
میں الحمد للہ جامعہ(علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاون ) کا فاضل ہوں اور اب الحمدللہ اپنے علاقے میں درس و تدریس سے منسلک ہوں۔ میری، جامعہ سے بے حد عقیدت و محبت ہے اور مجھے فخر ہے کہ میں نے جامعہ میں پڑھا ہے الحمد للہ! اور جامعہ کے دارالافتاء کا جو موقف ہے اس پر ہمیشہ کے لیے قائم بھی رہوں گا۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا میں اپنے جامعہ کی طرف نسبت کرکے اپنے نام کے ساتھ بنوری لکھ سکتا ہوں یا نہیں؟ جس جامعہ میں میرا درس و تدریس کا مشغلہ ہے، وہاں میرے ہم نام تین بندے ہیں، ایک جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک کا فاضل ہے، یہاں کے اساتذہ کرام ان کے نام کے ساتھ حقانی کا اضافہ کرتے ہیں، ایک دار العلوم کا فاضل ہے، ان کے نام کے ساتھ ان کے والد صاحب کے نام کا اضافہ کرتے ہیں اور میرے نام کے ساتھ بنوری کا اضافہ کرتے ہیں، تو کیا یہ درست ہے؟
صورتِ مسئولہ میں جامعہ کی نسبت سے آپ کا اپنے نام کے ساتھ ’’بنوری‘‘ کی نسبت لگانا درست نہیں، کیونکہ یہ نسبت خاندانی اور قومی شناخت کی نسبت ہے، علمی نسبت نہیں ہے، نیز جامعہ کے فضلاء میں اپنے نام کے ساتھ ’’بنوری‘‘ کی نسبت لگانے کا کوئی تعامل بھی نہیں ہے، لہذا اگر آپ اپنے نام کے ساتھ بنوری کی نسبت لگائیں گے تو سننے والوں کو یہ مغالطہ ہوگا کہ آپ بنوری خاندان سے ہیں جوکہ حقیقت کے خلاف ہے، لہذا مذکورہ مدرسہ کے اساتذہ کا آپ کے نام کے ساتھ بنوری کی نسبت لگانا اور آپ کا اس پر راضی رہنا درست نہیں ہے، اگر مدرسے میں دو اور اساتذہ بھی آپ کے ہم نام ہیں اور فرق کرنے کے لیے کسی علامت یا نسبت کی ضرورت پڑتی ہے تو یا تو ولدیت کی وضاحت کے ساتھ نام لکھا اور پکارا جائے یا اپنے علاقے یا قوم کی نسبت کا اضافہ کیا جائے۔
قرآن کریم میں ہے:
"يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوباً وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا" (سورہ حجرات: 13)
ترجمہ: ”اے لوگو ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے اور تم کو مختلف خاندان بنایا ہے تاکہ ایک دوسرے کو شناخت کرسکو۔“ (بیان القرآن)
مرقاۃ المفاتیح میں ہے:
"(وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم (لا ترغبوا) : أي: لا تعرضوا (عن آبائكم) : أي: عن الانتماء إليهم (فمن رغب عن أبيه) : أي: وانتسب إلى غيره (فقد كفر) : أي قارب الكفر، أو يخشى عليه الكفر. في النهاية: الدعوة بالكسر في النسب، وهو أن ينتسب الإنسان إلى غير أبيه وعشيرته، وكانوا يفعلونه فنهوا عنه، والادعاء إلى غير الأب مع العلم به حرام، فمن اعتقد إباحته كفر لمخالفة الإجماع، ومن لم يعتقد إباحته فمعنى (كفر) : وجهان، أحدهما: أنه أشبه فعله فعل الكفار، والثاني: أنه كافر نعمة الإسلام. قال الطيبي: ومعنى قوله: فالجنة عليه حرام على الأول ظاهر، وعلى الثاني تغليظ (متفق عليه) . ولفظ ابن الهمام: " من ادعى أبا في الإسلام غير أبيه، وهو يعلم أنه غير أبيه، فالجنة عليه حرام ) : وأما لفظ الكتاب فمطابق لما في الجامع الصغير."
(كتاب النكاح، باب اللعان، ج:5، ص:2170، ط: دار الفکر)
ارشاد السالك الی حل الفیة ابن مالک میں ہے:
"معنى النسب: أن تضيف شيئاً إلى شيء فيصير منسوبا إليه، ثم قد يكون النسب إلى جنس كإنسي وعربي، وقد يكون إلى قبيلة كقرشي، وإلى أبٍ كهاشمي، وإلى أم كفاطمي، وإلى مكان كبصري وحجازي، وإلى صناعة كحريري، وإلى شيخ كأحمدي، وإلى زي كصوفي، وإلى اعتقاد كقدري، وغير ذلك مما تصح النسبة إليه."
(النسب، ج:2، ص:939، ط: أضواء السلف، الریاض)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144701101299
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن