
1۔ کیا ایام حیض میں نکاح ہو سکتا ہے؟
2۔ کیا نکاح سے پہلے وضو کرنا ضروری ہے؟ ہمارے یہاں ایسا ہوتا ہے کہ نکاح سے پہلے وضو کروایا جاتا ہے؟
1۔انعقاد نکاح کی شرائط میں دولہن کا حیض سے پاک ہونا نہیں ہے، لہذا اگر حالت حیض میں بھی دو گواہوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول کر لیا جائے، نکاح منعقد ہوجائے گا، البتہ ماہواری کے دنوں میں جماع (صحبت) کرنا حرام ہے۔
2۔ نکاح سے پہلے وضو کرانا شرعاً ضروری نہیں ہے،اس کے بغیر بھی نکاح ہوجاتا ہے، نکاح سے قبل وضوء کرانے کا التزام بدعت ہے، جس سے اجتناب لازم ہے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"وأما نحو الحيض والنفاس والإحرام والظهار قبل التكفير فهو مانع من حل الوطء لا من محلية العقد فافهم."
(كتاب النكاح، ج: 3، ص: 4، ط: سعید)
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح میں ہے:
"قال الطيبي: وفيه أن من أصر على أمر مندوب، وجعله عزما، ولم يعمل بالرخصة فقد أصاب منه الشيطان من الإضلال فكيف من أصر على بدعة أو منكر؟"
(كتاب الصلاة، باب الدعاء في التشهد، ج: 2، ص: 755، ط: دار الفكر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144707100086
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن