
1۔ہم نے علماء سے یہ بات سنی ہے کہ جمعہ کے دن شادی کرنا سنت ہے اور مسجد میں کرنا سنت ہے، اگر کسی بڑے اجتماع میں کوئی شادی کرے ،تو کیا اس سے سنت ادا ہو جائے گی؟
2۔علماء کے قلم کی سیاہی شہید کے خون سے زیادہ پاک ہے۔ کیا یہ کوئی حدیث ہے؟
3۔امام ارسطا طالیس ،خوارزمی وہ لوگ اسلامی تعلیم کے ساتھ دنیا میں دنیاوی تعلیم سے بھی راستہ تھے ان کی زمانہ میں تعلیم کاکیا طریقہ تھا؟
1۔واضح رہے کہ نکاح کا اعلان وتشہیر ایک مستحب امر ہے ،چنانچہ بہتریہ ہے کہ نکاح کا انعقادبڑے مجمع میں کیا جائے ،جیسا کہ جمعہ کے دن مسجد میں ،تاکہ نکاح کی خوب تشہیر ہوسكے۔صورتِ مسئولہ میں جمعہ کے دن مسجد میں نکاح کا انعقاد مستحب ہے، جہاں تک سوال میں ذکرکردہ حدیث شریف کا تعلق ہے ،تو محدثینِ کرامؒ کی عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے مسجد میں نکاح کا حکم اس لیے دیا تاکہ اس کی تشہیر ہوجائے، چنانچہ اس صورت میں اس حدیث سے مسجد میں انعقادِ نکاح کے استحباب پر استدلال درست ہے ،جبکہ بعض عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ حدیث شریف میں مسجد میں نکاح کاحکم اس لیے ہے کہ مسجدچونکہ ایک بابرکت جگہ ہے اور نکاح ایک عبادت ہے،تو برکت کے حصول اور زیادت ثواب کے لیے اس کا انعقاد مسجد میں کیا جائے گا ۔
2۔سوال میں مذکورالفاظ کے ساتھ کوئی حدیث نہیں ملی، البتہ کنز العمال کی ایک حدیث میں علماء کی روشنائی کو شہیدوں کے خون سے وزنی کہا گیا ہے چنانچہ کنزالعمال میں ہے :
" يوزن يوم القيامة مداد العلماء ودم الشهداء فيرجح عليهم مداد العلماء على دم الشهداء."
(كتاب العلم من قسم الأقوال، الباب الأول، ج:10، ص:141، رقم الحديث:28714، ط:مؤسسة الرسالة)
ترجمہ:”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن علماء کی روشنائی( جس سے انہوں نے علم دین اور احکام دین لکھے ہیں) اور شہیدوں کے خون کو تو لا جائے گا تو علماء کی روشنائی کا وزن شہیدوں کے خون کے وزن سے بڑھ جائے گا۔“ (معارف القرآن جلد ۲ صفحہ ۵۲۳)
اسنادی حیثیت سے یہ حدیث ضعیف ہے،تاہم کثرت طرق کی وجہ سے اس حدیث کو تقویت ملتی ہے۔
چنانچہ علامہ عراقی نے احیاء العلوم کی تخریج میں لکھا ہے کہ :
"قال عليه السلام (يوزن يوم القيامة مداد العلماء ودم الشهداء)."
أخرجه ابن عبد البر من حديث أبي الدرداء بسند ضعيف. قاله العراقي: قلت وأخرجه الشيرازي في الألقاب من طريق أنس بزيادة (فيرجح مداد العلماء على دم الشهداء)."
(كتاب العلم، ج:1، ص:27، ط:دار العاصمة للنشر - الرياض)
کشف الخفاءمیں علامہ المناوی کے حوالہ سے لکھا ہے کہ اس کی اسانید ضعیف ہیں لیکن بعض کو دوسری بعض کی وجہ سے تقویت ہے :
کشف الخفاء میں ہے:
"يوزن يوم القيامة مداد العلماء ودم الشهداء؛ فيرجح مداد العلماء على دم الشهداء.
رواه الشيرازي عن أنس، ورواه الموهبي عن عمران بن الحصين، وأخرجه ابن عبد البر عن أبي الدرداء، وابن الجوزي في "العلل" عن النعمان بن بشير،قال المناوي: وأسانيده ضعيفة؛ لكن يقوي بعضها بعضًا؛ قاله في التمييز، وسكت عليه."
(حرف الياء التحتانية، ج:2، ص:496، ط:المكتبة العصرية)
3۔ اس سوال و جواب پر بظاہر کوئی اخروی فائدہ منحصر نہیں ،نہ ہی اس کا جاننا لازمی اور فرض ہے؛ لہذا سائل کو چاہیے کہ فتویٰ میں اس قسم کے سوالات پوچھنے سے گریز کرے۔
جامع ترمذی میں ہے:
"عن عائشة قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أعلنوا هذا النكاح واجعلوه في المساجد»، واضربوا عليه بالدفوف."
(كتاب النكاح، باب ما جاء في إعلان النكاح، ج:3 ص:398، دارالفكر۔بيروت)
مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"(وعن عائشة قالت: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: أعلنوا هذا النكاح) أي: بالبينة فالأمر للوجوب أو بالإظهار والإشتهار فالأمر للاستحباب كما في قوله (واجعلوه في المساجد) وهو إما لأنه أدعى إلى الإعلان أو لحصول بركة المكان وينبغي أن يراعى فيه أيضا فضيلة الزمان ليكون نورا على نور وسرورا على سرور، قال ابن الهمام: " يستحب مباشرة عقد النكاح في المسجد لكونه عبادة وكونه في يوم الجمعة " اه، وهو إما تفاؤلا للاجتماع أو توقع زيادة الثواب أو لأنه يحصل به كمال الإعلان."
(كتاب النكاح، باب إعلان النكاح والخطبة، ج:6، ص:312، ط:دار الفكر۔بيروت)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"ويندب إعلانه وتقديم خطبة وكونه في مسجد يوم جمعة بعاقد رشيد وشهود عدول."
(كتاب النكاح، ج:4، ص:66، ط:دار الفکر۔بیروت)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144603102770
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن