بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا رمضان المبارک میں صبح کی نماز کے بعد سونا چاہئیے؟


سوال

کیا رمضان المبارک میں صبح کی نماز کے بعد سونا چاہیے؟

جواب

واضح رہے کہ فجر کی نماز کے بعد بغیر کسی عذر کے سونا  مکروہ ہے۔متعدد  احادیث مبارکہ  سے یہ بات ثابت  ہے کہ صبح کا وقت ذکرو اذکار  اور رزق کی تقسیم کا وقت ہے،اس وقت میں سونا رزق میں تنگی کا باعث ہوتا ہے۔لہٰذا رمضان اور غیر رمضان میں فجر کے بعد سونے کا معمول نہ بنانا چاہیئے۔البتہ کبھی کبھار  اگر کوئی عذر (مثلا تھکاوٹ ،بیماری یا بےخوابی وغیرہ)ہو تو پھر سونے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔

مستحب یہ ہے کہ صبح صادق(یعنی  فجر کی نماز کی ادائیگی کے بعد) سے لے کے اشراق  (سورج طلوع ہونے )تک آدمی ذکر واذکار  اور دعاؤں میں  مشغول رہے ۔

الآداب للبیہقی میں ہے:

"عن عبد الله بن عمرو قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " الغفلة في ثلاث: الغفلة عن ذكر الله عز وجل، والغفلة عن صلاة الغداة إلى طلوع الشمس، وغفلة الرجل عن نفسه في الدين ". وروي عن إسحاق بن أبي فروة، وهو ضعيف، بإسناد له مرفوعا: «‌الصبحة ‌تمنع ‌الرزق» ، والصبحة النوم عند الصباح. وروي في معناه من وجه آخر ضعيف، عن فاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم مرفوعا. ومشهور عن خوات بن جبير، وكان من الصحابة، أنه قال: «النوم في أول النهار خرق، وأوسطه خلق، وآخره حمق."

(الآداب للبیہقی، ج:1،ص :276،ط :مؤسسۃ الکتب الثقافیۃ)

مرقاةالمفاتيح میں ہے:

'' وعن انسؓ قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " «من صلى الفجر في جماعة، ثم قعد يذكر الله حتى تطلع الشمس، ثم صلى ركعتين - كانت له كأجر حجة وعمرة "، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " تامة تامة تامة» " رواه الترمذي. "

(کتاب الصلاة، باب الذکر بعد  الصلاة، ج: 2، ص:770،حدیث نمبر :970،971، ط:دار الفکر)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ويكره النوم في أول النهار وفيما بين المغرب والعشاء".

(کتاب الکراہیہ، باب المتفرقات، ج:5، ص:376، ط:دار الفکر)

وفیہ ایضاً:

"ولا یتکلم بعد الفجر إلى الصلاة إلا بخير، وقیل: بعدها أيضًا إلى طلوع الشمس."

(کتاب الکراہیہ،باب المتفرقات،ج:5،ص:380،ط:دارالفکر)

فقط واللہ اعلم

 


فتویٰ نمبر : 144709101296

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں