
میری طلاق ہو گئی ہے، میرے دو بچے ہیں، بیٹا 14 سال کا اور بیٹی 11 سال عمر کی ہے، طلاق سے پہلے بھی ہم الگ الگ کمرے میں سوتے تھے، اب میری سابقہ بیوی چاہتی ہیں کہ وہ بچوں کے لیے اسی گھر میں رہیں، بچوں کی پرورش کس کے پاس جانی چاہیے؟ کیا بیوی کا ابھی بھی میرے ساتھ ایک گھر میں رہنا ٹھیک ہے؟
واضح رہے کہ میاں بیوی کے درمیان طلاق کے بعد جب عدت گزر جاتی ہے،تو میاں بیوی ایک دوسرے کے لیے اجنبی بن جاتے ہیں،اس کے بعد دونوں کا ایک دوسرے سے تعلق رکھنا یا ایک ساتھ رہنا حرام ہے، نیز میاں بیوی کا طلاق کے بعد ایک گھر میں اس صورت میں رہنا جائز ہے، جب عورت مکمل پردہ کے ساتھ رہے، ان کے درمیان کسی قسم کے اختلاط کا اندیشہ نہ ہو، اور مطلقہ کے لیے اپنے سابقہ شوہر سے پردہ کرنا بھی لازم ہے،گھر میں وسعت نہ ہونے کی صورت میں یا دونوں میں سے کسی کے لیے اندیشہ فتنہ ہو یا گھر میں بڑے بچے نہ ہوں ، تو پھر اس طرح رہنے سے اجتناب ضروری ہے،نیز میاں بیوی کے درمیان جدائی کے بعد بچہ سات سال تک اور بچیاں نو سال کی عمر مکمل ہونے تک والدہ کی پرورش میں رہیں گی، اس کے بعد والد اگر اپنے بچوں کو لینا چاہیے تو شرعاً والد اس کا حق دار ہے۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل اپنی اہلیہ کو طلاق دینے کے بعد ایک دوسرے کے لیے اجنبی بن چکے ہیں، اب اس کے بعد ایک ساتھ رہنا یا محرم جیسا تعلق قائم کرنا حرام ہے،سائل اپنی سابقہ بیوی کو اس صورت میں گھر میں رکھ سکتا ہے، جب ان کے درمیان کسی قسم کا تعلق یا اختلاط کا اندیشہ نہ ہو اور سائل کی سابقہ بیوی بھی سائل سے مکمل پردہ کرے،اگر اختلاط کا اندیشہ ہو یا گھر میں اتنی وسعت نہ ہو جس سے پردہ قائم کیا جائے سکے، تو سائل کا اپنی بیوی کو اپنے گھر میں رکھنا جائز نہیں ہو گا ، بچوں کی پرورش کابھی شرعاً حق دار والد ہے، البتہ بچوں کو بالغ ہونے کے بعد اختیار ہو گا، چاہے تو باپ کے ساتھ رہے، چاہے تو ماں کے ساتھ، باقی جس کے ساتھ بھی رہے، دوسرے کا احترام کرنا اور اس کی خدمت کرنا ضروری ہے۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"أحق الناس بحضانة الصغير حال قيام النكاح أو بعد الفرقة الأم إلا أن تكون مرتدة أو فاجرة غير مأمونة كذا في الكافي. سواء لحقت المرتدة بدار الحرب أم لا، فإن تابت فهي أحق به كذا في البحر الرائق. وكذا لو كانت سارقة أو مغنية أو نائحة فلا حق لها هكذا في النهر الفائق. ولا تجبر عليها في الصحيح لاحتمال عجزها إلا أن يكون له ذو رحم محرم غيرها فحينئذ تجبر على حضانته كي لا يضيع بخلاف الأب حيث يجبر على أخذه إذا امتنع بعد الاستغناء عن الأم كذا في العيني شرح الكنز، وإن لم يكن له أم تستحق الحضانة بأن كانت غير أهل للحضانة أو متزوجة بغير محرم أو ماتت فأم الأم أولى من كل واحدة، وإن علت، فإن لم يكن للأم أم فأم الأب أولى ممن سواها، وإن علت كذا في فتح القدير....والأم والجدة أحق بالغلام حتى يستغني وقدر بسبع سنين وقال القدوري حتى يأكل وحده ويشرب وحده ويستنجي وحده وقدره أبو بكر الرازي بتسع سنين والفتوى على الأول والأم والجدة أحق بالجارية حتى تحيض وفي نوادر هشام عن محمد - رحمه الله تعالى - إذا بلغت حد الشهوة فالأب أحق وهذا صحيح هكذا في التبيين.
(كتاب الطلاق، الباب السادس عشر، ج: 1، ص: 541۔542، ط: دارالفکر)
مبسوط سرخسی میں ہے:
"ويكره له أن يستأجر امرأة حرة أو أمة يستخدمها ويخلو بها لقوله صلى الله عليه وسلم: لا يخلون رجل بامرأة ليس منها بسبيل فإن ثالثهما الشيطان، ولأنه لا يأمن من الفتنة على نفسه، أو عليها إذا خلا بها."
(کتاب الإجارات، باب إجارة الرقيق في الخدمة وغيرها، ج: 16، ص: 52، ط: دار المعرفة)
فتاوی ہنديہ میں ہے:
"إنه عندنا يحل لقيام ملك النكاح من كل وجه، وإنما يزول عند انقضاء العدة فيكون الحل قائما قبل انقضائها."
(كتاب الطلاق، الباب السادس، ج: 1، ص: 470، ط: دارالفکر)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144704100396
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن