بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کسی وارث کو دھوکہ دے کر دستخط لیے تو کیا اس سے اس کا اصل حق ساقط ہوجائے گا؟


سوال

میرے والد صاحب کا انتقال ہوگیا۔ ان کے انتقال کے بعد میراث کی تقسیم کا مسئلہ پیش آیا۔ ہمارے بھائیوں نے ہمیں (بہنوں کو) بتایا کہ والد صاحب کی طرف سے چار جریب زمین باقی ہے، اور مارکیٹ کی طرف کچھ زمین دکھا کر وہ تقسیم کردی، اور ہم سے اس بات پر دستخط لے لیے کہ ہم نے اپنا حق وصول کرلیا ہے۔ کچھ عرصہ بعد ہمیں معلوم ہوا کہ ہمارے بھائیوں نے ہم سے مزید زمین چھپائی تھی اور دھوکے سے کم مقدار ظاہر کی تھی۔ جب ہم نے دوبارہ مطالبہ کیا کہ ہمیں ہمارا پورا حق دیا جائے، تو بعض حضرات نے کہا کہ اب آپ کو دوبارہ دعویٰ کرنے کا حق نہیں ہے، کیونکہ آپ پہلے جو لے چکی تھیں اس کے وصولی کے دستخط دے چکی ہیں، لہٰذا اب دوبارہ دعویٰ معتبر نہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا شرعاً ہمیں دوبارہ دعویٰ کرنے کا حق حاصل ہے یا نہیں؟ اور کیا اس طرح دستخط کرنا (جبکہ پوری جائیداد ظاہر نہیں کی گئی تھی اور ہم سے خیانت کی گئی تھی) شرعاً معتبر ہے یا نہیں؟ براہ کرم قرآن و سنت اور فقہ کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔

جواب

واضح رہے کہ مورث کےانتقال کے بعد اس کی تمام تر متروکہ جائیداد میں سب ورثاءاپنے شرعی حصوں کے تناسب سے حقدار ہوتے ہیں۔ اگر کوئی وارث اپنے مقررہ شرعی حق سے زیادہ لے لے، یا کسی دوسرے وارث کو اس کے حق سے کم دے یا بالکل محروم کر دے، یا جان بوجھ کر میراث کو شرعی اصولوں کے خلاف تقسیم کرے، تو یہ سب شرعاً ناجائز اور سخت گناہ ہے۔ حدیث شریف میں آیا ہے:”جو شخص کسی کی ایک بالشت زمین ناحق دبا لے، قیامت کے دن وہ زمین سات زمینوں تک اس کے گلے میں طوق بنا کر ڈال دی جائے گی۔“

لہٰذا جس وارث کو اس کا پورا شرعی حصہ نہیں دیا گیا  ، اسے شرعاً اپنے مکمل حق کے مطالبے کا پورا اختیار حاصل ہے، اور دیگر ورثاء پر اس کا مکمل حصہ ادا کرنا لازم ہے۔

پس صورتِ مسئولہ میں اگر واقعی بھائیوں نے مرحوم والد کی پوری جائیداد (ترکہ) کو چھپا کر یا دھوکہ دے کر صرف کچھ زمینیں ظاہر کیں، اور انہی میں سے بہنوں کو حصہ دے کر ان سے اس بات پر دستخط لے لیے کہ انہوں نے اپنا پورا حق وصول کر لیا ہے، تو بھائیوں کا یہ طرزِ عمل شرعاً ناجائز اور ظلم  ہے۔ ان پر لازم ہے کہ وہ اس پر توبہ و استغفار کریں، اور باقی چھپائی گئی جائیداد میں سے بھی بہنوں کو ان کا مکمل شرعی حصہ ادا کریں۔

اور چونکہ بہنوں نے اپنے اصل حق سے کم مقدار کو مکمل حق سمجھ کر وصول کیا اور اسی غلط فہمی کی بنیاد پر دستخط کیے، اس لیے  اس دستخط کے باوجود ان کا حق ساقط نہیں ہوا۔ وہ   اپنے مکمل حصے کے مطالبے کی شرعاًحق دار ہیں۔

تفسیر روح المعانی میں ہے:

"وفي ختم آيات المواريث بهذه الآية إشارة إلى عظم أمر الميراث ولزوم الاحتياط والتحري وعدم الظلم فيه."

( ج:2، ص:443، ط:دار الكتب العلمية)

صحیح مسلم میں ہے:

عن سعيد بن زيد، قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول:" من أخذ شبرا من الأرض ظلما، فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين."

( باب تحريم الظلم والغصب وغيرها، رقم الحديث:1610، ج:3، ص:1231، ط:دار إحياء التراث العربي)

ترجمہ:” رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:جس شخص نے کسی کی زمین سے ظلماً ایک بالشت جگہ بھی لی اس کو قیامت کے دن سات زمینوں سے اس کا طوق پہنایا جائے گا۔“

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144708102025

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں