بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کنڈوم کے استعمال اور اس کی خرید و فروخت کا شرعی حکم


سوال

ہمبستری کے دوران حفاظتی آلہ (کنڈوم) استعمال کرنے کا شرعی حکم کیا ہے؟ اور اس کی خرید و فروخت کا شرعی حکم کیا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ اولاد کی  کثرت  نکاح کے منجملہ مقاصد میں سے ایک اہم مقصد ہے اور شریعت کے اندر مطلوب و محمود بھی ہے،  اس لئے بلاضرورت کوئی بھی ایسا ذریعہ استعمال کرنا جو مانعِ حمل ہو، ناپسندیدہ عمل ہے، تاہم اگر عورت کم زور ہو اور اس کی صحت حمل کی متحمل نہ ہو یا بچے ابھی چھوٹے ہوں،  تو عارضی طور پرکنڈوم یا کسی بھی مانعِ حمل تدبیر اختیار کرنے کی گنجائش ہے۔ نیز کنڈوم کی خرید و فروخت بھی شرعاً  منع نہیں ہے۔

الدر المختار مع رد المحتار میں ہے:

"(ويعزل عن الحرة) وكذا المكاتبة نهر بحثا (بإذنها) لكن في الخانية أنه يباح في زماننا لفساده ، قال الكمال: فليعتبر عذرا مسقطا لإذنها.

(قوله لكن في الخانية) عبارتها على ما في البحر: ذكر في الكتاب أنه لا يباح بغير إذنها وقالوا في زماننا يباح لسوء الزمان. اهـ. (قوله قال الكمال) عبارته: وفي الفتاوى إن خاف من الولد السوء في الحرة يسعه العزل بغير رضاها لفساد الزمان، فليعتبر مثله من الأعذار مسقطا لإذنها. اهـ. فقد علم مما في الخانية أن منقول المذهب عدم الإباحة وأن هذا تقييد من مشايخ المذهب لتغير بعض الأحكام بتغير الزمان، وأقره في الفتح وبه جزم القهستاني أيضا حيث قال: وهذا إذا لم يخف على الولد السوء لفساد الزمان وإلا فيجوز بلا إذنها. اهـ. لكن قول الفتح فليعتبر مثله إلخ يحتمل أن يريد بالمثل ذلك العذر، كقولهم: مثلك لا يبخل. ويحتمل أنه أراد إلحاق مثل هذا العذر به كأن يكون في سفر بعيد، أو في دار الحرب فخاف على الولد، أو كانت الزوجة سيئة الخلق ويريد فراقها فخاف أن تحبل، وكذا ما يأتي في إسقاط الحمل عن ابن وهبان فافهم."

(كتاب النكاح، باب نكاح الرقيق، مطلب في حكم العزل، ج:3، ص:175، ط:سعيد)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144703101401

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں