بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

مدرس کی ایک یوم کی غیرحاضری پر پورے مہینے کی تنخواہ کاٹنے کا حکم


سوال

ميں ايك مدرسہ  كا معلم ہوں ،ہمارے مدرسہ كے مہتمم صاحب يہ قانون جاری  كرنا چاہتےہیں كہ مدرسہ كى چھٹى ختم ہونے كے بعد جس دن مدرسہ شروع ہوتا ہے اس دن اگر کوئی ملازم یا  استاذ، یا اور  کوئی اسٹاف بلا ضرورت مدرسہ میں حاضر نہ ہو تو اس کی اس ماہ کی پوری تنخواه یا نصف تنخواہ کاٹ دی جائے گی، مہتمم صاحب یہ  چاہتے ہیں    كہ سارے ملازمين وقت پر حاضر ہو جائیں اور مدرسہ كا انتظام ٹھيك رہے، تو اس پر بعض اساتذہ کا یہ اعتراض ہے کہ، يہ عقوبت  مالیہ ہے جو نا جائز ہے، بعض اساتذہ  نے يہ خيال پيش كيا كہ جتنے دن مدرسہ بند ہو  صرف اتنے دنوں كا وظيفہ كاٹ ديا جائے . اب ميں آپ حضرات کے نزدیک يہ جاننا چاہتا ہوں كہ مذكورہ صورتيں جائز ہیں يا نہيں ، اگر نہ ہو تو عقوبت كى اس جیسی اور کوئی صورت بتلا دی جائے ۔

جواب

واضح رہے کہ کسی بھی ادارے کے ملازمین کی حیثیت شرعاً اجیرِ خاص کی ہوتی ہے، کیونکہ وہ وقت کے پابند ہوتے ہیں، اور اجیرِ خاص ملازمت کے مقررہ وقت میں کام کرنے کے بدلے اجرت (تنخواہ) کا مستحق ہوتا ہے۔ اگر وہ مقررہ وقت میں حاضر نہ ہو یا تاخیر سے آئے، تو اس غیر حاضری یا تاخیر کے بقدر وہ تنخواہ کا مستحق نہیں ہوگا۔لہٰذا صورتِ مسئولہ میں کسی مدرس کی ایک دن کی غیر حاضری کے بدلے اس کی پوری یا نصف ماہ کی تنخواہ کاٹ لینا شرعاً جائز نہیں۔ تنخواہ میں کٹوتی صرف اسی قدر کی جا سکتی ہے جتنی مدت وہ غیر حاضر رہا ہو یا جتنی تاخیر ہوئی ہو۔

نیز مدرس اور مدرسے کی انتظامیہ کے درمیان عقدِ اجارہ کا معاملہ ہوتا ہے، اور عموما مدارس میں مدرسین کی تقرری و برخاستگی کے ضوابط بھی طے ہوتے ہیں۔ اس لیے اگر کسی مہتمم نے تقرری کے وقت ایسی شرط رکھی ہو جو مدرسے کے مدوّن ضابطے، یا اگر ضابطہ مدوّن نہ ہو تو عرف و رواج اور دیگر مدارس کے معمولات کے مطابق ہو، تو اس شرط کی رعایت کے ساتھ فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔البتہ سوال میں ذکر کردہ صورت، یعنی صرف ایک دن کی غیر حاضری پر پورے مہینے کی تنخواہ نہ دینا، نہ عرفاً درست ہے، نہ شرعاً۔

البتہ اگر مہتمم صاحب مدرسہ کے نظم و ضبط کو مؤثر بنانے اور اساتذہ کی حاضری کو بہتر رکھنے کے لیے یہ پالیسی اختیار کریں کہ مقررہ تنخواہ کے علاوہ کچھ رقم بطور انعام (بونس) رکھی جائے، اور یہ انعام صرف اُن اساتذہ کو دیا جائے جو پورے مہینے باقاعدگی سے حاضری دیں اور وقت کی مکمل پابندی کریں، جبکہ غیر حاضری یا تاخیر کرنے والے اساتذہ اس اضافی رقم سے محروم رہیں، تو یہ طرزِ عمل شرعاً بھی جائز ہے اور حکمت و مصلحت کے بھی عین مطابق ہے۔اس طریقے سے حاضری کا نظام بھی  درست ہوگا  اور شرعا کوئی ممنوع بھی لازم نہیں آئے گا۔

الدر المختار میں ہے:

والثاني) وهو الأجير (الخاص) ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل كمن استؤجر شهرا للخدمة أو) شهرا (لرعي الغنم).......وتحقيقه في الدرر وليس للخاص أن يعمل لغيره، ولو عمل نقص من أجرته بقدر ما عمل فتاوى النوازل

(کتاب الاجارہ،باب ضمان الاجیر،ج:6  ،ص:70  ،ط:سعید)

فتاوی شامی میں ہے:

"مطلب في التعزير بأخذ المال (قوله لا بأخذ مال في المذهب) قال في الفتح: وعن أبي يوسف يجوز التعزير للسلطان بأخذ المال. وعندهما وباقي الأئمة لا يجوز. اهـ. ومثله في المعراج، وظاهره أن ذلك رواية ضعيفة عن أبي يوسف. قال في الشرنبلالية: ولا يفتى بهذا لما فيه من تسليط الظلمة على أخذ مال الناس فيأكلونه اهـ ومثله في شرح الوهبانية عن ابن وهبان (قوله وفيه إلخ) أي في البحر، حيث قال: وأفاد في البزازية أن معنى التعزير بأخذ المال على القول به إمساك شيء من ماله عنه مدة لينزجر ثم يعيده الحاكم إليه، لا أن يأخذه الحاكم لنفسه أو لبيت المال كما يتوهمه الظلمة إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي.

وفي المجتبى لم يذكر كيفية الأخذ وأرى أن يأخذها فيمسكها، فإن أيس من توبته يصرفها إلى ما يرى. وفي شرح الآثار: ‌التعزير ‌بالمال ‌كان ‌في ‌ابتداء ‌الإسلام ثم نسخ."

(کتاب الحدود،باب التعزیر،ج:4  ،ص:61 ،ط:سعید)

النتف فی الفتاوی للسغدی میں ہے:

"فان وقعت على عمل معلوم فلاتجب الأجرة إلا بإتمام العمل إذا كان العمل مما لايصلح أوله إلا بآخره وإن كان يصلح أوله دون آخره فتجب الأجرة بمقدار ما عمل.
وإذا وقعت على وقت معلوم فتجب الأجرة بمضي الوقت إن هو استعمله أو لم يستعمله وبمقدار ما مضى من الوقت تجب الأجرة"

(کتاب الاجارہ،باب‌‌معلومية الوقت والعمل،ج:2 ،ص:559 ،ط:مؤسسۃ الرسالۃ)

فتاوی محمودیہ میں ہے:

"اگر ملازمت کے شرائط میں یہ ہے کہ بلا تحصیل رخصت غیر حاضری پر تنخواہ وضع ہوگی تو صورت مسئولہ میں تنخواہ وضع کی جائے گی۔ اگر شرائط میں کچھ مدت بلا تحصیل رخصت چھٹی پر رہنے اور حاضر نہ ہونے کی بھی موجود ہے تو اس مدت کی تنخواہ وضع نہ ہوگی۔ غرض  حسب شرائط عمل کیا جائے جب کہ وہ موافق شرع ہوں۔"

(باب ما یتعلق بالمدارس،الفصل الثالث فی وضائف المدرسین،ج:15، ص:535، ط: جامعہ فاروقیہ)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144610100287

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں