
ہماری کتاب اور اسٹیشنری کی ایک دکان ہے، کراچی سے 120 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے، آبادی تقریبا ایک لاکھ کے لگ بھگ ہے، ہم اپنی دکان میں پرائیویٹ انگلش میڈیم اسکولز کی کتابیں اور کاپیاں بھی رکھتے ہیں فی الحال ہم دو طریقے سے کام کر رہے ہیں:
1:علاقہ کیونکہ بہت چھوٹا ہے، اسکولز یونیفارمز کی صرف ایک دکان ہے،ا سٹیشنری کی پانچ یا چھ ہیں، اس لیے اسکول والے اپنی اور طلبہ کی آسانی کے لیے ہماری دکان سلیکٹ کر کے والدین کو بتا دیتے ہیں کہ اس دکان پر تمام سامان آپ کو مل جائے گا، دکاندار اس بات کا پابند ہے کہ تمام سامان اس کے پاس دستیاب ہو، اس کے بدلے وہ ہم سے کوئی کمیشن وغیرہ نہیں لیتے، جیسا کہ عام طور پر کراچی اور دوسرے بڑے شہروں میں رائج ہے، اس کے علاوہ اگر والدین کراچی یا کہیں اور سے کورس لینا چاہیں تو ان پر پابندی بھی نہیں ہے لیکن ظاہر بات ہے کہ دو تین کورس کے لیے کوئی کراچی نہیں جا سکتا؛ اس لیے 90 فیصد لوگ ہم سے ہی لیتے ہیں، ہم جو قیمت کتابوں پر لکھی ہوتی ہے وہی لیتے ہیں دو یا تین کورس لینے کی صورت میں ڈسکاؤنٹ بھی کرتے ہیں وہاں اسکول سے یہ معاہدہ ہے کہ چند طلبہ جن کواسکول والے مستحق سمجھتے ہیں اپنا ڈسکاؤنٹ کاٹ دیتے ہیں جس پر ہم 10 سے 20 فیصد ڈسکاؤنٹ دیتے ہیں۔
2:ہم براہ راست اسکول کو کتابیں سپلائی کرتے ہیں، آفاق پبلشرز لاہور کا ایک ادارہ ہے، جس کی پوری ڈسٹرکٹ کی ڈیلرشپ ہمارے پاس ہے، وہ ادارہ ہمیں 40 فیصد ڈسکاؤنٹ پر کتابیں دیتا ہےیعنی جس کتاب پر قیمت 100 روپے لکھی ہے، وہ ہمیں 60 روپے میں دیتا ہے، ہم وہ کتاب سکولز کو ادھار یا نقد 25 فیصد پر دیتے ہیں، یعنی سو والی کتاب انہیں 75 روپے میں دیتے ہیں، ہم کرایہ وغیرہ اور دیگر اخراجات ملا کرہمیں 10 فیصد اوراسکول کو 25 فیصد بچت ہو جاتی ہے۔
اس وقت ہم چار اسکولوں کی کتابیں اپنی دکان پر سیل کر رہے ہیں، جبکہ تین اسکولوں کو کتابیں ہم براہ راست سپلائی کر رہے ہیں، ان میں سے کچھ اسکول پہلے سے دوسری دکانوں سے معاہدہ کر چکے ہیں اور کچھ نے اوپن بھی رکھا تھا، لیکن اکثر سامان دستیاب نہیں ہوتا تھا اس لیے ایک دکان سے معاہدہ کیا جاتا ہے کہ وہ ہر چیز لازمی اپنے پاس رکھے، اب مسئلہ یہ ہے کہ دو اسکولز ہم سے کراچی اسٹائل کا معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، ان کا کہنا یہ ہے کہ اگر ہم اپنے اسکول میں کورس رکھتے ہیں تو والدین ادھار لے جاتے ہیں یا کوئی دوسرا مسئلہ بھی ہوتا ہے اور اگر وہ مکمل طور پر ہمیں دیتے ہیں تو کتابوں پر جو منافع ملتا ہے اس سے وہ محروم ہوتے ہیں اس لیے وہ درمیانی راستہ نکالنا چاہتے ہیں، عام طور پر دوسرے علاقوں میں تین طریقہ رائج ہیں:
3:اسکول ہر کورس کے مطابق سیل پر 10 یا 25 فیصد کمیشن لیتا ہے، کاپیوں پر کمیشن نہیں ہوتا، دو اسکولوں نے اپنے نام کی کاپیاں پرنٹ کروانے کا آڈر دیا ہے، باقی اسکول جو کاپیاں عام طور پر استعمال ہوتی ہیں وہی رکھتے ہیں، ہم اپنے کورس پر جو منافع ہوتا ہے اس منافع سے اس کو یہ کمیشن دیں گے، کتابوں اور کاپیوں پر اضافی رقم طلبہ سے نہیں مانگی جائے گی، طلباء اس بات کے بھی پابند نہیں ہوں گےمکمل کورس خریدیں ،وہ صرف کتابیں بھی خرید سکتے ہیں اور دو تین کتابیں بھی خرید سکتے ہیں۔
4:اسکول کی کتابوں پر جو خرچہ ہوتا ہے وہ اسکول کا مالک اور ہم آدھا آدھا مل کر کرتے ہیں، اخراجات نکال کر جو منافع ہوتا ہے آدھا آدھا تقسیم کرتے ہیں، کتابیں ہماری دکان پر ہی سیل ہوں گی، یعنی اگر ایک کورس 2ہزار کا ہےتو ہم دونوں ہزار ملا کر کتابیں منگوائیں گے،30فیصد منافع میں سے کرایہ وغیرہ نکال کر ہمیں تقریبا 600 روپے نفع دوہزار پرہو گا،یہ ہم آدھاآدھا تقسیم کر لیں گے۔
5:اسکول ہمیں کتابوں کا آرڈر دے گا، ہم یہ کتابیں 25 فیصد ڈسکاؤنٹ پر منگوا کر اسکول کے حوالے کر دیں گے، ادھار بھی ہو سکتا ہے اور نقدی بھی، اسکول مالک یہ کتابیں اٹھا کر لے جائے گا اور پھر کورس بنا کر دوبارہ ہماری دکان پر لے آئے گا، ہم فی کورس دو سو یا تین سو سروس چارجز کی مد میں سکول سے چارج کریں گے، کورس کی قیمت میں یہ سروس چارجز شامل نہیں ہیں، وہ سکول اپنے منافع سے دے گا،کاپیاں ہم اپنی شاپ سے دیں گے، لیکن اکثر والدین کورس کی رقم پوری نہیں دیتے وہ رقم بھی اسکول سے کاٹی جاتی ہے۔
معلوم یہ کرنا ہے کہ سابقہ دو طریقے غیر شرعی تو نہیں اور تینوں نئے طریقوں سے ہم کوئی اختیارکرنا چاہتے ہیں تو ان میں کوئی غیرشرعی تو نہیں؟
1:اسکول کی جانب سے فراہم کردہ ڈسکاؤنٹ کارڈ کی بنیاد پر طلبہ کو ڈسکاؤنٹ دینا جائز ہے، بشرط یہ کہ اسکول والے ڈسکاؤنٹ کارڈ جاری کرنے کے عوض طلبہ سے کچھ رقم پیشگی وصول نہ کرتے ہوں۔
2:دوکاندار کا اپنا منافع رکھ کر اسکول کو نقد یاادھار کتابیں فراہم کرنا جائز ہے، تاہم سودا کرتے وقت کتابوں کی قیمت اور ادائیگی کا وقت متعین کرنا ضروری ہوگا۔
3:بیان کردہ تیسرے طریقہ میں اگر اسکول 10 یا 15 فیصد کمیشن اس وجہ سے لیتا ہے کہ وہ والدین کو دکا ندار کے پاس کتابیں لینےبھیجتا ہےتو اس صورت میں اسکول کی حیثیت دلال کی ہوگی،لہذا جن بچوں کے والدین کو اسکول والے خود یا اپنے ملازم یا وکیل کے ذریعہ اس دکان تک لے جائیں گے، ان کا کمیشن لینا اسکول والوں کے لیے جائز ہوگا، اور جن بچوں کے والدین خود خریداری کے لیے آئے ہوں اسکول والوں نے خود دکان تک نہیں لایا ، تو ان کی خریداری پر اسکول والے کمیشن لینے کے شرعا حقدار نہیں ہوں گے۔
4:چوتھی صورت میں جب اسکول والے اور دکان دار رقم ملا کرکتابیں اور کاپیاں خریدتے ہیں تو اس مال میں یہ دونوں شریک ہوتے ہیں،پس اخراجات نکالنے کے بعد جو نفع ہو، اس میں حسب معاہدہ دونوں فریق شریک ہوں گے، یہ صورت جائز ہے۔
5:اس صورت میں جب اسکول والے اپنی رقم دےکر دکاندار سے کتابیں لیتے ہیں تو یہ معاملہ خریداری کا ہے جو کہ جائز ہے، پھر جب اسکول والے دکاندار کو اپنا مال بیچنے کا وکیل بناتے ہیں اور دکاندار دو سو یا تین سو ایک کورس پر اپنا کمیشن رکھ کر اسکول کا کورس بیچتا ہے تو یہ بھی جائز ہے، والدین اگر کورس کی پوری رقم ادا نہ کریں اور اسکول والے دکاندار سےابتداء میں ہی طے کرلیں کہ جو والدین رقم پوری ادا نہ کریں تو وہ آپ ہمارے پیسوں سے کاٹ کر کورس کی رقم پوری کریں تو یہ جائز ہوگا،ازخود ایسا کرنے کا دکاندار کو اختیار نہیں ہوگا
فتاوی شامی میں ہے:
"وأما الدلال فإن باع العين بنفسه بإذن ربها فأجرته على البائع وإن سعى بينهما وباع المالك بنفسه يعتبر العرف وتمامه في شرح الوهبانية.
(قوله: فأجرته على البائع) وليس له أخذ شيء من المشتري؛ لأنه هو العاقد حقيقة شرح الوهبانية وظاهره أنه لا يعتبر العرف هنا؛ لأنه لا وجه له. (قوله: يعتبر العرف) فتجب الدلالة على البائع أو المشتري أو عليهما بحسب العرف جامع الفصولين."
(كتاب البيوع، فروع فى البيع، ج: 4، ص: 560، ط: سعيد)
مجلة الحكام العدلية ميں هے:
"(المادة 1073) تقسيم حاصلات الأموال المشتركة في شركة الملك بين أصحابهم بنسبة حصصهم. فلذلك إذا شرط لأحد الشركاء حصة أكثر من حصته من لبن الحيوان المشترك أو نتاجه لا يصح."
(الكتاب العاشر: الشركات، الباب الأول في بيان شركة الملك، الفصل الثاني: في بيان كيفية التصرف في الأعيان المشتركة، ص: 206، ط: نور محمد)
در الحکام فی شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:
"(إذا شرطت الأجرة في الوكالة وأوفاها الوكيل استحق الأجرة، وإن لم تشترط ولم يكن الوكيل ممن يخدم بالأجرة كان متبرعا. فليس له أن يطالب بالأجرة) يستحق في الإجارة الصحيحة الأجرة المسمى. وفي الفاسدة أجر المثل ...لكن إذا لم يشترط في الوكالة أجرة ولم يكن الوكيل ممن يخدم بالأجرة كان متبرعا، وليس له أن يطلب أجرة. أما إذا كان ممن يخدم بالأجرة يأخذ أجر المثل ولو لم تشترط له أجرة".
(الکتاب الحادی عشر الوکالة، الباب الثالث، الفصل االاول، ج: 3ص: 573،ط: دارالجیل)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144707100855
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن