
کیا جھوٹ کی معافی ہے؟
شریعت مطہرہ میں جھوٹ کا شمار اکبر الکبائر (بڑے گناہوں ) میں ہوتا ہے ، ایک روایت میں آتا ہے ، کہ یقیناً جھوٹ فجور (نافرمانی/ گناہ) کی رہنمائی کرتا ہے اور فجور جہنم میں لے جاتی ہے اور آدمی جھوٹ بولتا رہتا ہے، تا آں کہ اللہ کے یہاں ” کذّاب“ (بہت زیادہ جھوٹ بولنے والا) لکھ دیا جاتا ہے، اسی طرح ایک روایت میں جھوٹ کو منافق کی نشانی قرار دیا گیا ہے ، لہذاانسان کو جھوٹ بولنے سے اجتناب کرنا چاہیے ، البتہ جھوٹ بولنے والا اگر صدق دل سے توبہ کرلے اور آئندہ جھوٹ نہ بولنے کا عزم کرے اور اب تک جو جھوٹ بولا ہے اس پر نادم ہو ، تو اللہ رب العزت سے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے اس گناہ کو معاف فرما دے گا، تاہم اگر جھوٹ بولنے کی وجہ سے حقوق العباد میں سے کسی کا حق ضائع ہوا ہو، تو محض اللہ کے حضور معافی مانگ لینا کافی نہیں ہوگا، بلکہ معافی کی قبولیت کے لیے صاحب حق سے معافی مانگنا اور اس کو اس کا حق دلانے کی ہر ممکن کوشش کرنا بھی ضروری ہوگا
صحیح مسلم میں ہے :
"حدثنا عبد الرحمن بن أبي بكرة، عن أبيه، قال: كنا عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: "ألا أنبئكم بأكبر الكبائر؟ (ثلاثا) الإشراك بالله. وعقوق الوالدين. وشهادة الزور، (أو قول الزور) " وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم متكئا فجلس. فما زال يكررها حتى قلنا: ليته سكت."
(كتاب الإيمان، باب بيان الكبائر وأكبرها، ج: 1، ص: 91، ط: دار إحياء التراث العربي)
وفیه ایضا:
"عن عبد الله، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: وإن الكذب يهدي إلى الفجور. وإن الفجور يهدي إلى النار. وإن الرجل ليكذب حتى يكتب كذابا."
(كتاب البر والصلة والآداب، باب قبح الكذب، وحسن الصدق وفضله، ج:4 ص:2012، ط: دار إحياء التراث العربي)
صحیح البخاری میں ہے :
"حدثنا نافع بن مالك بن أبي عامر أبو سهيل، عن أبيه، عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " آية المنافق ثلاث: إذا حدث كذب، وإذا وعد أخلف، وإذا اؤتمن خان."
(کتاب الإيمان، باب علامة المنافق، ج: 1 ص: 21، ط: دار ابن كثير)
روح المعانی میں ہے :
"وقال الإمام النووي: التوبة ما استجمعت ثلاثة أمور: أن يقلع عن المعصية وأن يندم على فعلها وأن يعزم عزما جازما على أن لا يعود إلى مثلها أبدا فإن كانت تتعلق بآدمي لزم رد الظلامة إلى صاحبها أو وارثه أو تحصيل البراءة منه، وركنها الأعظم الندم.وفي شرح المقاصد قالوا: إن كانت المعصية في خالص حق الله تعالى فقد يكفي الندم كما في ارتكاب الفرار من الزحف وترك الأمر بالمعروف، وقد تفتقر إلى أمر زائد كتسليم النفس للحد في الشرب وتسليم ما وجب في ترك الزكاة، ومثله في ترك الصلاة وإن تعلقت بحقوق العباد لزم مع الندم، والعزم إيصال حق العبد أو بدله إليه إن كان الذنب ظلما كما في الغصب والقتل العمد، ولزم إرشاده إن كان الذنب إضلالا له، والاعتذار إليه إن كان إيذاء كما في الغيبة إذا بلغته ولا يلزم تفصيل ما اغتابه به إلا إذا بلغه على وجه أفحش..... الخ".
(سورۃ التحریم، ج: 14، ص: 353، ط: دار الكتب العلمية)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704100639
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن