بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا نماز میں سجدے کے دوران کہنیاں زمین پر رکھنی ہوتی ہیں یا نہیں؟


سوال

کیا نماز میں سجدے کے دوران کہنیاں زمین پر رکھنی ہوتی ہیں یا نہیں؟

جواب

مرد و عورت کے سجدہ کرنے کی ہیئت میں فرق ہے،  مرد سجدے میں بازو کو پہلو سے جدا رکھیں گے اور بازو زمین پر نہیں بچھائیں گے، جب کہ خواتین مرد کی طرح کھل کر سجدہ نہیں کریں گی، بلکہ اپنے پیٹ کو اپنی رانوں سے ملائیں گی، بازؤوں کو پہلو سے ملا کر رکھیں گی اور کہنیاں زمین پر بچھا دیں گی، مردوں کے لیے بلا عذر سجدہ میں بازو زمین پر بچھانا مکروہ ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(وافتراش) الرجل (ذراعيه) للنهي.

(قوله وافتراش الرجل ذراعيه إلخ) أي بسطهما في حالة السجود، وقيد بالرجل اتباعا للحديث المار آنفا ولأن المرأة تفترش. قال في البحر: قيل وإنما نهى عن ذلك لأنها صفة الكسلان والتهاون بحاله مع ما فيه من التشبه ‌بالسباع والكلاب. والظاهر أنها تحريمية للنهي المذكور من غير صارف."

(‌‌كتاب الصلاة، ‌‌باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، ج: 1، ص: 644، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144709101394

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں