بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا ایام حیض میں نکاح ہو سکتا ہے؟/ کیا نکاح سے پہلے وضو کرنا ضروری ہے؟


سوال

1۔ کیا ایام حیض میں نکاح ہو سکتا ہے؟

2۔ کیا نکاح سے پہلے وضو کرنا ضروری ہے؟ ہمارے یہاں ایسا ہوتا ہے کہ نکاح سے پہلے وضو کروایا جاتا ہے؟

جواب

1۔انعقاد نکاح کی شرائط میں دولہن کا حیض سے پاک ہونا نہیں ہے، لہذا اگر  حالت حیض میں بھی دو گواہوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول کر لیا جائے، نکاح منعقد ہوجائے گا،  البتہ ماہواری  کے دنوں میں جماع (صحبت) کرنا حرام ہے۔

2۔ نکاح سے پہلے وضو کرانا شرعاً ضروری  نہیں ہے،اس کے بغیر بھی نکاح ہوجاتا ہے، نکاح سے قبل وضوء کرانے کا التزام بدعت ہے، جس سے اجتناب  لازم ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"وأما نحو الحيض ‌والنفاس والإحرام والظهار قبل التكفير فهو مانع من حل الوطء لا من محلية العقد فافهم."

(‌‌كتاب النكاح، ج: 3، ص: 4، ط: سعید)

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح  میں ہے:

"قال الطيبي: وفيه أن ‌من ‌أصر ‌على أمر مندوب، وجعله عزما، ولم يعمل بالرخصة فقد أصاب منه الشيطان من الإضلال فكيف من أصر على بدعة أو منكر؟"

(كتاب الصلاة، باب الدعاء في التشهد، ج: 2، ص: 755، ط: دار الفكر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144707100086

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں