
تقریباً چار یا پانچ سال پہلے میں گاؤں میں لوگوں کو نماز کی دعوت دینے کے لیے جاتا تھا۔ اس وقت میرے پاس دینی علم بہت کم تھا، اس لیے مجھے اندیشہ ہے کہ مجھ سے گفتگو میں غلط الفاظ استعمال ہو گئے ہوں۔
ایک مرتبہ میں ایک شخص کو نماز کی دعوت دے رہا تھا۔ میں نے اس سے کہا: آپ اذان کی آواز سن کر بھی نماز پڑھنے نہیں جاتے، تو آپ یہ نماز کا انکار کرتے ہو۔ اس پر اس شخص نے کہا: "ہم انکار تو نہیں کرتے۔" تو میں نے جواب میں کہا: اذان کی آواز سن کر بھی نماز کے لیے نہ جانا بھی تو انکار ہی ہوا نا۔
یہ الفاظ میں نے اپنی کم علمی کی وجہ سے کہے تھے۔ ہرگز میرا مقصد اس شخص پر اذان یا نماز کے انکار کا الزام لگانا نہیں تھا۔ میں صرف اسے نماز کی ترغیب دینا چاہتا تھا، لیکن کم علمی کی وجہ سے مجھ سے یہ الفاظ ادا ہو گئے۔
اب میرا سوال یہ ہے کہ کیا میرے یہ الفاظ کفر پر مشتمل تھے؟ کیا ان الفاظ کی وجہ سے مجھ پر توبہ، تجدیدِ ایمان یا تجدیدِ نکاح لازم ہو جاتا ہے؟
صورتِ مسئولہ میں سائل کے الفاظ کفریہ نہیں تھے؛ لہٰذا تجدید ایمان اور تجدید نکاح کی ضرورت نہیں ہے۔
البتہ سائل کو آئندہ اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ دعوت دیتے ہوئے نرمی سے بات کرے اور پیار و محبت سے دعوت دے، سختی کے الفاظ استعمال کرنا، طعنہ دینا اور عیب جوئی کرتے ہوئے دعوت دینے سے اجتناب کرے، دعوت اس اسلوب پر دے جو حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا تھا، نیز منت سماجت بھی کرنی پڑے تو منت سماجت سے بھی گریز نہیں کرے۔
فتاوی شامی میں ہے:
’’(هي فرض عين على كل مكلف) ... (و يكفر جاحدها) لثبوتها بدليل قطعي (و تاركها عمدا مجانة) أي تكاسلا فاسق (يحبس حتى يصلي).
قال في الرد: ثم المكلف هو المسلم البالغ العاقل و لو أنثى أو عبدا.‘‘
(كتاب الصلاة، ج:1، ص: 351-352، ط: سعید)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
’’الصلاة فريضة محكمة لا يسع تركها و يكفر جاحدها، كذا في الخلاصة، ولايقتل تارك الصلاة عامدا غير منكر وجوبها بل يحبس حتى يحدث توبة.''
(كتاب الصلاة، ج: 1، ص: 50، ط: دار الفكر)
فقط و الله أعلم
فتویٰ نمبر : 144801101327
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن