
میری عمر لگ بھگ 82 سال ہے۔ دیگر عوارض کے علاوہ شوگر بھی ہے۔اور مفلوج بھی ہوں ، نقاہت بہت زیادہ ہے۔ شام ہوتے ہی نڈھال اور بے بس ہو جاتا ہوں، مغرب کی نماز اداکرتے ہی بستر پر دراز ہوجاتا ہوں ۔ عشاء کی نماز رات کی آخری تہائی یعنی دو ڈھائی بجے پڑھتا ہوں . کیا شدید عذر کی وجہ سے بھی اس قدر تاخیر سے نماز عشاء پڑھنا مکروہ تحریمی ہوگی ۔بالفاظ دیگر عشاء کی نماز دو تہائی رات گزرنے کے بعد پڑھنا بہر صورت مکروہ تحریمی ہوتی ہے. یا بلا عذر ہو تو مکروہ تحریمی اور بعذر ہو تو کراہت نہیں ؟
واضح رہے کہ عشاء کی نماز میں تاخیر کرنا مستحب اور افضل ہے، بشرطیکہ یہ تاخیر رات کے پہلے تہائی حصے (غروبِ آفتاب سے صبحِ صادق کے درمیان کا وقت) یا زیادہ سے زیادہ نصف رات تک ہو , بلاوجہ آدھی رات کے بعد تک تاخیر کرنا مکروہ ہے، اس لیے آدھی رات سے پہلے عشاء کی نماز پڑھ لینی چاہیے؛ تاکہ کراہت نہ ہو۔ البتہ اگر کسی عذر کی وجہ سے عشاء کی نماز میں تاخیر ہوگئی اور طلوعِ فجر سے پہلے پہلے عشاء کی نماز پڑھ لی تو نماز ادا ہوگی، تاہم اگر تاخیر سے جماعت میں نمازیوں کو تکلیف ہو تو امام کے لیے اوّل وقت میں پڑھنا بہتر ہے۔
باقی اگر کوئی مصلی کسی عذر کی وجہ سے اکیلے (تنہا) گھر میں عشاء کی نماز تاخیر سے ادا کرے، تو اس کے لیے آدھی رات کے بعد نماز پڑھنے میں کراہت نہیں ہوگی، کیونکہ یہ کراہت جماعت کے ساتھ نماز کو آدھی رات سے مؤخر کرنے کی صورت میں آتی ہے، جس سے جماعت میں کمی واقع ہوتی ہے۔ البتہ اگر جماعت کے بغیر کسی عذر کی بنا پر نماز آدھی رات کے بعد ادا کی جائے، تو اس میں کراہت نہیں ہوگی۔
لہذاصورت مسئولہ میں سائل کےلیے بوجہ عذر کے آدھی رات یااس سے کچھ موخر کرکے نماز پڑھنے سے کراہت لازم نہیں آئے گی۔ان اسباب پر غور کرکے انہیں دور کریں جو باقاعدہ عشاء کی جماعت سے محروم کررہے ہیں،ترک جماعت دائماً بہتر نہیں ہے۔
فتاوی شامی میں ہے :
"(و) تأخير (عشاء إلى ثلث الليل) قيده في الخانية وغيرها بالشتاء، أما الصيف فيندب تعجيلها (فإن أخرها إلى ما زاد على النصف) كره لتقليل الجماعة، أما إليه فمباح."
(قوله: كره) أي تحريما كما يأتي تقييده في المتن أو تنزيها وهو الأظهر كما نذكره عن الحلية.(قوله: لتقليل الجماعة) يفيد أن المصلي في بيته يؤخرها لعدم الجماعة في حقه، تأمل رملي: أي لو أخرها لا يكره.(قوله: أما إليه فمباح) أي أما تأخيرها إلى النصف فمباح لتعارض دليل الندب وهو قطع السمر المنهي، ودليل الكراهة وهو تقليل الجماعة فثبتت الإباحة كما أفاده في الهداية وغيرها."
(كتاب الصلاة،ج:1،ص:367۔368،ط:دارالفکر)
فتح القدیر میں ہے:
"قال (وتأخير العشاء إلى ما قبل ثلث الليل)لقوله عليه الصلاة والسلام «لولا أن أشق على أمتي لأخرت العشاء إلى ثلث الليل» ولأن فيه قطع السمر المنهي عنه بعده، وقيل في الصيف تعجل كي لا تتقلل الجماعة،والتأخير إلى نصف الليل مباح لأن دليل الكراهة وهو تقليل الجماعة عارضه دليل الندب وهو قطع السمر بواحدة فتثبت الإباحة وإلى النصف الأخير مكروه لما فيه من تقليل الجماعة وقد انقطع السمر قبله."
(قوله فتثبت الإباحة)فيه نظر لأن المعنى أن التأخير إلى نصف الليل ملزوم لأمرين مكروه وهو تقليل الجماعة.ومندوب وهو قطع السمر.وإذا لزم من تحصيل المندوب كقطع السمر ارتكاب مكروه ترك على ما عرف في مسائل، فينبغي كون التأخير إلى النصف مطلوب الترك فلا يكون مباحا، لأنه لا ترجيح في أحد طرفي المباح، والله الموفق."
(کتاب الصلوۃ , باب المواقیت ،ج:1، ص: 228۔230، ط: دار الفكر، بيروت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144801101166
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن