت سے علیحدہ کر دے تو یہ مدرس رمضان کی تنخواہ کا مستحق ہے یا نہیں ؟

مدرس مدرسہ میں بحال رہتے ہوئے رمضان کی تعطیل میں رمضان کی تنخواہ کا کب مستحق ہوگا جب سب رمضان ختم ہو جائے یا ختم شعبان پر ؟

جواب:"تنخواہ تو ایام عمل ہی کی ہے مگر تعطیل کا زمانہ تبعاً ایامِ عمل کے ساتھ ملحق ہے تاکہ استراحت کر کے ایامِ عمل میں عمل کر سکے، اس سے سب اجزاء کا جواب نِکل آیا، اول کا یہ حکماً بلا معاوضہ کام کے نہیں، دوسرے کا یہ شعبان کے ختم پر معزول ہو جانے سے تنخواہ نہ ملے گی ،اور عدم عزل میں رمضان کے ختم پر تنخواہ ملے گی بشرطیکہ شوال میں بھی کام کیا ہو۔"

(كتاب الإجارة،ایام تعطیل کی تنخواہ لینے اور ایام رخصت کی تنخواہ وضع ہونے کا حکم، ج: 3، ص: 348، ط: مکتبہ دار العلوم کراچی)

فتاوی محمودیہ میں ہے:

تعطیل کلاں کے بعد استعفیٰ پر تنخواہ کا استحقاق 

سوال [۷۶۱۰] : پورے سال بھر پڑھانے کے بعد اگر کوئی شخص رمضان کی تعطیل میں استعفیٰ دینا چاہتا ہے تو وہ شرعا رمضان کی تنخواہ کا مستحق ہے یا نہیں ، اگر نہیں ہے تو کیا استحقاق کی کوئی صورت  ہے؟ 

الجواب حامداً ومصلياً: یہاں قانون یہ ہے کہ رمضان کی تنخواہ کا استحقاق تعطیل ہونے کی صورت میں اُس وقت ہے جب کہ شوال میں مدرسہ کھلنے پر حاضر ہو کر کام کرے ورنہ استحقاق نہیں، وہاں کا قانون بھی یہی ہو تو حکم بھی یہی ہوگا ۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم

(باب ما یتعلق بالمدارس،ج:15،ص:530،ط:جامعہ فاروقیہ کراچی)

حضرت مفتی عبدالسلام صاحب چاٹگامی رحمہ اللہ ایک استفتاء کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں:

"شعبان میں تدریس سے جواب دے کر چلے جانے والے مدرس کا رمضان کی تنخواہ کا مطالبہ کرنا"

مسئلہ اگر مدرس صاحب شعبان میں جواب دے کر چلے جائیں تو کیا وہ رمضان کی تنخواہ کے مستحق ہوں گے یا نہ؟

جو مدرس شوال میں ان کا تقرر ہوتا ہے اور رمضان سے قبل چلا جاتا ہے، شرعاً رمضان کی تنخواہ اسے نہیں ملے گی، کیوں کہ تدریس اجارہ ہے، اور عقد اجارہ میں تسلیم نفس ضروری ہے، خواہ حقیقتاً ہو یا حکماً ، ایامِ تعطیل میں بھی حکماً تسلیم نفس تصور کیا جاتا ہے، جب کہ مدرس صاحب نے ملازمت چھوڑی نہ ہو۔ اور اگر جو مدرس شعبان میں نہیں جاتا بلکہ شوال میں یا شوال کے بعد جاتا ہے تو ، وہ گزشتہ رمضان المبارک کی تنخواہ کا مستحق ہے۔ یہ تو اس صورت میں جب کہ فریقین میں کچھ معاہدہ نہ ہوا ہو، البتہ اگر مدرس اور مہتمم کے درمیان معاہدہ ہوا ہے کہ جب تدریس الگ کیا جاوے ایک ماہ کی تنخواہ دی جائے تو دینی ہوگی، یا شعبان میں چلے جانے کی صورت میں رمضان کی تنخواہ ملے گی تو اس وقت معاہدہ کا اعتبار ہوگا۔ 

(ماخوذ از سابقہ فتاوی دارالافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیہ،فتوی نمبر:140201300031)

(ایضا، فتوی نمبر:140110300005)

(ایضا،فتوی نمبر:139601300078)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144608100299

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں