
ناجائز اولاد کو صدقہ یا پھر زکات دینا یا پھر اس سے شادی وغیرہ کرنا کیساہے ؟
1۔ صورتِ مسئولہ میں ولدالزنا( ناجائز اولاد) کو صدقہ دینا اور اگر زکوۃ کا مستحق ہو، تو اسے زکوۃ دینا جائز ہے۔
2۔ زنا سے پیدا ہونے والے لڑکے اور لڑکی کا نکاح کسی ثابت النسب شخص سے جائز ہے، بشرطیکہ موانع نکاح میں سے کوئی شرعی مانع نہ ہو ، البتہ ولد الزنا(زنا سے پیدا ہونے والا بچہ) ثابت النسب شخص کے لیے کفو(برابر کا ) نہیں ہے؛ لہذا اگر کسی ثابت النسب لڑکی کے اولیاء، ولد الزنا اس کے غیر ثابت النسب ہونے کی وجہ سےاپنی لڑکی کا نکاح نہ کرنا چاہیں، تو ان کو ایسا کرنے کا اختیار ہوگا ۔
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
"«و سئل شيخ الإسلام عن مجهول النسب: هل هو كفء لامرأة معروفة النسب؟ قال: لا، كذا في المحيط."
(كتاب النكاح، الباب الخامس في الأكفاء في النكاح، ج:1، ص:293، ط:دارالفكر۔بيروت)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"ولايدفع إلى أصله، وإن علا، وفرعه، وإن سفل كذا في الكافي."
(كاتب الزكاة، الفصل السابع، ج:1، ص: 188، ط: دار الفكر۔بيروت)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(قوله: وإلى من بينهما ولاد) أي بينه وبين المدفوع إليه؛ لأن منافع الأملاك بينهم متصلة فلايتحقق التمليك على الكمال هداية والولاد بالكسر مصدر ولدت المرأة ولادةً وولادًا مغرب أي أصله وإن علا كأبويه وأجداده وجداته من قبلهما وفرعه وإن سفل بفتح الفاء من باب طلب والضم خطأ؛ لأنه من السفالة وهي الخساسة مغرب كأولاد الأولاد."
(كتاب الزكاة، باب العشر، باب مصرف الزكاة والعشر، ج:2، ص:346، ط:دار الفکر۔بیروت)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144605101236
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن