بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 محرم 1448ھ 21 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا نسوار حرام ہے؟


سوال

سوال :تمباکو اور اس کی مشتقات کے استعمال سے متعلق ہے، خصوصاً اُس مادّہ کے بارے میں جو مقامی طور پر ”نسوار“ کے نام سے معروف ہے۔ (یہ ایک پاؤڈر نما مادّہ ہوتا ہے جو تمباکو، مختلف کیمیکلز اور راکھ پر مشتمل ہوتا ہے اور اسے ہونٹ یا زبان کے نیچے رکھا جاتا ہے۔)

شرعی استدلال (بطورِ تجویز):
ہم جانتے ہیں کہ شریعتِ مطہرہ ہر اُس چیز سے منع کرتی ہے جو جان و مال کے لیے نقصان دہ ہو۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:"وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ" (البقرۃ:195)
اور فرمایا:"وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ" (الأعراف:157)

اسی طرح اس کا استعمال مال کا ضیاع بھی ہے اور اس سے بدبو پیدا ہوتی ہے جو دوسروں کو تکلیف دیتی ہے۔

سوال:توثیق شدہ طبّی تحقیقات کے مطابق "نسوار" (نسف) جو تمباکو اور کیمیکلز پر مشتمل ہوتا ہے، سرطان (کینسر)، دل کی بیماریوں اور دیگر مضر اثرات کا سبب بنتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ اس کے استعمال کاشرعی حکم کیا ہے؟  کیا یہ سگریٹ نوشی کے حکم یعنی حرمت یا کم از کم شدید کراہتِ تحریمی کے درجے میں داخل ہوتا ہے؟

جواب

 نسوار کا استعمال عام حالات میں مکروہ تنزیہی ہے، نہ توحرام ہے اور نہ ہی بالکل مباح، ایسا مباح بھی نہیں جیسے کھانا، پینا اور ایسا حرام بھی نہیں جیسے شراب وغیرہ،  البتہ نسوار منہ کےبدبو کا باعث ہونے کی وجہ سے ناپسندیدہ ہے،اگر اس سے جسم کو نقصان پہنچنایا نشہ ہونا یقینی ہو تو پھر اس کا استعمال کرنا جائز نہیں۔

فتاوی شامی میں ہے:

"فإنه لم يثبت إسكاره ولا تفتيره ولا إضراره، بل ثبت له منافع، فهو داخل تحت قاعدة الأصل في الأشياء الإباحة وأن فرض إضراره للبعض لا يلزم منه تحريمه على كل أحد."

(‌‌كتاب الأشربة، ج: 6، ص: 448، ط: سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وسئل بعض الفقهاء عن أكل الطين البخاري ونحوه قال لا بأس بذلك ما لم يضر وكراهية أكله لا للحرمة بل لتهييج الداء."

(كتاب الكراهية، الباب الحادي عشر، ج: 5، ص: 441، ط: دارالفکر)

فتاویٰ محمودیہ میں ہے:

”نسوار سے اگر نشہ ہوتا ہو تو وہ بھی ناجائز ہے، ورنہ مضائقہ نہیں“۔

(ج18، ط: 388، ط: ادارۃ الفاروق)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144705101769

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں