
میں آفس میں ملازمت کرتی ہوں، وہاں ہر طرح کے لوگ ہوتے ہیں ، میرے ساتھ ایک ہندو اور ایک عیسائی لڑکی بھی کام کرتی ہے، اور ہم سب کھانا ایک ساتھ کھاتے ہیں، تو وہ مجھے اپنے گھر کا کھانا کھانے کے لیے بولتی ہیں، تو کیا وہ کھانا ہمیں کھانا چاہیے یا نہیں؟
اور جو کھانا وہ باہر سے یا کینٹین سے لے کر آتی ہیں، تو وہ کھانا چاہیے یا نہیں؟ کیونکہ وہ بار بار مجھے کھانے کے لیے بولتی ہیں۔
غیر مسلم کے گھر کا کھانا کھانا جائز ہے بشرطیکہ کھانا حلال ہو،مگر اس کی عادت نہیں بنانی چاہیے، نیز ان کا بنایا ہوا کھانا بھی حلال ہے، بشرط یہ کہ ذبح کسی مسلمان نے کیا ہو اور کھانے میں کوئی حرام چیز شامل نہ ہو۔ اگر اہلِ کتاب نے ذبح کیا ہو تو ضروری ہے کہ ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لے کر ذبح کرے اور غیر اللہ کا نام نہ لے۔ اس کے علاوہ کسی غیر مسلم کا ذبیحہ حلال نہیں ہے۔
نیز وہ چیز یں جو وہ اپنے گھر کےعلاوہ باہر سے یا کنٹین سے خریدکر لاتی ہیں تو وہ چیزیں ان کے ساتھ بیٹھ کر کھاسکتی ہیں، مگر اس کی عادت نہیں بنانی چاہیے۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"ولا بأس بطعام اليهود والنصارى كله من الذبائح وغيرها ويستوي الجواب بين أن يكون اليهود والنصارى من أهل الحرب أو من غير أهل الحرب وكذا يستوي أن يكون اليهود والنصارى من بني إسرائيل أو من غيرهم كنصارى العرب ولا بأس بطعام المجوس كله إلا الذبيحة، فإن ذبيحتهم حرام ولم يذكر محمد - رحمه الله تعالى - الأكل مع المجوسي ومع غيره من أهل الشرك أنه هل يحل أم لا وحكي عن الحاكم الإمام عبد الرحمن الكاتب أنه إن ابتلي به المسلم مرة أو مرتين فلا بأس به وأما الدوام عليه فيكره كذا في المحيط."
(كتاب الكراهية، الباب الرابع عشر في أهل الذمة والأحكام التي تعود إليهم، ج:5، ص:347، ط: دار الفکر)
فتاوی بزازیہ میں ہے:
"والأكل مع الكفار لو ابتلى به المسلم لابأس لو مرة أو مرتين، أما الدوام عليه يكره."
(كتاب الكراهية، الفصل الثالث فيما يتعلق بالمناهي، ج:6، ص:359، ط: رشيديه)
فتاوی محمودیہ میں ہے:
"کفار و مشرکین کے ساتھ کھانا پینا
سوال [۸۵۸۰] : مشرکین سے ربط ضبط رکھنا، ان کے ساتھ کھانا پینا کیسا ہے؟ جبکہ اللہ تعالی فرقان حمید میں فرماتا ہے:وإنما المشركون نجس، فلا يقربوا المسجد الحرام بعد عامهم هذا (پ: ۱۰ ، سورۃ توبه ) (۱) ۔ اور دوسری جگہ ہے :يا أيها الرسل كلوا من الطبيبات واعملوا صالحاًب: ١٨، ع: ٤) (۲)۔مشرکین و کفار پاکی و ناپاکی سے بالکل بے خبر ہیں ، نہ طریق غسل سے واقف ، نہ پابندی اسلام سے۔
الجواب حامداً ومصلياً :
بلا ضرورت کفار سے ربط وضبط اور تعلقات رکھنا منع ہے:
يا أيها الذين امنوا لا تتخذوا الذين اتخذوا دينكم هزواً ولعباً، من الذين أوتوا الكتاب من قبلكم و الكفار أولياء) (۳)
ان کے ساتھ بلا ضرورت تو یہ کھانا کھانا مکروہ ہے، البتہ اگر عمر میں ایک دو مرتبہ کہیں ایسا ابتلا ہو جائے تو چنداں مضائقہ نہیں ، بشرطیکہ نا پا کی کاعلم نہ ہو، اگر معلوم ہو جائے کہ یہ کھانا پانی نا پاک ہے تو پھر اس کا کھانا پینا حرام ہے، مگر کافر کا ذبیحہ کسی صورت میں درست نہیں ، اس سے اجتناب ضروری ہے:
ولا بأس بطعام المجوس كله إلا الذبيحة، فإن ذبيحتهم حرام، ولم يذكر محمد رحمه الله تعالى الأكل مع المجوس ومع غيره من أهل الشرك أنه هل يحل أم لا، وحكى عن الحاكم الإمام عبد الرحمن الكاتب: إن ابتلى به المسلم مرة أو مرتين، فلا بأس، وأما الدوام عليه، فيكره، كذا في المحيط. العالمكيرية : ٢٧٧/٤(١)
اور و إنما المشركون نجس، فلا يقربوا المسجد الحرام بعد عامهم هذا(ب: ١٠ سورة توبہ)میں مشرکین کو نجس کہہ کر حج و عمرہ سے منع کیا گیا ہے (۲)۔ اور نجس کہنے کی وجہ اعتقادی نجاست ہے: " ونجاسة المشرك في اعتقاده هدایه : ١٣٥/٣ (٣)نیز ان کا پاکی ناپاکی میں تمیز نہ کرنا اور نجاست میں ملوث رہنا بھی نجس ہونے کا سبب ہے،کذافی التفسيرات الأحمديه، ص : ٤٥٥ (١) ، مدارك التنزيل ، ص : ٢٧٤ (٢)۔ فقط واللہ سبحانہ و تعالی اعلم ۔محمود گنگوہی ۵۵۳/۴/۱۴۰صحیح : عبد اللطیف ۵۳/۴/۲۴ھ۔
(كتاب الحظر والإباحة، باب الأكل والشرب، الفصل الأول في الأكل مع الكفار، ج:18، ص:31، ط:ادارۃ الفاروق کراچی)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144802102253
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن