بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

جب بھی اس کام سے نفع آئے گا دس فیصد اللہ کے نام پر نکالوں گا کہنے کا حکم؟


سوال

  میں نے کچھ پیسے ایک کاروبار میں لگائے اور اس وقت نیت یہ کی کہ جب بھی نفع آئے گا میں اس کا دس فیصد حصہ اللہ کے نام پر نکالوں گا، البتہ میں نے دل میں یہ نیت کی تھی کہ اس نفع کو میں سید حضرات، مسجد وغیرہ کے کاموں میں خرچ کروں گا، اس بات کا زبان سے اظہار نہیں کیا، زبان سے میں نے یہ کہا کہ جب بھی اس کام سے نفع آئے گا دس فیصد اللہ کے نام پر نکالوں گا۔

کیا اس طرح کہنے سے یہ منت کے حکم میں ہوگا یا نہیں، اگر یہ منت ہے تو آیا اس رقم کو کیا نفلی صدقہ کے طور پر دیا جا سکتا ہے مسجد وغیرہ میں۔ کیا منت کو توڑ کر اس کا کفارہ ادا کرنے کے بعد یہ منت ختم ہو جائے گی۔

 

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل نے کاروبار شروع کرتے وقت اگریہ کہا  کہ" جب بھی اس کام سے نفع آئے گا دس فیصد اللہ کے نام پر نکالوں گا"  تو اس کی حیثیت صدقہ کی  نیت کی ہے اورصرف  صدقہ کی نیت کرنے سے صدقہ لازم نہیں ہوگا ،لہذا  اندازے سے صدقہ دیتے ہوئے اگر کمی بیشی ہوجائے تو اس پر گناہ نہیں ہوگا،باقی نیت کے مطابق کرنا زیادہ بہتر ہے،کیوں کہ اللہ تعالیٰ ہر آدمی کی نیت سے واقف ہے۔

اور چوں کہ نذر نہیں ہے اس لیےاس رقم کو ہر جگہ دیا جاسکتا ہے،اور اسی لیےادا نہ کرنے کی صورت میں  کفارہ کی بھی ضرورت نہیں ہے،تاہم  تنگ دستی میں اراد ہ کرنا اور خوش حالی میں اس سے مکرجانا مؤمن بندہ کی شان نہیں ہے

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع  میں ہے:

"فركن النذر هو الصيغة الدالة عليه وهو قوله: " لله عز شأنه علي كذا، أو علي كذا، أو هذا هدي، أو صدقة، أو مالي صدقة، أو ما أملك صدقة، ونحو ذلك".

(کتاب النذر، بیان رکن النذر وشرائطہ، ج:5، ص: 81،ط: دار الکتب العلمیة)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144704100046

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں