بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 محرم 1448ھ 21 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

والدین کی رضا کے بغیر ہم کفو نکاح کا حکم اور قبائلی سزا کا شرعی جواز


سوال

ایک لڑکی نے والدین کی اجازت کے بغیر نکاح کیا،جب کہ لڑکا اور لڑکی دونوں عاقل اور بالغ ہیں،اور دونوں ایک دوسرے کے ہم پلہ اور کفو ہیں،(یعنی اسلام ،حریت ،دین داری، مال ،پیشہ، نسب میں دونوں ایک دوسرے کے برابر ہیں) پھر جرگہ میں لڑکے کے خلاف بیس لاکھ روپے بطور جرمانہ لازم کیا گیا،اور جرگے کے فیصلہ کے مطابق لڑکے کو چند سالوں کے لیے گاؤں سے نکالا گیا۔

جرگہ کا یہ فیصلہ ازروئے شریعت درست ہے یا نہیں؟

اگر یہ فیصلہ شریعت کے خلاف ہے تو پھر جرگہ والوں کے لیے کیا وعید ہے؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں مذکورہ لڑکے اور لڑکی کو چاہیے تھا کہ اولیاء کی سرپرستی میں نکاح کرتے، تاکہ یہ اختلافی صورت  ہی پیدا نہ ہوتی، تاہم مذکورہ  نکاح شرعًا منعقد ہوگیا ہے۔

اب جرگے کا مالی جرمانہ عائد کرنا اور گاؤں سے نکالنے کا فیصلہ شرعًا درست نہیں،  جرگے والوں کو چاہیے کہ اپنے اس فیصلہ سے رجوع کریں،بصورتِ  دیگر  جرگے والے شریعت کے خلاف فیصلہ کرنے کی وجہ سے گناہ گار ہوں گے۔

جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے:

﴿إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ وَيَبْغُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ، أُولَٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾(الشورى: الآیة   : 42)

ترجمہ: "الزام تو ان لوگوں پر ہے جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق سرکشی کرتے ہیں، یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے دردناک عذاب ہے۔"

 ارشاد باری تعالی ہے:

﴿وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّهُ فَأُوْلَٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ﴾(المائدہ: الآیة   : 45)

ترجمہ: "اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ نہ کریں، تو وہی لوگ ظالم ہیں۔"

سنن ابی داؤد  میں ہے:

"حدثنا محمد بن حسان السمتي ، نا خلف بن خليفة ، عن أبي هاشم ، عن ابن بريدة ، عن أبيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «‌القضاة ‌ثلاثة: ‌واحد ‌في ‌الجنة، ‌واثنان ‌في ‌النار، فأما الذي في الجنة: فرجل عرف الحق فقضى به، ورجل عرف الحق فجار في الحكم فهو في النار، ورجل قضى للناس على جهل فهو في النار.» قال أبو داود : هذا أصح شيء فيه يعني: حديث ابن بريدة: القضاة ثلاثة."

(باب فی القاضی یخطئ، ج: 3، ص: 324، رقم الحدیث: 3573، ط: المطبعة  الأنصاریة  بدهلی ،الهند)

ترجمہ :"نبی کریم ﷺ نے فرمایا:قاضی تین قسم کے ہوتے ہیں:ایک جنت میں ہے، اور دو جہنم میں،جو قاضی حق کو پہچان کر اس کے مطابق فیصلہ کرے، وہ جنت میں ہے،اور جو حق کو پہچانتا ہو، مگر جان بوجھ کر اس کے خلاف فیصلہ کرے، وہ جہنم میں ہے،اسی طرح جو شخص علم کے بغیر (نادانی سے) لوگوں کے درمیان فیصلے کرے، وہ بھی جہنم میں ہے۔"

(یعنی نجات صرف اسی قاضی کو ہے جو علم و انصاف کے ساتھ حق کے مطابق فیصلہ کرے، نہ کہ خواہشات یا جہالت کے تحت۔)

  مسند احمد میں ہے:

"حدثنا أبو سعيد مولى بني هاشم، حدثنا سليمان بن بلال، عن سهيل بن أبي صالح، عن عبد الرحمن بن سعيدعن أبي حميد الساعدي، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " لا يحل لامرئ أن يأخذ مال أخيه بغير حقه " وذلك لما حرم الله مال المسلم على المسلم.

وقال عبيد بن أبي قرة: حدثنا سليمان، حدثني سهيل، حدثني عبد الرحمن بن سعيد، عن أبي حميد الساعدي، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " لا يحل للرجل أن يأخذ عصا أخيه بغير طيب نفسه " وذلك لشدة ما حرم رسول الله صلى الله عليه وسلم من مال المسلم على المسلم."

‌‌(مسند ابی حمید الساعدی، ج: 39، ص: 18، رقم الحدیث: 23605، ط: مؤسسةالرسالة)

فتاوی شامی میں ہے:

"والحاصل أن المذهب عدم التعزير بأخذ المال."

(کتاب الحدود، باب التعزیر، ج: 4، ص: 62، ط: ایچ ایم سعید)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"وعند أبي يوسف - رحمه الله تعالى - يجوز التعزير للسلطان بأخذ المال وعندهما وباقي الأئمة الثلاثة لا يجوز كذا في فتح القدير. ومعنى التعزير بأخذ المال على القول به إمساك شيء من ماله عنده مدة لينزجر ثم يعيده الحاكم إليه لا أن يأخذه الحاكم لنفسه أو لبيت المال كما يتوهمه الظلمة إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي كذا في البحر الرائق."

(کتاب الحدود، باب التعزیر، ج: 2، ص: 167، ط: المطبعة الکبری ،مصر)

فتاوی شامی میں ہے:

"(فنفذ نكاح حرة مكلفة  بلا) رضا (ولي) والأصل أن كل من تصرف في ماله تصرف في نفسه وما لا فلا".

( کتاب النکاح، باب الولی،ج: 3، ص: 55، ط:  ایچ ایم سعید)

بدائع الصنائع  میں ہے:

"الحرة البالغة العاقلة إذا زوجت نفسها من رجل أو وكلت رجلاً بالتزويج فتزوجها أو زوجها فضولي فأجازت جاز في قول أبي حنيفة وزفر وأبي يوسف الأول سواء زوجت نفسها من كفء أو غير كفء بمهر وافر أو قاصر غير أنها إذا زوجت نفسها من غير كفء فللأولياء حق الاعتراض".

 (کتاب النکاح، فصل ولایة الندب والاستحباب فی النکاح، ج: 2، ص: 247، ط: ایچ ایم  سعید )

         فتاوی شامی میں ہے:

"ونظم العلامة الحموي ما تعتبر فيه الكفاءة فقال:

إن الكفاءة في النكاح تكون في ... ست لها بيت بديع قد ضبط

نسب وإسلام كذلك حرفة ... حرية وديانة مال فقط". 

( کتاب النکاح، باب الکفاءۃ، ج: 3، ص: 86، ط: ایچ ایم سعید)

فتح القدیرمیں ہے:

"لأن انتظام المصالح بين المتكافئين عادة، لأن الشريفة تأبى أن تكون مستفرشة للخسيس، فلا بد من اعتبارها، بخلاف جانبها؛ لأن الزوج مستفرش فلا تغيظه دناءة الفراش"

(کتاب النکاح، باب الأولیاء والأ کفاء، فصل فی الکفاءۃ، ج: 3، ص: 293، ط: دار الفکر)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"ثم المرأة إذا زوجت نفسها من غير كفء صح النكاح في ظاهر الرواية عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - وهو قول أبي يوسف - رحمه الله تعالى - آخراً، وقول محمد - رحمه الله تعالى - آخراً أيضاً، حتى أن قبل التفريق يثبت فيه حكم الطلاق والظهار والإيلاء والتوارث وغير ذلك، ولكن للأولياء حق الاعتراض ... وفي البزازية: ذكر برهان الأئمة أن الفتوى في جواز النكاح بكراً كانت أو ثيباً على قول الإمام الأعظم، وهذا إذا كان لها ولي، فإن لم يكن صح النكاح اتفاقاً، كذا في النهر الفائق. ولا يكون التفريق بذلك إلا عند القاضي أما بدون فسخ القاضي فلا ينفسخ النكاح بينهما". 

( کتاب النکاح، الباب الخامس فی الأ کفاء فی النکاح، ج: 3،ص: 292، ط: رشیدیة)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144702100471

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں