بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 ربیع الاول 1448ھ 22 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

کیامسور کی دال کھانا سنت ہے؟ نیز''کماتدین تدان''کی تحقیق


سوال

(1)کیامسور کی دال کھانا سنت ہے ؟

(2)" کَما تَدِینُ تُدَانُ " یہ کوئی حدیث ہے؟ یا کوئی مقولہ ہے؟

جواب

(1) مسور کی دال کھانا جائز ہے، سنت نہیں ہے۔

(2)کماتدین تدان حدیث ہے ،یہ حدیث  مصنف عبدالرزاق اوردیگر کتب حدیث میں مذکورہے، حافظ ابن حجرعسقلانی نےفتح الباری میں اس حدیث کےروات کی توثیق فرمائی ہے۔ 

مصنف عبد الرزاق میں ہے:

"أخبرنا عبد الرزاق، عن معمر، عن أيوب، عن أبي قلابة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "البر لا يبلى، والإثم  لا ينسى، والديان لا يموت، فكن كما شئت ‌كما ‌تدين ‌تدان."

(كتاب الجامع،باب الاغتياب والشتم،ج:10،ص:231،ط:دار التأصيل)

فتح الباري میں ہے :

"ووقع في مرسل أبي قلابة البر لا يبلى والإثم لا ينسى والديان لا يموت وكن كما شئت ‌كما ‌تدين ‌تدان . ورجاله ثقات أخرجه البيهقي في الزهد."

(کتاب التوحید،ج:13،ص:458،ط:المكتبة السلفية - مصر)

الفتح الكبير للسیوطی میں ہے:

"كما ‌تدين ‌تدان(عد) عن ابن عمر."

(حرف الكاف،رقم:8815،ج:2،ص:312،ط:دار الفكر - لبنان)

شرح مسند أبي حنيفۃ میں ہے:

"عن أبي قلابة مرسلاً بلفظ: البر لا يبلى والذنب لا ينسى والديان لا يموت، اعمل ما شئت، ‌كما ‌تدين ‌تدان."

(ج:1،ص:194،ط:دار الكتب العلمية، بيروت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144611101047

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں