بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 صفر 1448ھ 22 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

کتنے پیسے ملکیت میں ہونے کی وجہ سے قربانی واجب ہوتی ہے؟


سوال

آج کل قربانی کتنے پیسوں پر واجب ہو گی؟

میرے پاس چھبیس لاکھ روپے تھے، اس سے میں نے تجارت کے لیے کشمش خریدی، اب وہ مال پڑا ہوا ہے ، فروخت نہیں ہو رہا، اور  اس کے علاوہ میرے پاس عید کے دن تک کیش کی صورت میں پچاس ہزار روپے تک ہوں گے، تو کیا ایسی صورت میں  مجھ پر قربانی واجب ہو گی؟

جواب

 جس عاقل، بالغ، مقیم، مسلمان  مرد یا عورت کی ملکیت میں قربانی کے ایام میں قرض کی رقم منہا کرنے کے بعد ساڑھے سات تولہ سونا، یا ساڑھے باون تولہ چاندی، یا اس کی قیمت کے برابر رقم ہو،  یا تجارت کا سامان، یا ضرورت  اور استعمال سےزائد اتنا سامان  موجود ہو جس کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو، یا ان میں سے  بعض یا سب کا مجموعہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر  ہوتو ایسے مرد وعورت پر قربانی واجب ہے۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں جب سائل کی ملکیت میں پچاس ہزار نقد رقم کے ساتھ چھبیس لاکھ روپے کے برابر تجارتی سامان موجود ہے تو وہ شرعاً صاحب نصاب ہے،  جس کی وجہ سے سائل پر عید کے ایام میں قربانی کرنا واجب ہے۔ 

الفتاوى الهندیۃ میں ہے:

"وهي واجبة على الحر المسلم المالك لمقدار النصاب فاضلاً عن حوائجه الأصلية، كذا في الإختيار شرح المختار، ولايعتبر فيه وصف النماء، ويتعلق بهذا النصاب وجوب الأضحية، ووجوب نفقة الأقارب، هكذا في فتاوى قاضي خان."

(كتاب الزكاة، الباب الثامن في صدقة الفطر، ج:1، ص: 191، ط: دار الفكر بيروت)

فقط و الله أعلم


فتویٰ نمبر : 144711102152

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں