
ہم چار بھائی اور چار بہنیں ہیں،والد کا انتقال ہو گیا ہے،والدہ زندہ ہیں،والدہ نے مجھے اپنے آبائی گھر سے نکال دیا ہے،اور یہ کہہ رہی ہیں کہ تم اپنے بھائی کے ساتھ رہو،تمہارا تمہارے باپ کی میراث سے کوئی تعلق نہیں ،ہم تمہارے والد کی میراث سے تمہیں کچھ نہیں دیں گے۔
اب پوچھنا یہ ہےکہ میرا میرے والد کی میراث میں حق بنتا ہے کہ نہیں ،جب کہ میری والدہ مجھےمحروم رکھنا چاہتی ہیں،اور مجھے بلا وجہ آبائی گھر سے نکال کر بھائی کے گھر رکھوایا ہوا ہے،(جن کا رویہ میرے ساتھ اچھا نہیں ہے)،کیاوالدہ کا مجھے گھر سے بلا وجہ نکالنا شرعادرست ہے؟
صورت مسئولہ میں سائلہ کے آبائی گھر میں سائلہ کا بھی حق ہے ، سائلہ کی والدہ کا اس کو گھر سے نکال کر اس کے حق سے محروم کرنا سخت گناہ ہے ،شرعا ان پر لازم ہے کہ سائلہ کا جو حصہ اس آبائی گھر میں بنتا ہے ،وہ سائلہ کو ادا کریں یا جب تک اس کا حق و حصہ نہیں دیتے ، تب تک دیگر ورثاء کی طرح سائلہ کو بھی وہاں رہنے کا حق ہے ،اس کو نکالنایامحروم کرناآخرت کی پکڑ کا باعث ہو سکتا ہے۔
جیسا کہ قرآن کریم میں ہے:
(يُوصِيكُمُ ٱللَّهُ فِيٓ أَوۡلَٰدِكُمۡۖ لِلذَّكَرِ مِثۡلُ حَظِّ ٱلۡأُنثَيَيۡنِۚ )[النساء: 11]
"ترجمہ:اللہ تم کو حکم دیتا ہے تمہاری اولاد کے بارےمیں ،لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے حصہ کے برابر"
مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"عن سعيد بن زيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من أخذ شبراً من الأرض ظلماً؛ فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين."
’’ترجمہ :حضرت سعید بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص( کسی کی ) بالشت بھر زمین بھی از راہِ ظلم لے گا،قیامت کے دن ساتوں زمینوں میں سے اتنی ہی زمین اس کے گلے میں طوق کے طور پرڈالی جائے گی۔‘‘
(مشكاة المصابيح،کتاب البیوع، باب الغصب والعاریة، ج:1، ص:254، ط: قدیمی)
وفيها أیضاً:
"وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة. رواه ابن ماجه."
’’ترجمہ :حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے وارث کی میراث کاٹے گا،(یعنی اس کا حصہ نہیں دے گا) تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی جنت کی میراث کاٹ لے گا(یعنی اسے جنت سے محروم کردے گا)۔‘‘
(باب الوصایا، الفصل الثالث، ج:1، ص:266، ط: قدیمی)
سراجی میں ہے:
"وأما لبنات الصلب فأحوال ثلاث:النصف للواحدة.والثلثان للإثنىن فصاعدة.ومع الابن للذكر مثل حظ الأنثىىن ،وهو يعصبهن"
(فصل فی النساء، ص:32، ط:مکتبة البشری)
الدر المختار میں ہے:
"(ويصير عصبة بغيره البنات بالابن وبنات الابن بابن الابن) وإن سفلوا (والأخوات) لأبوين أو لأب (بأخيهن) فهن أربع ذوات النصف والثلثين يصرن عصبة بإخوتهن"
(کتاب الفرائض، فصل فی العصبات،ج:6، ص: 775، ط:ایچ ایم سعید)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144708102049
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن