
میری عمر جب چودہ سال تھی،میں عاقل اور بالغ تھا،تو اس وقت میں نے اپنے ایک دوست سے کہا تھا کہ میرا ایک دوسرا دوست ہے،اس کے ساتھ باتیں نہیں کروں اور اگر تم نے اس کے ساتھ باتیں کی،الفاظ میں کچھ تردد ہے مجھے"تو میں کلما طلاق کی قسم اٹھا کر یا کھا کر کہتا ہو ں کہ میں پھر آپ سے باتیں نہیں کروں گا"یا یہ الفاظ تھے کہ میں کلما کی طلاق اٹھا کر یا کھا کر کہتا ہوں یا کلما کی قسم اٹھا کر یا کھا کر "پھر اس کے بعد میرے اس مذکورہ دوست نے اس سے باتیں کرنا شروع کی،تو میں نے اپنے اس دوست سے باتیں کرنا چھوڑ دیا،پھر کچھ عرصہ بعد میں نے جس دوست کے ساتھ باتیں نہ کرنے پر مذکورہ الفاظ کے ساتھ قسم کھائی تھی ،اس کے ساتھ میں نے باتیں کرنا شروع کیا۔
اب میں شادی کرنا چاہتاہوں،تو کیا ان الفاظ کی وجہ سے میں جس عورت کے ساتھ شادی کروں گا،اس کو طلاق واقع ہوجائے گی؟
واضح رہے کہ عام لوگوں میں جو "کلما کی قسم" مشہور ہے، اس سے مراد یہ لی جاتی ہے کہ اگر کوئی شخص نکاح کرے تو اس کی بیوی پر طلاق واقع ہوجاتی ہے۔ دراصل اس کی حقیقت یہ ہے کہ اگر کوئی شخص یوں قسم کھائے کہ: "جب جب میں کسی عورت سے نکاح کروں گا تو وہ مجھ پر طلاق ہوگی"، تو ایسی صورت میں وہ جب بھی کسی عورت سے نکاح کرے گا تو نکاح کے ساتھ ہی فوراً طلاق واقع ہوجائے گی، اور نتیجتاً اس کے نکاح میں کوئی عورت باقی نہیں رہے گی۔ یہی اصل "کلما کی قسم" ہے، جس کا شریعت میں معتبر حکم موجود ہے۔
لیکن اگر کوئی محض یہ الفاظ کہے کہ: "میں کلما کی قسم کھاتا ہوں"، تو یہ شریعت کی رو سے معتبر قسم نہیں، خواہ دل میں قسم ہی کی نیت کیوں نہ ہو، اس سے نہ قسم کے احکام مرتب ہوں گے اور نہ طلاق کے، اس کی وجہ یہ ہے کہ شریعت میں محض نیت کا اعتبار نہیں بلکہ الفاظِ صریح کا اعتبار ہوتا ہے۔ پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ اس طرح کے الفاظ عموماً غیر شادی شدہ نوجوانوں کی زبان پر آتے ہیں، حالانکہ طلاق کے وقوع کے لیے ضروری ہے کہ یا تو طلاق دینے والے کے نکاح میں بیوی موجود ہو یا کم از کم عورت کی طرف نسبت پائی جائے، جبکہ ان الفاظ میں دونوں چیزیں موجود نہیں ہوتیں۔
لہٰذا سوال میں ذکر کردہ جملے مثلاً: "میں کلما طلاق کی قسم اٹھا کر یا کھا کر کہتا ہوں کہ میں پھر آپ سے باتیں نہیں کروں گا"، یا "میں کلما کی طلاق اٹھا کر یا کھا کر کہتا ہوں"، یا "میں کلما کی قسم اٹھا کر یا کھا کر کہتا ہوں" ان سب کی شرعی حیثیت یہ ہے کہ اگر بعد میں سائل نے نکاح کیا ،تو اس نکاح کے بعد اس کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی۔
جیسا کہ فتاوی شامی میں ہے:
"قال في [نور العين] الظاهر أنه لا يصح اليمين لما في البزازية من كتاب ألفاظ الكفر: إنه قد اشتهر في رساتيق شروان أن من قال جعلت كلما أو علي كلما أنه طلاق ثلاث معلق، وهذا باطل ومن هذيانات العوام اهـ فتأمل."
(کتاب الطلاق، باب صریح الطلاق، ج: 3، ص: 247، ط: ایچ ایم سعید)
وفیه أ یضا:
"لو قال: إن خرجت يقع الطلاق أو لا تخرجي إلا بإذني فإني حلفت بالطلاق فخرجت لم يقع لتركه الإضافة إليها(قوله لتركه الإضافة) أي المعنوية فإنها الشرط والخطاب من الإضافة المعنوية، وكذا الإشارة نحو هذه طالق، وكذا نحو امرأتي طالق وزينب طالق. اهـ. أقول: وما ذكره الشارح من التعليل أصله لصاحب البحر أخذا من قول البزازية في الأيمان قال لها: لا تخرجي من الدار إلا بإذني فإني حلفت بالطلاق فخرجت لا يقع لعدم حلفه بطلاقها، ويحتمل الحلف بطلاق غيرها فالقول له. اهـ. ومثله في الخانية،"
(کتاب الطلاق، باب صریح الطلاق، ج: 3، ص: 248، ط: ایچ ایم سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144703101787
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن